BR100 Increased By (0.82%)
BR30 Increased By (1.08%)
KSE100 Increased By (0.77%)
KSE30 Increased By (0.82%)
BAFL 57.88 Increased By ▲ 1.45 (2.57%)
BIPL 23.44 Increased By ▲ 0.13 (0.56%)
BOP 28.65 Increased By ▲ 1.14 (4.14%)
CNERGY 12.80 Increased By ▲ 0.08 (0.63%)
DFML 15.95 Increased By ▲ 0.07 (0.44%)
DGKC 184.63 Increased By ▲ 1.33 (0.73%)
FABL 91.19 Increased By ▲ 0.49 (0.54%)
FCCL 52.83 Increased By ▲ 0.21 (0.4%)
FFL 12.94 Decreased By ▼ -0.03 (-0.23%)
GGL 20.08 Increased By ▲ 0.42 (2.14%)
HBL 287.66 Increased By ▲ 3.04 (1.07%)
HUBC 193.18 Increased By ▲ 4.56 (2.42%)
HUMNL 8.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
KEL 5.83 Increased By ▲ 0.03 (0.52%)
LOTCHEM 24.13 Increased By ▲ 1.20 (5.23%)
MLCF 91.38 Increased By ▲ 0.97 (1.07%)
OGDC 303.68 Increased By ▲ 1.22 (0.4%)
PAEL 32.82 Increased By ▲ 0.07 (0.21%)
PIBTL 13.03 Decreased By ▼ -0.18 (-1.36%)
PIOC 235.49 Increased By ▲ 1.99 (0.85%)
PPL 215.08 Decreased By ▼ -0.19 (-0.09%)
PRL 94.16 Decreased By ▼ -1.93 (-2.01%)
SNGP 89.66 Decreased By ▼ -0.54 (-0.6%)
SSGC 22.94 Increased By ▲ 0.22 (0.97%)
TELE 6.81 Increased By ▲ 0.10 (1.49%)
TPLP 12.44 Increased By ▲ 0.92 (7.99%)
TRG 53.62 Decreased By ▼ -1.09 (-1.99%)
UNITY 7.72 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.02 (-2.08%)

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) کے مطابق سندھ میں تیل کے نئے ذخائر کی دریافت ہوئے ہیں۔

او جی ڈی سی ایل نے سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار میں واقع تحقیقی کنویں چاکر-ون سے تیل کی کامیاب دریافت کی ہے۔

کمپنی نے اس دریافت کا اعلان پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ ایک نوٹس کے ذریعے کیا۔

نوٹس کے مطابق یہ دریافت او جی ڈی سی ایل نے اپنے شراکت دار گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے ساتھ مشترکہ طور پر کی، جس کا اس منصوبے میں 5 فیصد کیریڈ انٹرسٹ ہے۔

چاکر-ون کو 2 جون 2025 کو ٹنڈو الہ یار ایکسپلوریشن لائسنس کے تحت بطور تحقیقی کنواں کھودا گیا اور اسے لوئر گورو فارمیشن کی اپر شیل تک 1,926 میٹر کی گہرائی تک ڈرل کیا گیا۔

او جی ڈی سی ایل کے مطابق وائر لائن لاگز اور ریزروائر ایویلیوایشن سروسز لاگ کی بنیاد پر بی-سینڈ میں ڈرل اسٹیم ٹیسٹ کیا گیا جس کے بعد الیکٹریکل سبمرسیبل پمپ کے ذریعے مزید جانچ کی گئی۔

ٹیسٹنگ کے نتائج کے مطابق، کنواں 32/64 انچ چوک پر یومیہ 275 بیرل تیل کی پیداوار دے رہا ہے جبکہ ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر (WHFP) 400 پی ایس آئی ریکارڈ کیا گیا۔

مزید یہ کہ فارمیشن ٹیسٹنگ کے دوران لوئر رانی کوٹ فارمیشن میں بھی تیل کی موجودگی نوٹ کی گئی جس کی ہائیڈروکاربن صلاحیت کو جانچنے کے لیے اب دوسرا DST/ESP کیا جا رہا ہے۔

لسٹڈ کمپنی کے مطابق یہ دریافت ٹنڈو الہ یار ایکسپلوریشن لائسنس کے تحت کی جانے والی 13ویں دریافت ہے، جو بلاک میں ہائیڈروکاربن ذخائر کی تلاش میں جاری مشترکہ کوششوں کا ثبوت ہے۔

اب تک کے نتائج علاقے کی ارضیاتی استعداد پر اعتماد کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور اس کے وسائل کی واضح تشخیص کے لیے جاری ایکسپلوریشن اور اپریزل سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

اس سے قبل 12 جون کو او جی ڈی سی ایل نے اپنے شراکت دار جی ایچ پی ایل کے ساتھ سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع تحقیقی کنویں ”فاقر-1“ سے قدرتی گیس اور گیس کے ذخائر دریافت کیے تھے۔

گزشتہ سال بھی او جی ڈی سی ایل نے سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع شاہو-1 کنویں سے قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کیے تھے۔

Comments

Comments are closed.