BR100 Increased By (1.26%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.12%)
KSE30 Increased By (1.13%)
BAFL 57.78 Increased By ▲ 0.58 (1.01%)
BIPL 27.30 Increased By ▲ 0.41 (1.52%)
BOP 34.53 Increased By ▲ 0.84 (2.49%)
CNERGY 10.96 Increased By ▲ 0.35 (3.3%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.43 (2.38%)
DGKC 211.50 Increased By ▲ 1.60 (0.76%)
FABL 101.40 Increased By ▲ 2.45 (2.48%)
FCCL 54.35 Increased By ▲ 0.61 (1.14%)
FFL 16.86 Increased By ▲ 0.40 (2.43%)
GGL 23.95 Increased By ▲ 0.13 (0.55%)
HBL 305.32 Increased By ▲ 2.90 (0.96%)
HUBC 221.95 Increased By ▲ 3.01 (1.37%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.44 Increased By ▲ 0.16 (2.2%)
LOTCHEM 30.07 Increased By ▲ 0.42 (1.42%)
MLCF 97.00 Increased By ▲ 0.64 (0.66%)
OGDC 321.40 Increased By ▲ 3.18 (1%)
PAEL 42.52 Increased By ▲ 0.75 (1.8%)
PIBTL 17.00 Increased By ▲ 0.19 (1.13%)
PIOC 299.90 Increased By ▲ 3.28 (1.11%)
PPL 223.30 Increased By ▲ 3.13 (1.42%)
PRL 52.80 Increased By ▲ 3.75 (7.65%)
SNGP 107.25 Increased By ▲ 1.12 (1.06%)
SSGC 29.54 Increased By ▲ 0.40 (1.37%)
TELE 8.92 Increased By ▲ 0.10 (1.13%)
TPLP 12.84 Increased By ▲ 0.33 (2.64%)
TRG 60.79 Increased By ▲ 0.57 (0.95%)
UNITY 10.25 Increased By ▲ 0.23 (2.3%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)

چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ کے ساتھ باہمی احترام، مشترکہ تزویراتی مفادات اور اقتصادی باہمی انحصار پر مبنی ایک وسیع اور کثیرالجہتی تعلقات کے بے پناہ امکانات کو اجاگر کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکا کے سرکاری دورے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واشنگٹن ڈی سی میں سینئر اسکالرز، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندہ اداروں کے ساتھ جامع اور بامعنی مکالمہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی تھنک ٹینکس اور تزویراتی امور سے وابستہ اداروں کے نمایاں نمائندوں سے ملاقات نے پاکستان کو علاقائی اور عالمی اہم امور پر اپنے اصولی مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے اور اپنی تزویراتی حکمت عملی کو بہتر طور پر اجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور امریکہ کے طویل مدتی تعلقات کا جائزہ بھی لیا گیا، اس موقع پر فیلڈ مارشل نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی ہم آہنگی خصوصاً انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور اقتصادی ترقی جیسے شعبوں کو اجاگر کیا،

مزید برآں فیلڈ مارشل نے معرکۂ حق اور ”آپریشن بنیان مرصوص“ کی تفصیلات اور تجزیے کا حوالہ دیا اور دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے نقطہ نظر کو واضح کیا۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بعض علاقائی عناصر دہشت گردی کو ہائبرڈ وارفیئر کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس کی سرپرستی اور تسلسل میں ملوث ہیں، جو خطے میں بدامنی کا باعث بن رہے ہیں۔

آرمی چیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور اس نے ایک زیادہ محفوظ اور مستحکم دنیا کے لیے انسانی جانوں اور معاشی وسائل کی صورت میں گراں قدر قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی قابلِ ذکر مگر تاحال غیر استعمال شدہ صلاحیتوں پر روشنی ڈالی، بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، اور معدنیات و کان کنی کے شعبوں میں موجود وافر مگر کم استعمال شدہ وسائل کو اجاگر کیا۔

آرمی چیف نے بین الاقوامی شراکت داروں کو ان شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی تاکہ باہمی خوشحالی کے دروازے کھولے جاسکیں۔

جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات میں پاکستان کی علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط انسدادِ دہشت گردی تعاون کی تعریف کی۔

ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے قیام میں صدر ٹرمپ کے تعمیری اور نتیجہ خیز کردار پر پاکستان کی گہری قدردانی کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت اور عالمی برادری کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت کو سراہا۔

Comments

Comments are closed.