ایران پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے، خامنہ ای
- آیت اللہ علی خامنہ ای جنگ بندی کے بعد پہلی بار منظرِ عام پر آئے
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اگر امریکہ نے مستقبل میں ایران پر کوئی حملہ کیا تو ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرے گا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں سامنے آیا ہے۔
86 سالہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران پر کسی بھی حملے کی ”بھاری قیمت“ چکانا پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے قطر میں واقع خطے کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے کو اس وقت نشانہ بنایا جب امریکہ نے اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا۔ اس نے خطے کے ایک اہم امریکی اڈے پر حملہ کیا۔
ان کا یہ ریکارڈ شدہ بیان سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔ گزشتہ بیان کی طرح، جو اسرائیلی بمباری کے 12 دنوں کے دوران ایک ہفتہ قبل جاری ہوا تھا، وہ اس بار بھی ایک نامعلوم مقام سے بول رہے تھے، جہاں ان کے پیچھے ایک بھورا پردہ، ایرانی پرچ، اور ان کے پیش رو روح اللہ خمینی کی تصویر موجود تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ کو خطے میں موجود اہم امریکی مراکز تک رسائی حاصل ہے اور وہ جب ضروری سمجھے ان کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ یہ ایک بڑا واقعہ ہے اور اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو یہ واقعہ مستقبل میں دوبارہ بھی پیش آ سکتا ہے۔
ادھر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بدھ کے روز جب یہ پوچھا گیا کہ اگر ایران نے اپنا جوہری افزودگی پروگرام دوبارہ شروع کیا تو کیا امریکہ دوبارہ حملہ کرے گا انہوں نے مختصر جواب میں کہا کہ یقیناً دوبارہ حملہ ہوگا۔


Comments
Comments are closed.