پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار مثبت رہا جہاں پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس ریکارڈ ساز بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
پورے تجارتی سیشن میں مثبت رجحان دیکھا گیا، جس کی بدولت کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 133,862.01 پوائنٹس تک پہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 133,370.14 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، جو 1,421.08 پوائنٹس یا 1.08 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ میں اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اور ریفائنری شامل ہیں۔ انڈیکس میں اہم اسٹاک جیسے کہ اے آر ایل، حبکو، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ای ایف ای آر ٹی، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل سبز زون میں ٹریڈ کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ پی ایس ایکس نے مالی سال 2026 کا آغاز تاریخی سطح سے کیا، اور کے ایس ای 100 انڈیکس نے پہلی بار 130,000 پوائنٹس کی حد عبور کی۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر انڈیکس 131,949 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جو ہفتہ وار 6.1 فیصد اضافہ تھا۔
بروکریج ہائوس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس نے مالی سال 25 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور سرمایہ کاری کے تمام اہم شعبوں میں سب سے آگے رہتے ہوئے 60.15% زبردست منافع دیا ہے۔
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں پیر کے روز قدرے مندی دیکھی گئی، کیونکہ امریکی حکام کی جانب سے ٹیرف میں تاخیر کا اشارہ تو دیا گیا لیکن اس بارے میں کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی گئی، جس سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا ہوئی۔ ادھر اوپیک پلس کی توقع سے زائد تیل کی فراہمی کے اعلان پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ امریکہ آئندہ دنوں میں کئی تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دے گا اور 9 جولائی تک دیگر ممالک کو ٹیرف میں اضافے سے آگاہ کر دے گا، جو یکم اگست سے نافذ ہوں گے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپریل میں بیشتر ممالک پر 10 فیصد بنیادی ٹیرف اور بعض پر 50 فیصد تک ٹیرف کا اعلان کیا تھا، جس کی اصل ڈیڈ لائن اس بدھ مقرر کی گئی تھی۔ تاہم اب ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یہ شرحیں شاید 60 یا 70 فیصد تک جا سکتی ہیں، اور برکس گروپ (برازیل، روس، بھارت اور چین) کی امریکہ مخالف پالیسیوں کی حمایت کرنے والے ممالک پر مزید 10 فیصد ٹیرف بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ کچھ بھی حتمی نہیں، لیکن تجزیہ کار پہلے ہی سمجھتے تھے کہ یہ ڈیڈ لائن مؤخر کی جائے گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ نئی ڈیڈ لائن تمام تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہوگی یا صرف کچھ پر۔
سرمایہ کار اب امریکی تجارتی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کے عادی ہو چکے ہیں، اور اس کا ابتدائی اثر عالمی مارکیٹوں میں محتاط ردعمل کی صورت میں سامنے آیا۔ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک فیوچرز دونوں میں 0.3 فیصد کمی دیکھی گئی۔
یورواسٹاکس 50 فیوچرز 0.1 فیصد، ایف ٹی ایس ای فیوچرز 0.2 فیصد نیچے آئے، جبکہ ڈی اے ایکس فیوچرز مستحکم رہے۔
جاپان کا نِکئی انڈیکس 0.5 فیصد نیچے آیا، جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوئی، جبکہ چین کے بلیو چِپ اسٹاکس میں 0.5 فیصد کمی کے باعث ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے سوا) 0.6 فیصد نیچے آ گیا۔
دریں اثناء انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر مزید گر کر 19 ماہ کی کم ترین سطح 284.22 روپے پر بند ہوا جو کہ 25 پیسے کی کمی ہے۔
تمام حصص کے انڈیکس پر حجم بڑھ کر 919.91 ملین ہوگیا، جو پچھلے بند ہونے والے دن کے 733.08 ملین سے زیادہ ہے۔
شیئرز کی کل قیمت 34.94 ارب روپے سے بڑھ کر 45.31 ارب روپے ہوگئی۔
ایمیج پاکستان سب سے زیادہ حجم رکھنے والی کمپنی رہی جس کے 48.08 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 42.51 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 36.92 ملین شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی۔
پیر کو کل 479 کمپنیوں کے شیئرز کی تجارت ہوئی، جن میں سے 299 کے دام بڑھے، 155 کے دام گر گئے، جبکہ 25 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔



Comments
Comments are closed.