BR100 Increased By (0.4%)
BR30 Increased By (0.6%)
KSE100 Increased By (0.29%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.69 Increased By ▲ 0.25 (0.43%)
BIPL 25.35 Increased By ▲ 0.15 (0.6%)
BOP 34.26 Increased By ▲ 0.27 (0.79%)
CNERGY 8.14 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 194.95 Increased By ▲ 1.98 (1.03%)
FABL 89.85 Increased By ▲ 0.06 (0.07%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.01 Increased By ▲ 0.06 (0.33%)
GGL 19.62 Increased By ▲ 0.65 (3.43%)
HBL 286.20 Increased By ▲ 0.70 (0.25%)
HUBC 214.90 Increased By ▲ 0.52 (0.24%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.10 (1.25%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 87.00 Increased By ▲ 0.49 (0.57%)
OGDC 322.10 Increased By ▲ 2.14 (0.67%)
PAEL 39.70 Increased By ▲ 0.28 (0.71%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.23 (1.38%)
PIOC 268.50 Increased By ▲ 2.44 (0.92%)
PPL 228.79 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 34.80 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 27.01 Increased By ▲ 0.41 (1.54%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.50 Decreased By ▼ -0.21 (-0.3%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
رائے

نئے میئر کی آمد

شائع July 9, 2025 اپ ڈیٹ July 9, 2025 05:08pm

ایک جہادی، ایک دہشت گرد، ایک کمیونسٹ، ایک مسلمان، ایک دیوانہ ، ایک اشتعال انگیز، ایک سوشلسٹ، ایک اصلاح پسند۔ یہ اور بہت سے دوسرے القابات ظہران ممدانی کو دیے جا رہے ہیں، جو ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے نیو یارک سٹی کے میئر کے انتخاب کے لیے نامزد کیے گئے ہیں۔ ان کا مقابلہ اینڈریو کوومو سے ہے، جو بظاہر ایک عام سا اندرونِ جماعت سیاسی مقابلہ لگتا ہے مگر درحقیقت اس میں کچھ بھی عام نہیں ہے۔

یہ ایک ایسی انتخابی مہم ہے جس نے روایتی، خشک اور بےجان پرائمری مقابلوں کو ایک زبردست، سنسنی خیز اور دھماکہ خیز مقابلے میں بدل دیا ہے، پرانے اور نئے کے درمیان، بوڑھے اور جوان کے درمیان، منجمد اور ہلچل مچانے والوں کے درمیان، یہ مہم انتخابات کے روایتی طریقہ کار کو تہ و بالا کر چکی ہے۔ سیاست کے پرانے ڈھانچے میں ہلچل مچا دی ہے اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے طے شدہ اصولوں اور ضابطوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔

اور یہ سب کسی صدارتی انتخاب میں نہیں ہو رہا، یہ تو محض ایک میئر کے لیے پارٹی کی پرائمری نامزدگی کی دوڑ ہے۔ اس کے باوجود اس نے نیویارک کے ووٹرز کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ اس کے باوجود اس نے عالمی میڈیا کی نگاہوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اس کے باوجود یہ انتخابی ماہرین، جیوپولیٹیکل تجزیہ کاروں اور سماجی سائنس دانوں کی گفتگو کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ انتخابی سیاست میں طوفان کی مانند داخل ہوا ہے۔

ظہران ممدانی وہ سب کچھ ہیں، جس سے بڑی جماعتوں کے بڑے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ وہ صرف 33 سال کے ہیں۔ وہ مسلمان ہیں۔ وہ نیتن یاہو کے مخالف ہیں۔ وہ نریندر مودی کو گجرات کا قصائی کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان بڑی پارٹیوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے، جو عالمی طاقت کے ایوانوں پر قابض ہیں۔

ایسی بےباک اور دبنگ زبان میڈیا کی توجہ ضرور حاصل کرتی ہے، لیکن اکثر یہ عوامی حمایت میں نہیں بدلتی مگر اس بار بدل گئی ہے۔ اور یہی وہ بات ہے جو اُن لوگوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جو دہائیوں سے بڑی طاقتوں کے ہر غیر قانونی اقدام کے حامی رہے ہیں۔ ظہران ممدانی کی مہم چونکانے والی نہیں ہے بلکہ دنگ کر دینے والی ہے۔ اس مہم کے چند اہم اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہیں:

1۔ ناتجربہ کار بمقابلہ طاقت کے پرانا کھلاڑی، ایک ایسے شخص، جس کا نام بھی شاید ہی کسی کے علم میں ہو، جب پس منظر سے اُبھر کر ڈیموکریٹ پارٹی کے بڑے بڑے سیاسی ستونوں کو پیچھے چھوڑ دے، تو پارٹی کے بااثر حلقے بھی حیرت اور بے یقینی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ اسے کوئی موقع ملے گا، حتیٰ کہ سب سے معتبر سروے اور جائزے بھی خاموش تھے۔

