جمعرات کی صبح روسی ڈرونز نے یوکرینی دارالحکومت کیف پر شدید حملہ کیا، جب کہ حکام نے رہائشی اور غیر رہائشی عمارتوں میں آگ لگنے کی اطلاعات دیں۔ یہ حملہ ایک روز بعد ہوا ہے جب روس نے اب تک کی سب سے بڑی ڈرون کارروائی میں یوکرین کو نشانہ بنایا تھا۔
کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق، تین افراد کو شیل لگنے سے زخم آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شہر کے چھ اضلاع اس حملے کی زد میں آئے، جہاں مختلف عمارتوں، گوداموں اور گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، اور ڈرون کے ٹکڑے شہر کے مختلف حصوں میں گرے۔
تکاچینکو نے کہا کہ ”دشمن کا حملہ جاری ہے۔ دفاعی افواج دشمن کے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔“
یوکرین کی فوج نے ٹیلیگرام پر خبردار کیا کہ شہر پر میزائل حملہ بھی ہو سکتا ہے۔
رائٹرز کے نمائندوں نے بلند آواز دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
کیف کے میئر، وٹالی کلیچکو نے بتایا کہ شہری علاقے شیوچینکیوسکی میں ایک رہائشی عمارت پر ڈرون کے ٹکڑے گرنے سے اوپری منزل پر آگ بھڑک اٹھی، جب کہ شہر کے مرکز میں ایک اور جگہ بھی آگ بجھانے کا عمل جاری ہے۔
کلیچکو کے مطابق، دو افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
منگل کی شب، روسی افواج نے 40 ماہ پرانی اس جنگ کے دوران اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا تھا، جس میں 728 ڈرونز نے یوکرین کے مختلف اور دور دراز علاقوں، بشمول مغربی یوکرین کو نشانہ بنایا۔
یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیف کو مزید دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر غیر معمولی سخت تنقید کی۔


Comments
Comments are closed.