وفاقی وزیر محمد جنید انور چوہدری نے بڑھتی ہوئی سمندری آلودگی کے خطرے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ آلودگی پاکستان کی بلیو اکانومی، ماحولیاتی نظام، حیاتیاتی تنوع اور عوامی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
مرین پولیوشن کنٹرول بورڈ کے پندرہ سال بعد ہونے والے پانچویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے زور دیا کہ بے قابو آلودگی نہ صرف سمندری حیات اور ساحلی ماحولیاتی نظام کو تباہ کر رہی ہے بلکہ ماہی گیری، سیاحت اور ساحلی برادریوں کے روزگار کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ مرین پولیوشن کنٹرول بورڈ بحری امور کی وزارت کے تحت کام کرتا ہے۔
اعلیٰ سطح اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، محکموں اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے بورڈ کی طویل غیرفعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ زمین سے پیدا ہونے والی آلودگی، خاص طور پر بغیر صاف کیے گئے سیوریج اور ٹھوس فضلے کا اخراج، تقریباً 90 فیصد سمندری آلودگی کا سبب بنتا ہے اور اگر مؤثر اقدامات کیے جائیں تو اسے نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سمندری ماحولیاتی نظام کی خرابی کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی جن میں آلودہ سمندری خوراک، معاشی نقصان، ساحلی کٹاؤ میں اضافہ، بندرگاہی انفراسٹرکچر کو نقصان اور سمندری انواع کی معدومیت یا ہجرت شامل ہیں۔
بحران کی شدت کے پیشِ نظر وفاقی وزیر نے دو کمیٹیاں تشکیل دیں تاکہ اہم سیوریج ٹریٹمنٹ منصوبوں پر پیشرفت تیز کی جا سکے۔ پہلی کمیٹی طویل عرصے سے رکی ہوئی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ-III پر توجہ دے گی جبکہ دوسری کمیٹی صنعتی فضلے کو صاف کرنے کے لیے بنائے گئے کمبائنڈ ایفلیونٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ سے متعلق مسائل حل کرے گی۔ دونوں کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ 20 دن میں بورڈ کو اپنی تفصیلی رپورٹس پیش کریں۔
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ کراچی روزانہ 472 ملین گیلن سے زائد سیوریج پیدا کرتا ہے، جن میں تقریباً 100 ملین گیلن صنعتی فضلہ شامل ہے، جو زیادہ تر بغیر صاف کیے لیاری اور ملیر ندیوں کے ذریعے اور بالآخر بحیرۂ عرب میں شامل ہو جاتا ہے۔ شہر کے برساتی نالے بھی بڑی مقدار میں ٹھوس فضلہ، بشمول پلاسٹک، براہِ راست ساحلی پانیوں میں لے جاتے ہیں۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بورڈ نے مختلف حکمتِ عملیاں زیرِ بحث لائیں جن میں برساتی نالوں پر جال لگانا، دریائی کناروں پر باڑ لگانا، بندرگاہوں میں کچرا ہٹانے کے نظام نصب کرنا اور منوڑہ، بابا بھٹ، کلری اور پھٹھی نالہ کے کیچمنٹ علاقوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تکمیل میں تیزی لانا شامل ہے۔
وفاقی وزیر نے ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا اور تجویز دی کہ آلودگی پھیلانے والے بحری جہازوں اور صنعتوں کے خلاف پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ اور مرچنٹ شپنگ آرڈیننس کے تحت سخت سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو زیادہ مؤثر طریقے سے ماحولیاتی تحفظ کے نفاذ کے لیے اختیارات دینے کی بھی سفارش کی۔
اجلاس میں سمندر سے پیدا ہونے والی آلودگی کے ذرائع پر بھی بات کی گئی جو اندازاً 10 فیصد ہیں، جن میں بیلسٹ واٹر کا اخراج، جہاز توڑنے کی سرگرمیاں، ماہی گیری کے آپریشن اور آف شور ڈرلنگ شامل ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر بحری حکام پر زور دیا گیا کہ ان سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.