دو غیر جانبدار قبل از انتخابی سروے میں پہلے مرحلے میں کوومو کو برتری حاصل تھی۔ ایمرسن کالج نے پہلے مرحلے میں کوومو کو تین پوائنٹس کی سبقت میں دکھایا جب کہ میریسٹ یونیورسٹی کے مطابق ابتدائی ووٹنگ میں کوومو کو بارہ پوائنٹس کی واضح برتری حاصل تھی۔ مگر غیر حتمی نتائج میں ممدانی سات پوائنٹس کی سبقت سے آگے نکل گئے جس کے بعد اینڈریو کوومو کو مقابلے سے دستبردار ہونا پڑا۔ ممدانی پر جتنے بھی حملے کیے گئے وہ ہر وار کو اپنے حق میں موڑنے میں کامیاب رہے۔

انسانی فطرت کو ہمیشہ وہ کہانیاں لبھاتی ہیں جہاں کوئی عام شخص ایوانِ اقتدار کے بڑوں کو للکارے اور ممدانی نے بالکل یہی کیا۔ انہوں نے انہیں برے القابات سے پکارا،ممدانی نے ان کی کرپشن بےنقاب کی۔ انہوں نے ممدانی کا مذاق اڑایا، جواب میں ان کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے۔ بہت سے مباحثوں میں ممدانی نے اپنے مخالفین کو لاجواب کر دیا۔

جب ممدانی پر ناتجربہ کاری کا الزام لگایا گیا تو انہوں نے جواب میں اُن کی تجربہ کار بدعنوانی اور ہراسانی کا پردہ فاش کیا۔ انہوں نے ممدانی کے نام کا مذاق اُڑایا تو جواب میں ان کی نااہلی کا مذاق اُڑایا گیا کہ وہ ان کا نام تک صحیح ادا نہیں کر سکتے۔ یہ ایک کلاسیکی ”داؤد اور جالوت“ کی کہانی بن گئی اور ایسی حقیقی بن جانے والی کہانیوں کے سحر سے کون بچ سکتا ہے؟

2۔ گلی، دروازہ، سمندر، یہی تھا ظہران ممدانی کا انتخابی میدان۔ ممدانی نے واقعی مہم ”دوڑتے ہوئے“ چلائی۔ وہ ہر جگہ موجود تھے،اضلاع کی گلیوں میں، عوامی بسوں میں، زیرِ زمین ریلوے میں، سڑکوں پر، عوامی ہالوں میں، گھروں کے اندر اور یہاں تک کہ سمندر میں بھی۔ جی ہاں، وہ یخ بستہ پانیوں میں بھی اترے، عوام سے جڑنے کے لیے، ان کی توجہ اور اعتماد حاصل کرنے کے لیے۔ ان کے مقابل امیدوار وہی پرانے انداز پر قائم تھے،آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے، ووٹروں تک مصنوعی انداز میں پہنچنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے،اور وہی روایتی حربے استعمال کرتے ہوئے: زیادہ سے زیادہ پیسہ بہا کر ووٹ خریدنے کی کوشش۔ لیکن ممدانی نے نہ صرف انہیں رفتار میں پیچھے چھوڑ دیا بلکہ سیاسی شعور اور خلوص میں بھی سبقت لے گئے۔

انتخابی دن کے موقع پر اینڈریو کوومو کی حمایت میں بننے والے سپر پیک جنہیں ارب پتی افراد نے فنڈ کیا، ان میں ٹرمپ کے حامی اور وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کار بل ایکمین جیسے افراد شامل تھے، نے صرف منفی مہمات پر 25 ملین ڈالر خرچ کر دیے۔ اس کے برعکس، ممدانی کے سپر پیک نے محض 1.2 ملین ڈالر خرچ کیے جبکہ ورکنگ فیملیز پارٹی سے منسلک ایک اور پیک نے 5 لاکھ ڈالر کی حمایت فراہم کی۔ ممدانی کے پاس 50,000 رضاکاروں کی ایک بے مثال فوج تھی، جنہوں نے شہر بھر میں دس لاکھ سے زائد دروازوں پر دستک دی۔ کوومو نے اس دوران نہ عوام کا سامنا کیا، نہ میڈیا کا، وہ منظر سے غائب رہے۔ جب کہ ممدانی نہ صرف عوام کے درمیان موجود رہے بلکہ صحافیوں کے لیے ہمہ وقت دستیاب اور قابل رسائی بھی۔ یہی رویہ عوام کے ذہن میں ایک واضح تاثر کو اور مضبوط کرتا گیا،ایک طرف وہ لوگ جو طاقت کے ایوانوں میں بند ہیں اور دوسری طرف ممدانی، جو ہم میں سے ہی ایک ہیں۔

