امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف فوری طور پر لگانے کی دھمکی واپس لے لی اور مذاکرات کی آخری تاریخ 9 جولائی تک بڑھانے پر رضا مندی ظاہر کی جس کا اعلان اس وقت ہوا جب یورپی کمیشن کی سربراہ نے معاہدہ طے پانے کے لیے مزید وقت کی درخواست کی، یورپی یونین کے ایگزیکٹو ادارے کی سربراہ نے کہا کہ بلاک کو بہتر معاہدہ طے کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
جمعہ کو ٹرمپ نے تجارتی مذاکرات کی سست روی پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی تجارتی جنگ کو تیز کرنے کی دھمکی دی اور اعلان کیا کہ یکم جون سے سخت درآمدی محصولات لاگو کیے جائیں گے، جس کے باعث عالمی مارکیٹوں میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا۔
ٹرمپ نے یورپی کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈیئر لائن کے فون کال پر نرم رویہ اختیار کیا، جنہوں نے انہیں بتایا کہ یورپی یونین کو معاہدہ طے کرنے کے لیے اضافی وقت درکار ہے اور ٹیرف کی شروعات کی آخری تاریخ جولائی تک ملتوی کرنے کی درخواست کی جو ٹرمپ نے اپریل میں نئے ٹیرف کے اعلان کے وقت مقرر کی تھی۔
ٹرمپ نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے یورپی یونین کی درخواست منظور کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارزولا فان ڈیئر لائن نے وعدہ کیا کہ ہم جلد از جلد ملاقات کرکے کوئی حل تلاش کریں گے، اس کے جواب میں وان ڈیر لین نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ یورپی یونین تجارتی مذاکرات کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ارزولا فان ڈیئر لائن نے اتوار کو ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ فون پر مثبت گفتگو ہوئی۔
واضح رہے کہ اپریل کے آغاز میں ٹرمپ نے یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کیلئے 90 روز کا وقت مقرر کیا تھا جو 9 جولائی کو ختم ہونا تھا۔


Comments
Comments are closed.