ترک صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسرائیل کی جاری بمباری کے پیش نظر ایران کو اپنے دفاع کا ”فطری، قانونی اور جائز حق“ حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی غنڈہ گردی اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف ایران کا دفاع کرنا ایک بالکل فطری، جائز اور قانونی حق ہے۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب اردوان نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو خطے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے جمعے کی صبح شروع ہونے والی طویل فاصلے تک مار کرنے والی شدید بمباری کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں ہائپر سونک میزائل بھی شامل تھے۔
صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ یہ حملے اُس وقت منظم کیے گئے جب ایرانی جوہری مذاکرات جاری تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل، جو خود جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور کسی بین الاقوامی قانون کو نہیں مانتا، نے مذاکرات کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا بلکہ نتائج کا انتظار کیے بغیر دہشت گردی کی کارروائی کر ڈالی۔
ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 224 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کا ہدف جوہری اور فوجی تنصیبات رہی ہیں، جبکہ نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا ہے کہ ایرانی فائرنگ سے اسرائیل میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
صدر اردوان نے کہا کہ ہم اسرائیل کے ایران پر دہشت گردانہ حملوں کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے تمام ادارے ترکیہ پر ان حملوں کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر مکمل چوکس ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر ممکنہ منظر نامے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔
اردوان نے خبردار کیا کہ کوئی بھی ہماری صلاحیتوں کو آزمانے کی جرات نہ کرے۔
پیر کو اردوان نے کہا تھا کہ انہوں نے دفاعی صنعت کو درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی جنگ کے پیش نظر ترکیہ کی روک تھام کی صلاحیت کو مضبوط کیا جا سکے۔


Comments
Comments are closed.