پاکستان کے جوڈیشل کمیشن (جے سی پی) نے جمعرات کے روز سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کی منظوری دے دی۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں 30 نومبر 2025 تک توسیع کی گئی ہے، جب کہ سندھ ہائی کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت میں 23 جولائی 2025 سے مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ نئی نامزدگیاں اور تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں: جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس جعفر رضا کو نیا رکن نامزد کیا گیا ہے، جبکہ جسٹس آغا فیصل اور جسٹس ثناء اکرم منہاس کو بینچ سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔
یہ آئینی بینچز 26ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد قائم کی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ میں مختلف آئینی بینچز کے ججز کے انتخاب کے لیے آئین کے آرٹیکل 191-A کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے ہیں اور جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس علی مظہر شامل ہیں۔
فی الوقت سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں ججز کی کل تعداد 15 ہے، جن میں پنجاب سے 4 ججز ہیں: جسٹس امین الدین، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس شاہد بلال حسن، اور جسٹس علی باقر نجفی۔ جبکہ سندھ سے 4 ججز: جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس عقیل احمد عباسی، اور جسٹس صلاح الدین پنہور، خیبر پختونخوا سے 3 ججز: جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس شکیل احمد، اور جسٹس اشتیاق ابراہیم، بلوچستان سے 3 ججز: جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان، اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اوراسلام آباد سے ایک جج جسٹس عامر فاروق شامل ہیں
سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کی دو میٹنگز منعقد ہوئیں، جن کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان نے کی۔ پہلی میٹنگ کا ایجنڈا تھا: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں توسیع *اور آئین کے آرٹیکل 175A (20) کے تحت ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کے مؤثر معیار مقرر کرنے کے لیے قواعد سازی سے متعلق پالیسی فیصلہ۔
دوسری میٹنگ میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کی مدت پر غور کیا گیا۔
چیف جسٹس نے ہائی کورٹس کے ججز کی سالانہ عدالتی کارکردگی کے جائزے کے لیے ایک وسیع البنیاد کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے، جس میں عدلیہ، پارلیمنٹ، انتظامیہ، اور قانونی برادری کے نمائندگان شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کے لیے مسودہ قواعد تیار کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.