BR100 Increased By (1.16%)
BR30 Increased By (1.76%)
KSE100 Increased By (0.66%)
KSE30 Increased By (0.73%)
BAFL 58.55 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.33 Increased By ▲ 0.34 (1%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 21.24 Increased By ▲ 0.40 (1.92%)
DGKC 197.90 Increased By ▲ 4.93 (2.55%)
FABL 89.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.16%)
FCCL 54.10 Increased By ▲ 1.27 (2.4%)
FFL 18.10 Increased By ▲ 0.15 (0.84%)
GGL 19.70 Increased By ▲ 0.73 (3.85%)
HBL 286.65 Increased By ▲ 1.15 (0.4%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.22%)
MLCF 88.00 Increased By ▲ 1.49 (1.72%)
OGDC 324.00 Increased By ▲ 4.04 (1.26%)
PAEL 40.11 Increased By ▲ 0.69 (1.75%)
PIBTL 17.36 Increased By ▲ 0.69 (4.14%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 232.40 Increased By ▲ 4.22 (1.85%)
PRL 35.07 Increased By ▲ 0.39 (1.12%)
SNGP 99.51 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
SSGC 27.20 Increased By ▲ 0.60 (2.26%)
TELE 8.64 Increased By ▲ 0.36 (4.35%)
TPLP 8.75 Increased By ▲ 0.53 (6.45%)
TRG 71.50 Increased By ▲ 1.79 (2.57%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

**پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو ایک بار پھر تیزی کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 440.09 پوائنٹس یا 0.32 فیصد اضافے سے 136,379.96 پوائنٹس پر جاپہنچا۔

خریداری کی قیادت توانائی شعبے نے کی جس میں آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز)، ریفائنری اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیز شامل ہیں۔ ماری اے آر ایل، ایس ایس جی سی ، ایس این جی پی ایل، حبکو اور ڈبلیو اے ایف آئی مثبت زون میں دیکھے گئے۔

یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کا شکار کاروباری سیشن دیکھنے میں آیا جہاں منافع کے حصول کے دباؤ کے باعث مارکیٹ کئی روزہ تاریخی تیزی کے بعد منفی زون میں بند ہوئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 562.67 پوائنٹس یا 0.41 فیصد کی کمی کے ساتھ 135,940 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار رہیں جب کہ امریکی ڈالر کی قدر جاپانی ین کے مقابلے میں اپریل کے اوائل کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اس کی وجہ امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار تھے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیرف قیمتوں میں اضافہ کررہے ہیں جس کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے پالیسی میں نرمی کی توقعات میں کمی آئی ہے۔

امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز (منافع کی شرح) ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جس کے نتیجے میں خاص طور پر جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا۔

تاہم، ٹیکنالوجی اسٹاکس نے مضبوطی کا مظاہرہ کیا جس کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کی مقبول کمپنی Nvidia کے حصص میں راتوں رات 4 فیصد کا اضافہ تھا۔

منگل کو جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق جون میں امریکی صارف قیمتوں میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا جو کہ تجزیہ کاروں کی توقعات کے مطابق تھا تاہم یہ جنوری کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ ماہرینِ معیشت نے کافی، ڈومیسٹک فرنیچر اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کو ٹرمپ انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی درآمدی محصولات (ٹیرف) سے جوڑا ہے۔

فیڈرل ریزرو نے سود کی شرح کو مستحکم رکھا ہوا ہے کیونکہ وہ ٹیرف (محصولات) سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے اثرات کے اشاروں کا انتظار کر رہا ہے — جن کے بارے میں چیئرمین جیروم پاول نے کہا تھا کہ انہیں موسمِ گرما میں ظاہر ہونے کی توقع ہے۔

ٹریڈرز اس وقت رواں سال کے باقی عرصے کے لیے مجموعی طور پر 43 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں کمی کی قیمت لگا رہے ہیں جب کہ ستمبر میں شرح سود میں ایک چوتھائی پوائنٹ کمی کے امکانات 56.5 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔

جاپان کا ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مشتمل نکیئی انڈیکس معمولی اضافے اور کمی کے درمیان اتار چڑھاؤ کے بعد مستحکم رہا جسے Nvidia کی مثبت کارکردگی اور کمزور ین سے سہارا ملا۔

تائیوان کا بینچ مارک انڈیکس 0.5 فیصد بڑھا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.8 فیصد اوپر گیا جو منگل کو ٹیکنالوجی کی قیادت میں ہونے والی 1.6 فیصد کی ریلی کے بعد مزید بہتری کی علامت ہے۔

Comments

Comments are closed.