BR100 Increased By (1.5%)
BR30 Increased By (1.4%)
KSE100 Increased By (1.33%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 57.80 Increased By ▲ 0.60 (1.05%)
BIPL 27.39 Increased By ▲ 0.50 (1.86%)
BOP 34.55 Increased By ▲ 0.86 (2.55%)
CNERGY 10.91 Increased By ▲ 0.30 (2.83%)
DFML 18.44 Increased By ▲ 0.39 (2.16%)
DGKC 212.87 Increased By ▲ 2.97 (1.41%)
FABL 101.98 Increased By ▲ 3.03 (3.06%)
FCCL 54.75 Increased By ▲ 1.01 (1.88%)
FFL 16.79 Increased By ▲ 0.33 (2%)
GGL 24.20 Increased By ▲ 0.38 (1.6%)
HBL 306.50 Increased By ▲ 4.08 (1.35%)
HUBC 222.15 Increased By ▲ 3.21 (1.47%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 30.08 Increased By ▲ 0.43 (1.45%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 1.09 (1.13%)
OGDC 322.19 Increased By ▲ 3.97 (1.25%)
PAEL 42.80 Increased By ▲ 1.03 (2.47%)
PIBTL 17.21 Increased By ▲ 0.40 (2.38%)
PIOC 302.75 Increased By ▲ 6.13 (2.07%)
PPL 223.87 Increased By ▲ 3.70 (1.68%)
PRL 52.50 Increased By ▲ 3.45 (7.03%)
SNGP 108.15 Increased By ▲ 2.02 (1.9%)
SSGC 29.69 Increased By ▲ 0.55 (1.89%)
TELE 8.98 Increased By ▲ 0.16 (1.81%)
TPLP 13.05 Increased By ▲ 0.54 (4.32%)
TRG 60.62 Increased By ▲ 0.40 (0.66%)
UNITY 10.19 Increased By ▲ 0.17 (1.7%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
پاکستان

ٹیکس فراڈ: سزائیں نرم کرنے پر غور، وزیر خزانہ نے نظرثانی کا عندیہ دیدیا

  • ٹیکس فراڈ پر 10 سال قید کی سزا بہت سخت ہے اور اسے کم کیا جانا چاہیے، سینیٹ کمیٹی کی سفارش
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت فنانس بل 26-2025 کے تحت ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کے لیے سزاؤں، بشمول جرمانہ، گرفتاری اور قید، کا ازسرنو جائزہ لے گی۔

یہ یقین دہانی انہوں نے فنانس بل 26-2025 کے جائزے کے دوران کمیٹی کو کروائی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ اس قانون سازی کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم کو پیش کریں گے۔ کمیٹی کا مؤقف تھا کہ ان سفارشات پر عملدرآمد ہی حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی نے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی تجویز پر سیکشن 37A (اختیارات برائے تحقیقات اور مقدمات کی پیروی) اور سیکشن 37AA (گرفتاری کے اختیارات) میں ترمیم شدہ مسودہ منظور کر لیا۔

ان دفعات کا ترمیم شدہ متن ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (پالیسی) نے کمیٹی کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ ٹیکس فراڈ پر 10 سال قید کی سزا بہت سخت ہے اور اسے کم کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے تجویز دی کہ قید کی مدت 10 سال سے کم کرکے 5 سال کر دی جائے۔

کچھ اراکین نے جرمانہ 1 کروڑ روپے سے کم کرکے 50 لاکھ روپے کرنے کی بھی تجویز دی۔

کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس فراڈ کو قابل ضمانت جرم قرار دیا جائے۔ ایف بی آر کا مقصد ٹیکس دہندہ سے ریکوری ہونا چاہیے، اور دو سال قید کی سزا ہی کافی سخت ہے۔

”ٹیکس فراڈ پر سزائیں، جرمانے اور تعزیرات“ کے حوالے سے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے متعدد قانونی اصلاحات تجویز کیں، جن میں جرمانہ 1 کروڑ روپے سے کم کرکے 50 لاکھ، سزا 10 سال سے کم کرکے 5 سال، مقدمے سے قبل تین الگ الگ نوٹسز کا اجرا، ہائی کورٹ کو اپیل کا فیصلہ 60 دن میں کرنے کی پابندی، اور انکوائری، تفتیش اور عدالتی کارروائی کے مراحل کو الگ الگ رکھنا شامل ہے۔

سینیٹر فاروق نائیک نے زور دیا کہ ایک کاروباری شخص کے لیے دو سال قید کی سزا بھی سخت ہے، دس سال بہت زیادہ ہیں۔ سزائیں متناسب ہونی چاہئیں اور سیاسی بنیادوں پر نہیں دی جانی چاہئیں۔

ان کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ٹیکس قوانین کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

کمیٹی نے سینیٹر فاروق نائیک کی قانونی مہارت اور شق بہ شق رہنمائی کو سراہا، جس سے بل کے قانونی ڈھانچے کی تیاری میں مدد ملی۔

کمیٹی نے اس تجویز کو بھی مسترد کر دیا جس کے تحت ٹیکس فراڈ میں گرفتار کسی شخص سے ٹیکس نقصان کے برابر 100 فیصد جرمانہ اور ڈیفالٹ سرچارج بھی وصول کیا جانا تھا۔

موجودہ مجوزہ قانون کے تحت، ٹیکس فراڈ کا مرتکب کوئی بھی شخص 10 سال تک قید، 1 کروڑ روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزاؤں کا مستحق ہوگا، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ٹیکس نقصان کے برابر رقم، 100 فیصد جرمانہ اور ڈیفالٹ سرچارج بھی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.