BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.21%)
KSE100 Increased By (0.05%)
KSE30 Increased By (0.03%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 26.93 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
BOP 33.70 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 10.05 Increased By ▲ 0.17 (1.72%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 203.56 Decreased By ▼ -1.37 (-0.67%)
FABL 99.55 Decreased By ▼ -0.55 (-0.55%)
FCCL 53.35 Increased By ▲ 0.26 (0.49%)
FFL 16.54 Increased By ▲ 0.02 (0.12%)
GGL 25.62 Increased By ▲ 0.78 (3.14%)
HBL 300.49 Increased By ▲ 0.67 (0.22%)
HUBC 217.30 Increased By ▲ 0.22 (0.1%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
LOTCHEM 29.47 Increased By ▲ 0.16 (0.55%)
MLCF 91.31 Decreased By ▼ -0.85 (-0.92%)
OGDC 317.74 Increased By ▲ 1.45 (0.46%)
PAEL 42.10 Increased By ▲ 0.06 (0.14%)
PIBTL 16.51 Increased By ▲ 0.10 (0.61%)
PIOC 298.01 Decreased By ▼ -2.23 (-0.74%)
PPL 217.71 Increased By ▲ 0.87 (0.4%)
PRL 52.12 Increased By ▲ 1.26 (2.48%)
SNGP 101.45 Decreased By ▼ -0.27 (-0.27%)
SSGC 26.65 Decreased By ▼ -0.33 (-1.22%)
TELE 8.56 Decreased By ▼ -0.09 (-1.04%)
TPLP 13.55 Increased By ▲ 0.16 (1.19%)
TRG 59.01 Decreased By ▼ -0.25 (-0.42%)
UNITY 10.17 Decreased By ▼ -0.13 (-1.26%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

حکومتِ پاکستان نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کو تیز کرنے کے لیے ترکی کے ماڈل سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطح وفد کو ترکی روانہ کیا جا رہا ہے، تاکہ وہاں کے نجکاری ماڈل، نجی شعبے کی شمولیت، نقصانات میں کمی اور خدمات کی بہتری کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق، پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کا عمل 2025 کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مرحلے میں طویل مدتی لائسنسنگ اور رعایتی ماڈل اختیار کیا جائے گا، جیسا کہ ترکی میں کامیابی سے نافذ کیا گیا ہے۔

دوسرے مرحلے میں لاہور (لیسکو)، ملتان (میپکو) اور ہزارہ (ہیزکو) کی ڈسکوز نجکاری کے لیے پیش کی جائیں گی، جبکہ حیدرآباد (حیسکو)، سکھر (سپیکو) اور پشاور (پیسکو) کو رعایتی ماڈل کے تحت پیش کیا جائے گا۔ قبائلی علاقہ جات (ٹیسکو) اور کوئٹہ (کیسکو) کی کمپنیاں فی الحال حکومتی اصلاحات کے تحت برقرار رکھی جائیں گی اور بعد ازاں ان کے لیے انتظامی معاہدات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ترکی وفد کو پاکستان مدعو کریں تاکہ دوطرفہ مشاورت کا سلسلہ جاری رہے۔ نجکاری کمیشن کے مطابق، مشاورتی ادارے ایلورز اور مارسل کی جانب سے شعبہ جاتی رپورٹ جمع کروائی گئی ہے، جس پر پاور ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن، نیپرا اورسی پی پی اے-جی مل کر غور کر رہے ہیں۔

حکومت نے متعدد قانونی اور پالیسی رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں نجکاری سے قبل حل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ان میں لائسنس قوانین، ٹیرف ہدایات، سبسڈی کی وضاحت، تقسیم کار کمپنیوں کے بیلنس شیٹس کی کلیئرنس، حصص کی اجرائی کارروائیاں، اور بجلی چوری کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

وزارت خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، کئی ڈسکوز کو شدید مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ کوئٹہ اور سکھر الیکٹرک کمپنیوں کو بالترتیب 58.1 ارب روپے اور 29.6 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ مجموعی نقصانات بالترتیب 770.6 ارب اور 473 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ پشاور کمپنی کو 19.7 ارب روپے کا نقصان ہوا جس کے مجموعی نقصانات 684.9 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض کمپنیاں، جن کی ای بی آئی ٹی (سود اور ٹیکس سے قبل کی کمائی) مثبت تھیں، وہ بھی سبسڈی ختم ہونے کے بعد خسارے میں چلی گئیں۔ ان میں ملتان (8.4 ارب)، فیصل آباد (52 ارب) اور گوجرانوالہ (20.9 ارب) شامل ہیں، لیکن ان کے اصل نقصانات بالترتیب 35.17 ارب، 13.12 ارب اور 7.32 ارب روپے رہے۔

پاور ڈویژن نے حال ہی میں ترقیاتی شراکت داروں، بشمول ورلڈ بینک، کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور اعتماد دلایا کہ پہلے مرحلے میں تین ڈسکوز کی نجکاری کا عمل ٹریک پر ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ ترکی ماڈل اپنانے سے نجکاری کا عمل شفاف، مؤثر اور دیرپا نتائج کا حامل ہوگا، جو نہ صرف مالی بوجھ میں کمی لائے گا بلکہ بجلی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنائے گا۔

Comments

Comments are closed.