BR100 Increased By (2.8%)
BR30 Increased By (3.57%)
KSE100 Increased By (2.38%)
KSE30 Increased By (2.44%)
BAFL 57.80 Decreased By ▼ -0.32 (-0.55%)
BIPL 23.77 Increased By ▲ 0.39 (1.67%)
BOP 30.90 Increased By ▲ 2.81 (10%)
CNERGY 11.97 Increased By ▲ 0.23 (1.96%)
DFML 15.27 Increased By ▲ 0.21 (1.39%)
DGKC 195.01 Increased By ▲ 9.98 (5.39%)
FABL 92.09 Decreased By ▼ -0.70 (-0.75%)
FCCL 56.78 Increased By ▲ 2.32 (4.26%)
FFL 13.34 Increased By ▲ 0.27 (2.07%)
GGL 18.38 Increased By ▲ 0.68 (3.84%)
HBL 295.44 Increased By ▲ 9.28 (3.24%)
HUBC 204.17 Increased By ▲ 6.93 (3.51%)
HUMNL 8.65 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
KEL 6.00 Increased By ▲ 0.37 (6.57%)
LOTCHEM 24.37 Increased By ▲ 0.54 (2.27%)
MLCF 97.49 Increased By ▲ 4.51 (4.85%)
OGDC 310.47 Increased By ▲ 6.84 (2.25%)
PAEL 33.07 Increased By ▲ 1.16 (3.64%)
PIBTL 13.15 Increased By ▲ 0.41 (3.22%)
PIOC 252.91 Increased By ▲ 12.50 (5.2%)
PPL 217.17 Increased By ▲ 4.26 (2%)
PRL 85.66 Increased By ▲ 1.32 (1.57%)
SNGP 94.12 Increased By ▲ 4.09 (4.54%)
SSGC 23.32 Increased By ▲ 0.49 (2.15%)
TELE 6.73 Increased By ▲ 0.23 (3.54%)
TPLP 12.67 Increased By ▲ 0.68 (5.67%)
TRG 53.17 Increased By ▲ 1.70 (3.3%)
UNITY 7.77 Increased By ▲ 0.19 (2.51%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز ٹیلی ویژن پر جاری بیان میں کہا کہ تہران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ قبول نہیں کرے گا۔ خامنہ ای کا یہ بیان اینکر نے پڑھ کر سنایا۔

جمعے کے بعد اپنے پہلے بیان میں، جب انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد سرکاری میڈیا پر خطاب کیا تھا، خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پر امن اور نہ ہی جنگ زبردستی مسلط کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عقلمند لوگ جو ایران، ایرانی قوم اور اس کی تاریخ کو جانتے ہیں، وہ کبھی اس قوم سے دھمکی آمیز زبان میں بات نہیں کریں گے کیونکہ ایرانی قوم ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو جان لینا چاہیے کہ کسی بھی امریکی فوجی مداخلت کے ساتھ بلا شبہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

اسرائیل کی جانب سے شب بھر بمباری کے بعد بدھ کے روز تہران سے ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے تھے ۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ ان آپشنز پر غور کر رہے ہیں جن میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ بھی شامل ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ 50 اسرائیلی طیاروں نے تہران میں تقریباً 20 اہداف کو نشانہ بنایا جن میں میزائلوں کے لیے خام مال، پرزے اور مینوفیکچرنگ سسٹمز تیار کرنے والے مراکز شامل تھے۔

ایک باخبر ذریعے کے مطابق، ٹرمپ اور ان کی ٹیم متعدد آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کے جوہری مقامات پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ حملے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے سفیر علی بحرینی نے کہا کہ ایران نے واشنگٹن کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اگر امریکہ نے کسی بھی طور پر براہِ راست حملے میں شرکت کی، تو ایران اس کا جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی امریکہ کو اسرائیل کی کارروائیوں میں شریک تصور کر رہے ہیں۔

Comments

Comments are closed.