سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کا سفارتخانہ چین میں آئندہ ماہ کے آخر تک بیجنگ میں پاکستانی اور چینی کاروباری شخصیات کے درمیان ایک ”میچ میکنگ“ تقریب منعقد کرے گا۔
کمرشل قونصلر غلام قادر نے اتوار کو بتایا کہ “ہم توقع کر رہے ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہان کی آئندہ میٹنگ کے موقع پر 100 سے 150 پاکستانی بزنس لیڈرز یا کمپنیوں کے نمائندے چین کا دورہ کریں گے۔ ان کے لیے تقریباً 300 چینی کمپنیوں کے ساتھ میچ میکنگ سیشنز کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملاقاتیں پہلے سے طے کی جائیں گی تاکہ شرکا پہلے سے ایک دوسرے سے واقف ہو سکیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تقریب کے دن پہلی بار ملنے کے بجائے، ہم ابتدائی روابط اور تیاری کے ذریعے مؤثر تعلقات قائم کرنے میں سہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
اس اقدام کی نگرانی کے لیے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات احسن اقبال کی سربراہی میں ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کنوینر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان شریک کنوینر ہیں۔
غلام قادر نے اس تقریب کے نتائج پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اہم اور دیرپا فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاری اور دو طرفہ تجارت بڑھانے کے لیے سات ترجیحی شعبے اجاگر کیے: الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز) اور بیٹری اسٹوریج، سولر پینل مینوفیکچرنگ، اسٹیل، کاپر، خوراک و زراعت، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور کیمیکلز/پیٹروکیمیکلز۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکل کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے سالانہ اربوں ڈالر کے ایندھن درآمدی بل میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ حکومت نے نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کرائی ہے اور بی وائی ڈی، جیلی اورچیری جیسی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی خواہاں ہے۔ بیٹری پروڈکشن اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہر سال 2 ارب ڈالر سے زیادہ سولر پینلز درآمد کرتا ہے، اور مقامی پیداوار سے درآمدات میں کمی اور روزگار میں اضافہ ہو گا۔
اسی طرح، حکومت گرین اسٹیل ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسٹیل ای وی، تعمیرات اور دیگر کلیدی صنعتوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اس صنعت کے قیام کے لیے وسیع زمین اور مقامی طلب فراہم کرتا ہے۔
فی الحال پاکستان 1 ارب ڈالر مالیت کا خام تانبہ برآمد کرتا ہے، جسے مقامی طور پر پروسیس اور ریفائن کر کے 4–5 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے چینی کمپنیوں کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔
خوراک و زراعت کے شعبے کو معاشی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت فصلوں کی پیداوار، مویشیوں کے معیار اور فوڈ پروسیسنگ میں بہتری پر توجہ دے رہی ہے تاکہ اضافی زرعی مصنوعات چین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے برآمد کی جا سکیں۔
آئی سی ٹی میں پاکستان کے پاس ماہر اور کم لاگت افرادی قوت موجود ہے جبکہ چین ایک بڑی مارکیٹ فراہم کرتا ہے۔ پیٹروکیمیکل سیکٹر میں بھی مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سات شعبوں میں تعاون ٹیکنالوجی کی منتقلی، غیر ملکی سرمایہ کاری، مقامی پیداوار میں اضافہ، برآمدات میں توسیع اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔


Comments
Comments are closed.