بلند شرحِ سود اور بدترین مہنگائی معاشی سرگرمیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، زبیرگھانگرہ
حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین زبیرگھانگرہ نے موجودہ 11 فیصد پالیسی ریٹ کو ملکی معیشت کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلند شرحِ سود بدترین مہنگائی، صنعتی سست روی اور جمود کا شکار کاروباری ماحول میں معاشی سرگرمیوں کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ یہ پالیسی ریٹ قومی ترقی کی رفتار مفلوج کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومتِ پاکستان خود کمرشل بینکوں سے بھاری رقوم ادھار لے رہی ہے اور صرف سود کی مد میں کھربوں روپے سالانہ ادا کر رہی ہے۔ یہ بھاری مالی بوجھ اگر کم ہو تو صنعتی ترقی، معاشی اصلاحات اور تاجروں و چھوٹے کاروباروں کے لیے مالی معاونت پر استعمال کیا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ تک کم کیا جائے تو کھربوں روپے کی سالانہ بچت ممکن ہے جو اہم معاشی منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک سود کی شرح حقیقت پسندانہ اور اعتدال پر مبنی سطح تک نہیں لائی جاتی، کاروباری اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ سرمایہ کار اور صنعتکار مہنگی فنانسنگ کے باعث قرض لینے سے گریزاں ہیں، جس سے معیشت جمود کا شکار اور روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔’’
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک جیسے بنگلہ دیش، بھارت اور ویتنام اپنی معیشت کو فعال رکھنے کے لیے شرح سود سنگل ڈیجٹ میں رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کو بھی مسابقت قائم رکھنے اور صنعتوں کو بچانے کے لیے یہی حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔
انہوں نے اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ شرحِ سود فوری طور پر سنگل ڈیجٹ پر لائی جائے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور عوام کو ریلیف مل سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.