پاکستان امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ طے، واشنگٹن اسلام آباد کے وسیع تیل کے ذخائر کی ترقی میں معاونت کریگا
- کون جانے، شاید ایک دن پاکستان بھارت کو تیل بیچ رہا ہوگا!، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی میں تعاون کرے گا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہم نے ابھی پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ مکمل کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکہ مل کر اُن کے بڑے پیمانے پر موجود تیل کے ذخائر کو ترقی دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس وقت اس آئل کمپنی کے انتخاب کے عمل میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔ کون جانے، شاید ایک دن وہ بھارت کو بھی تیل بیچ رہے ہوں!
ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ امریکہ اور پاکستان ایک تجارتی معاہدے کے انتہائی قریب ہیں جو ممکنہ طور پر چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔ یہ بیان انہوں نے جمعہ کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں واشنگٹن نے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کی کوشش کی جنہیں وہ یکطرفہ قرار دیتے ہوئے ان پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دیتے رہے ہیں۔ تاہم، بہت سے ماہرینِ معیشت ٹرمپ کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔
امریکی محکمہ خارجہ اور پاکستانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے علیحدہ بیانات میں کہا کہ دونوں اعلیٰ سفارت کاروں نے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور اہم معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا تھاکہ ہماری ٹیمیں واشنگٹن میں موجود رہی ہیں، ورچوئل ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں، اور وزیر اعظم نے ایک کمیٹی کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ اب ان معاملات کو حتمی شکل دے۔


Comments
Comments are closed.