وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز کہا کہ پاکستان ایران کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
اسلام آباد میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حصول کے حق کے ساتھ کھڑا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک کی جانب سے نئی چھان بین جاری ہے، اور یہ معاملہ ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے ایران کی متعدد جوہری تنصیبات پر حملے کیے ہیں، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
دریں اثنا، تہران اور یورپی طاقتوں — فرانس، جرمنی اور برطانیہ — کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں، جن کا مقصد اگست کے اختتام تک کسی معاہدے پر پہنچنا ہے۔
یہ بات چیت دو ٹوک قرار دی جا رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات ایران کے جوہری مقامات کے دوبارہ معائنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ یہ کوششیں 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کا حصہ ہیں، جس سے امریکہ نے 2018 میں اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
اس معاہدے کے تحت ایران کو اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔ چین اور روس اب بھی معاہدے کے فریق ہیں۔
ادھر، 18 اکتوبر کی ایک اہم ڈیڈلائن بھی قریب آ رہی ہے۔ اگر اقوامِ متحدہ کی ”اسنیپ بیک“ پابندیاں ستمبر کے وسط تک دوبارہ نافذ نہ کی گئیں، تو تمام باقی ماندہ اقوام متحدہ کی پابندیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی — جس کے بعد ایران کے بینکاری، دفاعی، اور توانائی کے شعبے دوبارہ عالمی معیشت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.