توانائی منصوبوں کی انکوائری، سینیٹ کمیٹی کی پاور ڈویژن کے خلاف گمراہ کن معلومات دینے پر کارروائی کی سفارش
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کو سفارش کی ہے کہ وہ پاور ڈویژن کے خلاف کارروائی کرے، کیونکہ اس پر سابق نگران وفاقی وزیر توانائی کی جانب سے شروع کی گئی انکوائری کے دوران گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔
یہ انکوائری اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر ٹینڈر اور ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے 765 کلو وولٹ داسو-اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ (لاٹ- ون) سے متعلق ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری امتیاز حسین شاہ نے 30 جون 2025 کو کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ چینی کمپنیوں ایم/ایس ہینان ٹونگ-ڈا کیبل کو. لمیٹڈ اور ایم/ایس جیانگ سو ژونگتیان ٹیکنالوجی کو. لمیٹڈ. کی جانب سے کسی بھی پاور آف اٹارنی (پی او اے) کی توثیق کے لیے پاکستانی سفارتخانے بیجنگ میں کوئی دستاویز جمع نہیں کروائی گئی۔ سفارتخانے نے مزید وضاحت کی کہ چونکہ پاکستان نومبر 2024 میں اپوستیل کنونشن میں شامل ہو گیا ہے، لہٰذا اب ایسی توثیقیں سفارتی ذرائع سے درکار نہیں رہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت کمیٹی نے ای اے ڈی اور پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ وہ براہِ راست متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کر کے معلوم کریں کہ آیا انہوں نے کبھی اس نوعیت کی دستاویزات جمع کروائی تھیں یا نہیں۔
اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر کیس کے حوالے سے خصوصی آڈٹ کے لیے ریکارڈز 4 جون 2025 کو آڈیٹر جنرل کے دفتر کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔
765 کلو وولٹ داسو–اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن (لاٹ- ون) کے حوالے سے پاور ڈویژن نے بتایا کہ جی ایم این جی سی محمد مصطفیٰ کی سربراہی میں کی گئی اندرونی انکوائری نے معاملہ ورلڈ بینک کو ریفر کرنے کی سفارش کی تھی۔ بینک نے جواب میں تصدیق کی کہ خریداری کا عمل اس کی ہدایات کے مطابق مکمل کیا گیا تھا۔
تاہم کمیٹی نے ممکنہ کور اپ پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاور ڈویژن کے حکام وہ ضمنی رپورٹ پیش نہ کر سکے جو مبینہ طور پر ورلڈ بینک سے رابطے کی بنیاد بنی۔ اس کے بجائے انہوں نے ایک سابق سینئر افسر کا محض ایک خط دکھایا، جسے کمیٹی بدعنوانیوں کو چھپانے کی کوشش سمجھتی ہے۔ کمیٹی نے اس خط سے متعلق تمام خط و کتابت طلب کی اور واضح کیا کہ ورلڈ بینک کے پروکیورمنٹ ضوابط کے تحت قرض لینے والا ملک (پاکستان) خریداری کے پورے عمل کا ذمہ دار ہے۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سابق نگران وزیر توانائی محمد علی نے بطور سربراہ اندرونی انکوائری کمیٹی کوئی باضابطہ رپورٹ نہ تیار کی اور نہ ہی جمع کروائی، حالانکہ وہ انکوائری میں فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ پاور ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ انہوں نے صرف ایک غیر دستخط شدہ رپورٹ کے بارے میں سنا ہے، جو کبھی باضابطہ طور پر شیئر نہیں کی گئی۔
کمیٹی اس انکشاف پر حیران رہ گئی اور سوال اٹھایا کہ سابق وزیر 20 فروری 2024 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بغیر کسی تحریری رپورٹ کے کیسے نتائج پیش کر سکتے ہیں۔ کمیٹی نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ وہ حتیٰ کہ غیر دستخط شدہ انکوائری رپورٹ کی کاپی بھی تلاش کر کے جمع کروائے اور ای اے ڈی کو سفارش کی کہ گمراہ کن معلومات فراہم کرنے پر پاور ڈویژن کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
مزید برآں، کمیٹی نے ای اے ڈی کو ہدایت کی کہ وہ وضاحت طلب کرے کہ کس طرح سابق نگران وزیر اور اس وقت کے پاور ڈویژن کے سیکریٹری، جو انکوائری کمیٹی کے رکن تھے، اتنی غفلت کے مرتکب ہو سکتے ہیں کہ اہم توانائی منصوبوں میں مالی اور طریقہ کار سے متعلق بے ضابطگیوں کے حقائق چھپاتے رہے۔
765 کلو وولٹ داسو–اسلام آباد گرڈ اسٹیشن (لاٹ- فور) کے منصوبے میں ایک کنٹریکٹر سے 1.282 ارب روپے کی وصولی کے معاملے پر کمیٹی نے واضح کیا کہ این ٹی ڈی سی بورڈ کو آزادانہ انکوائری کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس نے سابقہ بحث کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی کہ بڈنگ دستاویزات کے مطابق یہ متنازعہ رقم بولیوں کے جائزے میں شامل نہیں کی جا سکتی۔
کمیٹی نے ای اے ڈی کو ہدایت دی کہ وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر اس بات کو یقینی بنائے کہ پہلے سے دی گئی سفارشات کے مطابق کم سے کم بولی دینے والے سے 1.282 ارب روپے کی وصولی کی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.