پاکستان نے ٹی آر ایف اور لشکرِ طیبہ کے مبینہ تعلق کو مسترد کر دیا
پاکستان نے ”دی ریزسٹنس فرنٹ“ (ٹی آر ایف) اور لشکرِ طیبہ ( ایل ای ٹی) کے مبینہ تعلق کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی پر غیرجانبدارانہ موقف اپنایا جائے۔
پاکستان نے جمعہ کے روز امریکی حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی ”دی ریزسٹنس فرنٹ“ (ٹی آر ایف) اور کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کے درمیان کسی بھی قسم کے مبینہ تعلق کو سختی سے مسترد کر دیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی ”قطعاً کوئی گنجائش نہیں“ کی پالیسی پر قائم ہے اور انسدادِ دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں صفِ اول کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
بیان میں پاکستان کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ حال ہی میں 2021 میں کابل ایبی گیٹ بم دھماکے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ شریف اللہ کو گرفتار کیا گیا، جو اس حوالے سے پاکستان کے تعاون کی ایک واضح مثال ہے۔
یہ پیش رفت امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اُس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے اپریل 2025 میں بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں کئے گئے حملے کے بعد ٹی آر ایف کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
روبیو نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی آر ایف، لشکرِ طیبہ کا ایک ذیلی گروپ ہے، جس پر 2008 کے ممبئی حملوں کا الزام بھی عائد ہے۔
تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کی تحقیقات ابھی تک غیر حتمی ہیں، اور اس حوالے سے لشکر طیبہ کا کوئی فعال وجود ملک میں باقی نہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ”پاکستان نے ایسی تنظیموں کی قیادت کے خلاف موثر قانونی کارروائیاں کی ہیں اور ان کے کارکنان کی نظریاتی اصلاح (ڈی ریڈیکلائزیشن) کی ہے۔“
دفتر خارجہ نے مزید خبردار کیا ہے کہ بھارت دہشت گردی سے متعلق عالمی فیصلوں کو اپنے سیاسی بیانیے اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”بھارت ان فیصلوں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔“
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف غیر جانبدار اور مساوی رویہ اختیار کرے اور ایسے گروہوں پر بھی توجہ دے، جیسے بلوچستان میں سرگرم مجید بریگیڈ، جسے پاکستان نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ہی دوسرا نام قرار دیا ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ”پاکستان کا انسدادِ دہشت گردی میں کردار عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اجتماعی عالمی کوششیں درکار ہیں، نہ کہ جانبدارانہ الزامات یا سیاسی مفادات۔“


Comments
Comments are closed.