یہ عالمی ماحولیاتی گفتگو کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے جب سی او پی 29 کے میزبانوں کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک سے محض ایک ملاقات کے لیے بھی دوڑ دھوپ کرنا پڑتی ہے — اور پھر بھی خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جس پر اب آذربائیجان کے اہم مذاکرات کار خبردار کر رہے ہیں: دنیا کے نمایاں مالیاتی اداروں کی جانب سے خاموش مگر واضح انداز میں اُن وعدوں سے پیچھے ہٹنا، جن کی تشکیل میں وہ خود شریک تھے۔
یہ کوئی تکنیکی تاخیر یا انتظامی رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام ہے — جو دنیا کے غریب ترین اور سب سے زیادہ کمزور ممالک بخوبی سن اور سمجھ رہے ہیں۔ موسمیاتی مالی معاونت، جو بدلتے موسم کی دنیا میں انصاف کا واحد ذریعہ سمجھی جاتی ہے، خاموشی سے نظرانداز کی جا رہی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے — جو شدید موسمی حالات اور ٹوٹے ہوئے وعدوں کی قیمت دوسروں سے کہیں بہتر جانتے ہیں — یہ صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہونی چاہیے۔
یہ محض دو سال پرانی بات ہے جب تباہ کن سیلاب کے بعد دنیا نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ڈونر کانفرنسیں منعقد ہوئیں، بلند پایہ تقاریر ہوئیں، اور سنجیدہ عزم ظاہر کیا گیا۔ مگر جو امداد اس وقت وعدے کے طور پر کی گئی، اس کا بہت ہی قلیل حصہ حقیقت میں پاکستان تک پہنچ سکا۔ پاکستان کا یہ تجربہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں، بلکہ بدقسمتی سے یہ ایک عالمی روایت بنتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے مالی وعدے اکثر بیوروکریٹک پیچیدگیوں میں گم ہو جاتے ہیں، اور اگر کچھ امداد پہنچتی بھی ہے تو وہ اس قدر شرائط و ضوابط سے جکڑی ہوتی ہے کہ اپنی مؤثریت کھو بیٹھتی ہے۔
اس لمحے کو جو چیز مختلف اور زیادہ خطرناک بناتی ہے، وہ نظریاتی رجحان میں بڑھتی ہوئی تبدیلی ہے۔ حالیہ موسم بہار کی واشنگٹن میٹنگز میں، جب COP29 کے مذاکرات کاروں نے موسمیاتی مالی معاونت پر بات چیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی، تو اطلاعات کے مطابق انہیں سرد رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ سال کیے گئے 300 ارب ڈالر سالانہ کے وعدے کی تجدید کرنے کے بجائے، بڑی معیشتوں کے حکام — خاص طور پر امریکہ — نے گیس جیسے نام نہاد قابلِ بھروسہ ٹیکنالوجیز پر زور دیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ موسمیاتی اہداف کو اب توانائی سے متعلق حقیقت پسندی سے بدل دیا گیا ہے۔
یہ ایک تاریخی درجے کی سنگین غلطی ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک کا صاف، پائیدار اور مؤثر انفرااسٹرکچر کی طرف منتقلی صرف حوصلہ افزائی سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے حقیقی سرمایہ درکار ہے۔ 2035 تک ہر سال 1.3 ٹریلین ڈالر کی جو ضرورت ظاہر کی گئی ہے، وہ محض ایک مذاکراتی مؤقف نہیں بلکہ حقیقت میں موافقت، تدارک اور بقا کی قیمت کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر کثیرالجہتی مالیاتی ادارے اور دنیا کی امیر ترین معیشتیں اس نازک لمحے پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کرتی ہیں، تو اس کے اثرات صرف ماحولیاتی اخراجات تک محدود نہیں رہیں گے؛ یہ غربت میں مزید اضافہ کرے گا، عدم مساوات کو جڑ سے مضبوط کرے گا، اور نازک ریاستوں کو بحران کی طرف دھکیل دے گا۔
یہ معاملہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ بنیادی اخلاقی تقاضا بھی ہے، وہ ممالک جو آج موسمیاتی مالی معاونت سے گریز کررہے ہیں، دراصل وہی ہیں جنہوں نے صدیوں تک کاربن پر مبنی ترقی کی بنیاد پر اپنی خوشحالی قائم کی۔ فضائی کاربن بجٹ کا بڑا حصہ صنعتی دنیا نے استعمال کر لیا ہے۔ اب اگر یہ ممالک نتائج کی ذمہ داری لینے کے بجائے بے حسی کا مظاہرہ کریں، جبکہ ان کے اقدامات کا خمیازہ غریب ترین ممالک بھگتیں، تو یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ ایک ناقابلِ برداشت رویہ ہے۔
پاکستان دیگر گلوبل ساؤتھ ممالک کی طرح، اس قیمت کی ادائیگی پہلے ہی شروع کرچکا ہے۔ اس کی ترقی کے اپنے خواب بار بار شدید موسمی حالات اور ناقابلِ برداشت قرضوں کے دہرے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ وہ طویل المدتی پائیداری میں سرمایہ کاری نہیں کرسکتا جبکہ اُسے بحالی کے لیے سخت شرائط پر قرض لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی مالی معاونت پر ہونے والی گفتگو اتنی اہم ہے — یہ صرف اخراجات میں کمی کی بات نہیں، بلکہ بقا کی مالی شرائط کو نئے سرے سے متعین کرنے کا معاملہ ہے۔
دنیا کو اب مزید اعلانات کی نہیں، بلکہ عملی نفاذ کے نظام کی ضرورت ہے۔ اسے ایسے لازمی فریم ورک چاہییں جو قابلِ بھروسہ ترسیلی ذرائع کے ساتھ وابستہ ہوں، اور بین الاقوامی مالیاتی ترجیحات کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔ اس کے لیے قیادت درکار ہے — صرف ماحولیاتی وزارتوں یا ماحول سے متعلق اداروں کی نہیں، بلکہ خزانے کی وزارتوں اور مرکزی بینکوں کی بھی۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کو ان کے اپنے طے شدہ مینڈیٹ کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
اس کے برعکس ایک ایسا عالمی نظام سامنے آرہا ہے جہاں امیر ممالک صرف خود کو محفوظ رکھتے ہیں اور غریب ملک دہری قیمت چکاتے ہیں: پہلے جان و مال کے نقصان سے، اور پھر قرضوں کے بوجھ سے۔ ایسا مستقبل کسی کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.