3۔ سُننا، سمجھنا، بات کرنے کا سلیقہ، ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کی بنیاد انہی تین اصولوں پر رکھی، جو براہِ راست ووٹرز کی خواہشات سے جُڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لیکچر دینا بند کیا جائے اور عوام کی بات کو سننا شروع کیا جائے۔ ووٹرز کے مختلف طبقوں سے مسلسل ملاقاتوں کے دوران ایک بات واضح ہو گئی، عوام کا اصل مسئلہ معیشت ہے۔ ممدانی نے باقاعدہ میدان میں جا کر یہ سوال اٹھایا کہ کچھ ڈیموکریٹ ووٹرز نے ٹرمپ کو ووٹ کیوں دیا تھا؟ جواب تقریباً ہر جگہ ایک ہی تھا کہ چار سال قبل ٹرمپ کے دور میں مہنگائی نسبتاً کم تھی، زندگی کا خرچ برداشت کے اندر تھا۔

اسی سے ممدانی کی انتخابی مہم کا نعرہ ”قابِل برداشت زندگی“ (افورڈیبلٹی) سامنے آیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے منطقی انداز میں یہ موقف پیش کیا کہ کرایوں کو منجمد کیا جائے اور اس سبسڈی کے لیے امیروں پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے۔ زیادہ تر سیاست دان سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں مگر اب بڑے پیسے سے بنائی گئی منفی مہمات اور اشتہارات بوریت کا باعث بن چکے ہیں۔ امیدواروں کی تیار کردہ تقاریر کو اسٹیج پر کھیلے گئے ڈرامے کے مترادف سمجھا جاتا ہے، جو حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ ممدانی نے اس رجحان کو بدل کر رکھ دیا۔

ممدانی نے حقیقی معنوں میں سڑکوں پر دوڑ لگائی اور سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز جاری کیے جو بے ساختگی، جوش، توانائی اور عوام سے جڑے رہنے کی بھرپور عکاسی کرتے تھے۔ انہوں نے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے ووٹروں سے رابطے کے لیے انگریزی، اردو اور ہسپانوی زبان میں گفتگو کی۔ جن ویڈیوز کا ہدف جنوبی ایشیائی ووٹر تھے، ان میں معروف بالی ووڈ مناظر کو شامل کر کے دل چسپ اور پُرمزاح انداز میں اپنا پیغام پہنچایا گیا۔ ممدانی نے پرانے انداز، دروازوں پر دستک دینا، ہاتھ ملانا، کو جدید طرزِ انتخابی مہم یعنی مختصر، دل چسپ اور وائرل ہونے والی آن لائن ویڈیوز کے ساتھ جوڑ کر ایک نیا راستہ اختیار کیا۔

یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی شہر کے میئر کی ابتدائی انتخابی دوڑ نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ یقیناً، یہ کوئی عام سا شہر نہیں، یہ دنیا کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں اسرائیل کے بعد سب سے بڑی یہودی آبادی رہتی ہے اور ظہران ممدانی نے یہ انتخاب اس کے باوجود جیت لیا کہ انہون نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

وہ بے باک ہے، نڈر ہے اور کسی سے معذرت خواہ نہیں، مگر ان کے انداز میں ایک دلکش وقار اور غیر جارحانہ شائستگی پائی جاتی ہے۔ ان کی خوش مزاجی، مسکراتا چہرہ اور ذرا سا شکن آلود سوٹ اسے ایک عام پیشہ ور انسان کی طرح بناتا ہے، جو صبح دفتر جانے کے لیے تیار ہو۔ ان کی واضح، منطقی اور دانشمندانہ گفتگواور ردعمل کے نتیجے میں ناقدین بھی جواب دینے میں ہچکچانے لگتے ہیں۔ کئی لوگ ان کا موازنہ باراک اوباما کی سیاست میں داخلے سے کرتے ہیں،اوباما بھی افریقی اور مسلم النسل پس منظر سے تھے۔

انہوں نے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شُستہ گو ہونے کی بدولت مقبولیت حاصل کی،انہوں نے بھی امن اور اقتصادی ترقی کی بات کی،اور وہ آگے چل کر امریکہ کے صدر بنے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ وہ امریکی صدور کی تاریخ کے سب سے بڑے اسلحہ فروش ثابت ہوئے۔ تو کیا ظہران ممدانی اسٹیبلشمنٹ اور بڑے سرمایہ دار حلقوں کے دباؤ کے باوجود اپنی اصل اور سچائی پر قائم رہ پائیں گے؟ اس سوال کا جواب صرف وقت دے گا۔

© بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.