روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آئندہ ماہ برازیل میں ہونے والی برکس کانفرنس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے باعث برازیل کا سفر نہیں کریں گے۔ یہ بات کریملن نے بدھ کے روز بتائی ہے۔
دی ہیگ میں قائم آئی سی سی نے پیوٹن کے خلاف یوکرینی بچوں کی مبینہ غیرقانونی ملک بدری کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھا ہے، جو 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔
کریملن کے ترجمان یوری اُشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ پیوٹن 6 اور 7 جولائی کو ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ آئی سی سی کی شرائط کے تناظر میں بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
پیوٹن اکثر برکس تنظیم کو عالمی سطح پر مغربی بالادستی کے خلاف ایک توازن قائم کرنے والی قوت کے طور پر سراہتے ہیں۔
برازیل، روس، بھارت اور چین جیسے بانی ممالک کے نام پر مشتمل یہ ایک غیر رسمی اتحاد ہے جس کے رکن ممالک تجارت اور تعاون کو فروغ دینے کا عزم کرتے ہیں تاہم یہ کوئی تجارتی معاہدہ نہیں اور اس کی ادارہ جاتی بنیادیں بھی بہت کمزور ہیں۔
برازیل آئی سی سی کا رکن ہے اور اسی لیے اگر پیوٹن سربراہی اجلاس کے لیے سفر کرتے تو برازیل پر لازم ہوتا کہ وہ وارنٹ گرفتاری پر عمل کرے۔
کریملن کے سربراہ نے گزشتہ سال منگولیا کا ایک نمایاں دورہ کیا تھا جو ان کے خلاف جاری گرفتاری وارنٹ کی کھلی مخالفت تصور کی گئی — یہ آئی سی سی کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد کسی رکن ملک کا ان کا پہلا دورہ تھا۔
ہیگ میں قائم عدالت اور یورپی یونین نے پوتن کو منگولیا آنے دینے پر اُلان باتور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔


Comments
Comments are closed.