BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Decreased By (-0.27%)
KSE100 Decreased By (-0.02%)
KSE30 Decreased By (-0.02%)
BAFL 56.71 Decreased By ▼ -0.02 (-0.04%)
BIPL 27.01 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
BOP 33.76 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.05 Increased By ▲ 0.17 (1.72%)
DFML 18.03 Increased By ▲ 0.03 (0.17%)
DGKC 203.10 Decreased By ▼ -1.83 (-0.89%)
FABL 99.50 Decreased By ▼ -0.60 (-0.6%)
FCCL 53.40 Increased By ▲ 0.31 (0.58%)
FFL 16.49 Decreased By ▼ -0.03 (-0.18%)
GGL 25.62 Increased By ▲ 0.78 (3.14%)
HBL 301.00 Increased By ▲ 1.18 (0.39%)
HUBC 217.39 Increased By ▲ 0.31 (0.14%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.09 (-0.85%)
KEL 7.19 Decreased By ▼ -0.03 (-0.42%)
LOTCHEM 29.57 Increased By ▲ 0.26 (0.89%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -1.16 (-1.26%)
OGDC 316.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.03%)
PAEL 41.90 Decreased By ▼ -0.14 (-0.33%)
PIBTL 16.48 Increased By ▲ 0.07 (0.43%)
PIOC 296.15 Decreased By ▼ -4.09 (-1.36%)
PPL 217.53 Increased By ▲ 0.69 (0.32%)
PRL 52.30 Increased By ▲ 1.44 (2.83%)
SNGP 100.82 Decreased By ▼ -0.90 (-0.88%)
SSGC 26.50 Decreased By ▼ -0.48 (-1.78%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.10 (-1.16%)
TPLP 13.45 Increased By ▲ 0.06 (0.45%)
TRG 58.75 Decreased By ▼ -0.51 (-0.86%)
UNITY 10.10 Decreased By ▼ -0.20 (-1.94%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)

پاکستان کے کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) کی ٹیم نے چار ایسی کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپے مارے جو مختلف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے درکار سامان فراہم کر رہی تھیں۔ یہ بات سی سی پی کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔

یہ چھاپے لاہور اور گوجرانوالہ میں بیک وقت مارے گئے۔

ان کمپنیوں پر شبہ ہے کہ وہ ایک ایسے گٹھ جوڑ (کارٹیل) کا حصہ ہیں جس نے ٹرانسفارمر سے متعلق ٹینڈرز کے لیے بولی کے عمل میں گڑ بڑ کی ہے۔ سی سی پی نے یہ کارروائی ڈسکوز کی خریداری میں مبینہ بولی میں دھاندلی سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں کی ہے۔

یہ تحقیقات اس وقت شروع کی گئیں جب لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) سے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا کہ مختلف سپلائرز نے ایک جیسے نرخوں پر بولیاں جمع کروائیں۔

بولی کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ یہ کمپنیاں اکثر ایک جیسے نرخ پیش کرتی ہیں اور بظاہر ٹینڈرز کو آپس میں بانٹنے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔

ایسی سرگرمیاں کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 4(2)(e) کے تحت آتی ہیں، جو ٹینڈرز میں ملی بھگت کی ممانعت کرتی ہے۔ بولی میں گٹھ جوڑ یا دھاندلی (بِڈ رِگنگ) نہ صرف منصفانہ مسابقت کو متاثر کرتا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچاتا ہے۔ اگر جاری تحقیقات میں کسی بھی قسم کی ملی بھگت ثابت ہوئی، تو کمپیٹیشن کمیشن متعلقہ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کرے گا۔

کمیشن نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی غیر مسابقتی سرگرمی کی اطلاع دیں۔ مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے مخبروں ( وسل بلوورز) کو 2 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک کے نقد انعام دیے جا سکتے ہیں، جو فراہم کردہ معلومات کی اہمیت اور صداقت پر منحصر ہوگا۔

Comments

Comments are closed.