اسٹاک ہوم میں پیر کے روز دنیا کی دو بڑی معیشتوں، امریکہ اور چین، کے اعلیٰ اقتصادی حکام کے درمیان پانچ گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات ہوئے جن کا مقصد برسوں سے جاری تجارتی تنازعات حل کرنا اور تین ماہ کے لیے تجارتی جنگ بندی میں توسیع کرنا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چینی نائب وزیرِ اعظم ہی لی فینگ نے سویڈش وزیراعظم کے دفتر روزنباد میں ملاقات کی۔ یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب چین کو 12 اگست تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ پائیدار ٹیرف معاہدہ کرنے کی ڈیڈ لائن کا سامنا ہے۔ مئی اور جون میں دونوں ممالک نے ابتدائی معاہدے کیے تھے تاکہ جوابی ٹیرف کے حالیہ سلسلے اور ریئر ارتھ معدنیات کی فراہمی میں تعطل ختم کیا جا سکے۔
مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی اور بات چیت منگل کو دوبارہ شروع ہوگی۔ ٹرمپ نے اسکاٹ لینڈ میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہاکہ میں چاہوں گا کہ چین اپنی معیشت کھولے۔
اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکی ٹیرف دوبارہ تین ہندسوں تک بڑھنے سے عالمی سپلائی چین میں شدید خلل پڑ سکتا ہے، جو عملی طور پر دو طرفہ تجارتی پابندی کے مترادف ہوگا۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے توقع ظاہر کی کہ کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوگا بلکہ اب تک کے معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی اور اہم معدنیات کے بہاؤ کو یقینی بنانے پر توجہ ہوگی۔
ماہرین کے مطابق مئی میں طے پانے والی 90 دن کی تجارتی جنگ بندی میں توسیع کا امکان ہے، جو اکتوبر کے آخر یا نومبر کے اوائل میں ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات کی راہ ہموار کرے گی۔ ادھر واشنگٹن میں سینیٹرز چین کے خلاف انسانی حقوق اور سکیورٹی کے مسائل پر نئے بل لانے کی تیاری کر رہے ہیں جو مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔


Comments
Comments are closed.