ایک ڈرون حملے کے باعث منگل کو امریکی کمپنی کو عراق کے خودمختار کردستانی علاقے میں واقع ایک آئل فیلڈ پر اپنی کارروائیاں معطل کرنا پڑ گئیں۔ یہ حملہ حالیہ دنوں میں توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے والے سلسلے کا تازہ واقعہ ہے۔
کردستان ریجنل گورنمنٹ نے تصدیق کی کہ دہوک صوبے میں واقع سرسنگ آئل فیلڈ پر حملہ کیا گیا۔ حکومت نے اس حملے کو کردستان کے اہم اقتصادی ڈھانچے کے خلاف دہشت گردی کا عمل قرار دیا۔
یہ حملہ ایک روز قبل ہونے والے دو دیگر ڈرون حملوں کے بعد ہوا، جن میں ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں، اور دوسرا حملہ ہمسایہ صوبہ اربیل میں ایک آئل فیلڈ پر کیا گیا۔
ایچ کے این انرجی ، جو کہ سرسنگ فیلڈ پر کام کرنے والی امریکی کمپنی ہے، نے بتایا کہ صبح 7 بجے کے قریب اس کی ایک پیداواری سہولت کو نشانہ بنایا گیا۔
کمپنی کے مطابق متاثرہ مقام کو محفوظ بنانے تک کارروائیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایچ کے این نے کہا کہ ہنگامی ٹیموں نے بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عراق، خاص طور پر کردستان میں ڈرون اور راکٹ حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
طویل عرصے سے تنازعات کا شکار عراق اکثر ایسے حملوں کی زد میں رہتا ہے، جو کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان پراکسی کشمکش سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔
کردستان کی صدارت نے خطے کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی اور بغداد حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے ذمہ داران کو تلاش کرے اور مزید واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔
امریکی سفارت خانے نے بھی کردستان میں آئل فیلڈز سمیت اہم بنیادی ڈھانچے پر حالیہ ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عراقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے مسلح گروہوں کو روکنے کے لیے اپنی مکمل عملداری کا مظاہرہ کرے جو ان حملوں کے ذریعے نہ صرف عراقی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
سرسنگ فیلڈ پر ہونے والا یہ حملہ ایک دن بعد پیش آیا جب کردستان کے دیگر مقامات پر بارود سے لیس ڈرونز کے حملے رپورٹ ہوئے تھے۔
ایک ڈرون کو اربیل ایئرپورٹ کے قریب مار گرایا گیا، جبکہ دو ڈرونز نے خرمالا آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا، جہاں مادی نقصان کی اطلاع ہے۔
تاحال ان حملوں، بشمول منگل کے حملے، کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
قبل ازیں 3 جولائی کو کردستانی حکام نے بتایا تھا کہ اربیل ایئرپورٹ کے قریب ایک ڈرون مار گرایا گیا، جس کا الزام الحشد الشعبی پر عائد کیا گیا—جو کہ ایران نواز سابقہ نیم فوجی اتحاد ہے، اور اب عراقی مسلح افواج کا حصہ ہے۔


Comments
Comments are closed.