وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان برطانیہ کی صنعتی ضروریات کے مطابق اپنی برآمدات کو متنوع بنانے اور ان کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، انہوں نے یہ بات گریٹر برمنگھم چیمبر آف کامرس کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے مڈلینڈز کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان روایتی برآمدی شعبوں سے آگے بڑھ کر نئی صنعتوں میں اپنی صلاحیتوں کو مستحکم کررہا ہے، جن میں پروسیسڈ فوڈز، ماہی گیری، دواسازی، چمڑے کی مصنوعات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فرنیچر، سیرامکس اور کھیلوں کا سامان شامل ہیں۔
وزیر تجارت نے برمنگھم کے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ باسمتی چاول، آم، اور حلال تصدیق شدہ پروسیسڈ فوڈز جیسی اعلیٰ معیار کی پاکستانی مصنوعات کو اپنی تجارتی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں۔
انہوں نے خصوصی طور پر پاکستان کو برمنگھم کی ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور آٹوموٹو سپلائی چینز کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کم لاگت میں مؤثر پیداواری صلاحیت، لائٹ انجینئرنگ اور دھات سازی میں مہارت اور عالمی آٹوموٹو برانڈز کو سامان کی فراہمی کے حوالے سے پاکستان کے تجربے کو نمایاں کیا۔
جام کمال خان نے پاکستان کی قومی الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی میں موجود مواقع کو بھی اجاگر کیا، خصوصاً بیٹری ٹیکنالوجی اور الیکٹرک ڈرائیو ٹرینز جیسے شعبوں میں جو برمنگھم کے گرین موبیلیٹی اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق، وزیر تجارت نے برطانیہ میں قائم نمایاں فوڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی ’Nouvo‘ اور برمنگھم سٹی فٹبال کلب کا دورہ بھی کیا۔
نووا میں ان کی گفتگو کا محور تجارتی سپلائی چینز کو مضبوط بنانا اور برطانیہ کی مارکیٹ میں پاکستان سے حلال تصدیق شدہ اور نسلی خوراکی مصنوعات کی رسائی کو وسعت دینا تھا۔
یہ ملاقاتیں پاکستان کی صنعتوں کے باہمی روابط، علاقائی ویلیو چینز اور اوورسیز پاکستانیوں کی قیادت میں تجارتی سفارت کاری پر نئے سرے سے دی جانے والی توجہ کو اجاگر کرتی ہیں، جو اس امر کا مظہر ہے کہ پاکستان برطانیہ کے لیے ایک ویلیو ایڈڈ تجارتی شراکت دار کے طور پر خود کو مؤثر طریقے سے پیش کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔“


Comments
Comments are closed.