BR100 Increased By (0.93%)
BR30 Increased By (1.29%)
KSE100 Increased By (0.64%)
KSE30 Increased By (0.69%)
BAFL 58.71 Increased By ▲ 0.27 (0.46%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.41 (1.21%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 196.00 Increased By ▲ 3.03 (1.57%)
FABL 89.80 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.67 (1.27%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 287.80 Increased By ▲ 2.30 (0.81%)
HUBC 215.79 Increased By ▲ 1.41 (0.66%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.21 Increased By ▲ 0.19 (2.37%)
LOTCHEM 27.98 Increased By ▲ 0.09 (0.32%)
MLCF 87.48 Increased By ▲ 0.97 (1.12%)
OGDC 322.90 Increased By ▲ 2.94 (0.92%)
PAEL 40.06 Increased By ▲ 0.64 (1.62%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.48 (2.88%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 5.94 (2.23%)
PPL 230.25 Increased By ▲ 2.07 (0.91%)
PRL 35.00 Increased By ▲ 0.32 (0.92%)
SNGP 99.40 Increased By ▲ 0.22 (0.22%)
SSGC 26.95 Increased By ▲ 0.35 (1.32%)
TELE 8.69 Increased By ▲ 0.41 (4.95%)
TPLP 8.68 Increased By ▲ 0.46 (5.6%)
TRG 70.17 Increased By ▲ 0.46 (0.66%)
UNITY 11.75 Increased By ▲ 0.08 (0.69%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

مالی سال 2025 میں ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول

  • پاکستان میں ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ سعودی عرب رہا
شائع July 9, 2025 اپ ڈیٹ July 9, 2025 01:35pm

مالی سال 25-2024 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کا حجم 38.3 ارب ڈالر رہا، جو ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ اعداد و شمار بدھ کے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ترسیلات میں 27 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ مالی سال 24-2023 میں یہ رقم 30.25 ارب ڈالر تھی۔


Remittance inflow since Jan 2024

Figures in USD Billion


پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے ریسرچ ہیڈ سمیع اللہ طارق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران موصول ہونے والی سب سے زیادہ ترسیلات زر ہیں۔

انہوں نے اس ریکارڈ کا سہرا سخت ضوابطی اقدامات، منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن اور پاکستانیوں کی بیرون ملک مسلسل ہجرت کو دیا۔

ترسیلاتِ زر نہ صرف ملکی بیرونی کھاتوں کو سہارا دیتی ہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں کو متحرک اور ترسیلات پر انحصار کرنے والے گھروں کی آمدنی میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے بھی اس پیش رفت کو سراہا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایک ایسے سال میں جب معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا تھا، ہمارے اوورسیز پاکستانی آگے بڑھے۔ پاکستان نے مالی سال 2025 میں 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات وصول کیں، جو 27 فیصد اضافہ ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ بنگلہ دیش نے بھی اسی عرصے میں 30 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات وصول کیں، جو 26 فیصد زیادہ ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے یہ ایک بڑا سہارا ہے، جو بیرونی مالی خسارے کو پورا کرنے اور مقامی آمدنی بڑھانے میں مددگار ہے۔

مالی سال 2025 کی یہ ترسیلات حکومتی توقعات سے بھی زیادہ ثابت ہوئیں۔ اپریل 2025 میں، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اندازہ ظاہر کیا تھا کہ سال کے اختتام تک ترسیلات 38 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جو کہ پہلے 36 ارب ڈالر کی پیش گوئی سے زیادہ تھیں۔

جون 2025 کی ماہانہ صورتحال: جون کے مہینے میں ترسیلاتِ زر کا حجم 3.4 ارب ڈالر رہا۔ یہ گزشتہ سال جون کے مقابلے میں 7.9 فیصد زیادہ ہے (جون 2024 میں 3.16 ارب ڈالر تھیں)، تاہم مئی 2025 کے مقابلے میں 8 فیصد کمی آئی (مئی میں 3.69 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے)۔

ممالک کے اعتبار سے ترسیلات:

سعودی عرب سے جون 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات آئیں، جن کا حجم 823 ملین ڈالر رہا — ماہانہ اعتبار سے 10 فیصد کمی، لیکن سالانہ اعتبار سے 2 فیصد اضافہ ہوا۔

متحدہ عرب امارات سے ترسیلات 10 فیصد بڑھ کر 717 ملین ڈالر ہو گئیں، جو کہ گزشتہ سال جون میں 654 ملین ڈالر تھیں۔

برطانیہ سے جون 2025 میں ترسیلات 538 ملین ڈالر رہیں — مئی 2025 کے مقابلے میں 9 فیصد کمی، لیکن سالانہ بنیاد پر 10 فیصد اضافہ ہوا۔

امریکہ سے پاکستانیوں نے جون میں 281 ملین ڈالر بھیجے، جو ماہانہ بنیاد پر 11 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔

Comments

Comments are closed.