جاپان میں اتوار کو ایوان بالا کے سخت مقابلے والے انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی جو وزیر اعظم شیگریو ایشیبا کی حکومت کو سیاسی بحران سے دوچار کر سکتی ہے، کیونکہ بڑھتی مہنگائی اور امیگریشن سے متعلق خدشات ان کی طاقت کو کمزور کر رہے ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایشیبا کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اتحادی کومیتو 248 رکنی ایوان بالا میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے درکار 50 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں، جہاں نصف نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔ چھوٹی اپوزیشن جماعتیں جو ٹیکس میں کمی اور عوامی اخراجات بڑھانے کا وعدہ کر رہی ہیں، خاص طور پر دائیں بازو کی سانسیٹو پارٹی، جو امیگریشن پر پابندی، غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت اور صنفی مساوات کی پالیسیوں کی واپسی کا عزم رکھتی ہے، حمایت حاصل کرنے کی توقع ہے۔
ایک 25 سالہ طالب علم یو ناگائی نے سانسیٹو کو ووٹ دینے کے بعد کہا کہ میں گریجویٹ اسکول میں پڑھتا ہوں لیکن میرے اردگرد کوئی جاپانی نہیں، سب غیر ملکی ہیں… غیر ملکیوں پر خرچ کے انداز سے لگتا ہے کہ جاپانی عوام کا احترام کم ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمزور انتخابی کارکردگی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل اور امریکا کے ساتھ اہم تجارتی مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایشیبا کو نئی قیادت کے لیے راستہ دینا پڑ سکتا ہے یا پالیسی سمجھوتوں کے ذریعے اپوزیشن کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔
یکم اگست تک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں جاپانی برآمدات پر بھاری ٹیرف عائد ہو سکتے ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام پر دباؤ بڑھا دیں گے۔ ایل ڈی پی مالی کفایت شعاری پر زور دے رہی ہے اور اپوزیشن کے ٹیکس میں کمی کے مطالبات مسترد کر چکی ہے۔
ایل ڈی پی اکتوبر میں ایوان زیریں میں اکثریت کھو بیٹھی تھی، جو 15 برسوں میں اس کی بدترین کارکردگی تھی اور وزیر اعظم کو عدم اعتماد کی تحریکوں کے خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔


Comments
Comments are closed.