ایلون مسک کی اسٹارلنک نیٹ ورک کو عالمی سطح پر غیر معمولی بندش کا سامنا
- امریکا اور یورپ میں صارفین کو سہ پہر 3 بجے کے قریب سروس میں تعطل کا سامنا ہونا شروع ہوا۔
اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک جمعرات کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بین الاقوامی خلل کا شکار ہوئی جب ایک اندرونی سافٹ ویئر ناکامی کے باعث دسیوں ہزار صارفین کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
آؤٹج مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے (1900 جی ایم ٹی) شروع ہوا، جب ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق امریکہ اور یورپ کے صارفین نے سروس بند ہونے کی شکایات درج کروائیں، جو ایک موقع پر 61,000 رپورٹس تک پہنچ گئیں۔ اسٹارلنک، جو تقریباً 140 ممالک میں 6 ملین سے زائد صارفین کو سروس فراہم کرتی ہے، نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اعتراف کیا کہ مسئلہ پیدا ہوا ہے اور کہا ’’ہم فعال طور پر حل پر کام کر رہے ہیں۔‘‘
تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد سروس بحال ہوئی، اسٹارلنک انجینئرنگ کے نائب صدر مائیکل نیکولز نے ایکس پر وضاحت دی کہ ’’یہ رکاوٹ بنیادی نیٹ ورک کو چلانے والی اہم اندرونی سافٹ ویئر سروسز کی ناکامی کی وجہ سے ہوئی‘‘۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وجوہات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے بھی صارفین سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’’ہم بنیادی وجہ کا تدارک کریں گے تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔‘‘
ماہرین کے مطابق اسٹارلنک کے لیے اس نوعیت کا وسیع پیمانے پر آؤٹج غیرمعمولی ہے۔ کینٹک کے انٹرنیٹ تجزیہ کار ڈوگ میڈوری نے کہا کہ یہ غالباً اسٹارلنک کی اب تک کی سب سے طویل عالمی بندش ہے۔
کمپنی نیٹ ورک کی رفتار اور بینڈوڈتھ بڑھانے کے لیے مسلسل اپ گریڈ کر رہی ہے اور ٹی موبائل کے اشتراک سے بڑے اور طاقتور سیٹلائٹس لانچ کر رہی ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں براہ راست موبائل ٹیکسٹ میسجنگ سروس فراہم کی جا سکے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مسئلہ ممکنہ طور پر خراب سافٹ ویئر اپ ڈیٹ یا کسی سائبر حملے کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ گزشتہ سال کراؤڈ اسٹرائیک کی اپ ڈیٹ سے پیش آیا تھا جس نے دنیا بھر میں نظام متاثر کیا تھا۔


Comments
Comments are closed.