فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے متبادل تنازعات کے حل کے لیے قائم کمیٹیوں (اے ڈی آر سیز) کے ذریعے نمٹائے گئے مقدمات سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے مسلسل انکار کر رکھا ہے، اور یہ معاملہ اب بھی پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) کے سامنے زیرِ التوا ہے۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن اب انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 216 (سرکاری ملازم کی جانب سے معلومات کا انکشاف) کے تحت ایف بی آر کی رازداری کے دعوے کی قانونی حیثیت اور دائرہ کار کا جائزہ لے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کیا عوامی مفاد ادارہ جاتی رازداری پر فوقیت رکھتا ہے یا نہیں۔
ٹیکس ماہر کے مطابق، طویل قانونی جانچ پڑتال اور وقت گزرنے کے باوجود، ایف بی آر کی اے ڈی آر سیز کی جانب سے مبینہ طور پر ٹیکس قوانین کی غلط تشریح کے ذریعے قومی خزانے کو ہونے والے اربوں روپے کے نقصان سے متعلق اہم معلومات تاحال پوشیدہ ہیں اور پاکستان انفارمیشن کمیشن میں زیرِ سماعت ہیں۔
رابطہ کرنے پر ٹیکس ماہر نے بتایا کہ تنازع اس دعوے کے گرد گھومتا ہے کہ ایف بی آر کے ماتحت کام کرنے والی اے ڈی آر سیز نے بعض ٹیکس دہندگان کو ٹیکس قوانین کا غلط اطلاق کرتے ہوئے ناجائز فوائد دیے، جس کے نتیجے میں ریاست کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم، ٹیکس وکیل وحید شہزاد بٹ کی جانب سے اس تمام معلومات کو عوام کے سامنے لانے کی کوششوں کو ادارہ جاتی مزاحمت کا سامنا ہے۔
وحید بٹ نے بتایا کہ یہ معاملہ پہلے ہی فیڈرل ٹیکس محتسب، صدرِ پاکستان، اور لاہور ہائی کورٹ کے سنگل اور ڈویژن بنچز کے سامنے زیرِ غور آ چکا ہے۔ اس کے باوجود، وہ بنیادی معلومات جنہیں عوامی مفاد میں مانگا گیا تھا، تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔
ایف بی آر کے دفاع کی بنیاد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 216 پر ہے، جس کے تحت ایف بی آر کا موقف ہے کہ یہ معلومات ”خفیہ اور رازداری کے زمرے“ میں آتی ہیں، اور ان کا انکشاف عوامی سطح پر نہیں کیا جا سکتا، چاہے قومی احتساب کا سوال ہی کیوں نہ ہو۔
اب پاکستان انفارمیشن کمیشن یہ جانچنے کا ذمہ دار ہے کہ آیا دفعہ 216 کے تحت ایف بی آر کا رازداری کا دعویٰ جائز ہے یا نہیں، اور کیا اس صورت میں عوامی مفاد ادارہ جاتی رازداری پر غالب آتا ہے۔
اے ڈی آر سیز کے مشتبہ فیصلوں کو قانونی پردے میں چھپانا شفافیت اور مالیاتی انصاف کے اصولوں سے متصادم ہے۔ جیسے جیسے یہ معاملہ پی آئی سی کے حتمی فیصلے کا منتظر ہے، سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا مبینہ مالیاتی سمجھوتے کی حقیقت سامنے آئے گی یا قانونی پیچیدگیوں کی تہہ میں دفن رہے گی۔
قبل ازیں، ایف بی آر نے اے ڈی آر سیز کی سفارشات پر جاری کیے گئے احکامات سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس سے ٹیکس نظام میں شفافیت اور احتساب سے متعلق سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر ایف بی آر کو وکیل وحید شہزاد بٹ کو ”رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017“ کے تحت یہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا، مگر ایف بی آر نے اس ایکٹ کی استثنائی شق کا سہارا لیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
وحید بٹ کا کہنا تھا کہ معلومات تک رسائی آئینی جمہوریت کی بنیادی شرط ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ سرکاری عہدیدار اپنے فرائض کیسے انجام دیتے ہیں۔ عوامی عہدیداروں کی یہ ذمہ داری کہ وہ اپنی کارروائیوں سے عوام کو آگاہ کریں، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.