BR100 Decreased By (-0.26%)
BR30 Decreased By (-0.53%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کینیڈا پر اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ آئندہ ماہ سے کینیڈا سے درآمدات پر 35 فیصد ٹیرف عائد کرے گا جبکہ بیشتر دیگر تجارتی شراکت داروں پر بھی 15 سے 20 فیصد تک کے جامع محصولات لگانے کا منصوبہ ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک خط میں صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کو آگاہ کیا کہ نیا ٹیرف یکم اگست سے نافذ العمل ہوگا اور اگر کینیڈا نے جوابی کارروائی کی تو اس شرح میں مزید اضافہ کردیا جائے گا۔

جمعرات کی شب ایکس پر جاری کردہ بیان میں وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت یکم اگست کی ڈیڈ لائن تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران کینیڈین کارکنوں اور کاروباری اداروں کے مفادات کا بھرپور دفاع جاری رکھے گی۔

کینیڈا پر عائد 35 فیصد ٹیرف جو پہلے سے نافذ 25 فیصد شرح سے نمایاں اضافہ ہے، وزیر اعظم مارک کارنی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایک انتظامی عہدیدار کے مطابق توقع ہے کہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے کے تحت شامل اشیاء پر استثنیٰ برقرار رہے گا، جب کہ توانائی اور کھاد پر عائد 10 فیصد ٹیرف میں بھی فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، اگرچہ ان معاملات پر صدر ٹرمپ کا حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خط میں شکایت کی کہ کینیڈا سے فینٹانائل کی آمد جاری ہے، ساتھ ہی انہوں نے کینیڈا کی ٹیرف اور نان-ٹیرف تجارتی رکاوٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جن کے باعث امریکی ڈیری فارمرز اور دیگر شعبے متاثر ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ امریکی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

ٹرمپ نے لکھا کہ اگر کینیڈا فینٹانائل کی ترسیل روکنے کے لیے میرے ساتھ تعاون کرے تو ہم ممکنہ طور پر اس خط کے مندرجات پر نظرثانی پر غور کر سکتے ہیں۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ فینٹانائل کی معمولی مقدار ہی کینیڈا سے آتی ہے تاہم وہ سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرچکے ہیں۔

کارنی نے منگل کی شب ایکس پر کہا کہ کینیڈا نے شمالی امریکہ میں فینٹانائل کی لعنت کو روکنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ ہم زندگیوں کو بچانے اور دونوں ممالک میں کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

Comments

Comments are closed.