BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Increased By (0.28%)
KSE100 Increased By (0.26%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.16 Decreased By ▼ -1.57 (-2.63%)
BIPL 27.23 Increased By ▲ 0.23 (0.85%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 13.11 Increased By ▲ 0.27 (2.1%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.15 (0.82%)
DGKC 213.66 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
FABL 99.56 Increased By ▲ 0.57 (0.58%)
FCCL 58.06 Increased By ▲ 0.40 (0.69%)
FFL 16.23 Increased By ▲ 0.03 (0.19%)
GGL 23.98 Increased By ▲ 0.18 (0.76%)
HBL 338.16 Increased By ▲ 4.45 (1.33%)
HUBC 213.36 Increased By ▲ 1.93 (0.91%)
HUMNL 10.58 Increased By ▲ 0.06 (0.57%)
KEL 7.43 Decreased By ▼ -0.05 (-0.67%)
LOTCHEM 27.67 Decreased By ▼ -0.32 (-1.14%)
MLCF 102.75 Increased By ▲ 2.10 (2.09%)
OGDC 318.92 Decreased By ▼ -1.37 (-0.43%)
PAEL 43.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.05%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 1.27 (0.47%)
PPL 229.45 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 70.80 Decreased By ▼ -0.22 (-0.31%)
SNGP 104.58 Increased By ▲ 2.36 (2.31%)
SSGC 27.41 Increased By ▲ 0.73 (2.74%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.08 (-0.93%)
TPLP 15.76 Increased By ▲ 0.65 (4.3%)
TRG 60.29 Increased By ▲ 0.45 (0.75%)
UNITY 11.72 Decreased By ▼ -0.33 (-2.74%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.03 (-2.44%)
مارکٹس

آخری گھنٹوں میں منافع خوری کا رجحان غالب، 100 انڈیکس معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد ہموار سطح پر بند

  • دورانِ ٹریڈنگ کے ایس ای-100 انڈیکس نے 134,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر لی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے روز کاروباری سیشن کے دوران خاصا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس نے مثبت اور منفی دونوں سمتوں میں حرکت کی اور آخرکار معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔

کاروبار کے ابتدائی گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ کے باعث انڈیکس ایک وقت میں 132,696.35 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔

تاہم جیسے جیسے سیشن آگے بڑھا سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا گیا، اور انڈیکس نے 134,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے انٹرا ڈے بلند ترین سطح 134,200.27 پوائنٹس تک جا پہنچا۔

تاہم آخری گھنٹوں میں منافع خوری کے رجحان نے مارکیٹ کی تیزی کو محدود کر دیا اور دن کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 33.05 پوائنٹس یا 0.02 فیصد اضافے کے ساتھ 133,403.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔

سرمایہ کاری کمپنی این بی پی فنڈز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف کی معاونت سے جاری اصلاحات پر مکمل عمل درآمد کیا گیا تو موجودہ تیزی مزید جاری رہ سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ان اصلاحات میں مالی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ میں توسیع، سرکاری اداروں کی نجکاری، اور سبسڈی کا مرحلہ وار خاتمہ شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات مشکل ضرور ہیں، مگر ملک کی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

قبل ازیں خریداری کا رجحان کئی اہم شعبوں میں دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، سیمنٹ، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اور پاور جنریشن شامل ہیں۔ حبکو، ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل جیسے بڑے اسٹاکز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔

پیر کے روز پی ایس ایکس نے ریکارڈ توڑ تیزی کا مظاہرہ کیا تھا، جہاں کارپوریٹ منافع کی بہتر توقعات، تجارتی دباؤ میں کمی، اور معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث مارکیٹ کا رجحان انتہائی پرجوش تھا۔ کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1,421 پوائنٹس یا 1.08 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 133,370 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر، ایشائی اسٹاک مارکیٹس نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی میں تازہ پیش رفت کو نسبتاً پرسکون انداز میں قبول کیا، جبکہ ڈالر مضبوط رہا اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

وال اسٹریٹ پر حصص کی قیمتیں گر گئیں جب ٹرمپ نے جاپان اور جنوبی کوریا سمیت 14 ممالک کو خط لکھے اور امریکی درآمدات پر مزید بلند ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا — تاہم ان کے اطلاق کو یکم اگست تک مؤخر کر دیا گیا۔

جاپان کا نِکّئی انڈیکس ابتدائی طور پر مندی کا شکار رہا، مگر بعد میں مثبت ہو گیا جب ٹرمپ نے کہا کہ یہ ڈیڈ لائن “فیصلہ کن ہے، مگر 100 فیصد حتمی نہیں، اور بعض ممالک کے لیے ٹیرف میں نرمی کا امکان ظاہر کیا۔

اپریل میں، ٹرمپ نے تمام تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ریفروسل ٹیرف کو 10 فیصد کی حد تک محدود کر دیا تھا تاکہ 9 جولائی تک مذاکرات کا وقت دیا جا سکے۔ اب تک صرف برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ معاہدے طے پا سکے ہیں۔

جون میں، واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ٹیرف ریٹس پر مفاہمت ہوئی تھی، جس سے ان کے درمیان تجارتی جنگ رک گئی۔

جاپان اور جنوبی کوریا پر ٹیرف اب یکم اگست سے 25 فیصد تک بڑھنے والے ہیں۔ جاپانی وزیر اعظم شیگیرو اشیبا نے اس اقدام کو ”انتہائی افسوسناک“ قرار دیا اور کہا کہ وہ امریکہ سے بات چیت جاری رکھیں گے۔

ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک شیئرز کا انڈیکس (جاپان کے علاوہ) ابتدائی تجارت میں 0.2 فیصد بڑھا۔ جاپان کا نِکّئی انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کے او ایس پی آئی انڈیکس 1.5 فیصد اوپر گیا۔

Comments

Comments are closed.