اسرائیلی فضائیہ کے تازہ حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں کم از کم 146 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ اعداد و شمار فلسطینی محکمہ صحت نے ہفتے کے روز بتائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل جلد ایک اور زمینی جارحیت کا آغاز کرنے والا ہے۔
جمعرات سے جاری بمباری، مارچ میں جنگ بندی کے خاتےکے بعد سے اب تک کا سب سے خونریز مرحلہ ثابت ہوئی ہے۔ تازہ حملے ایسے وقت کئے گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو مشرقِ وسطیٰ کا دورہ بغیر کسی جنگ بندی کی پیش رفت کے مکمل کیاہے۔
شمالی غزہ کے انڈونیشین اسپتال کے ڈائریکٹر مروان السُلطان نے کہا ہے کہ “آدھی رات سے اب تک ہمارے پاس 58 شہداء کی لاشیں لائی گئی ہیں جبکہ بہت سے لوگ ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اسپتال کے اندر صورتحال تباہ کن ہے۔
مقامی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 459 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں کارروائیوں کو وسعت دینے اور فلسطینی علاقے کے بعض حصوں پر ”عملی کنٹرول“ حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فضائی حملے اور فوجی کارروائی کر رہی ہے۔
غزہ کا نظامِ صحت تقریباً مفلوج ہو چکا ہے، جہاں 19 ماہ سے جاری جنگ کے دوران اسپتال بار بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے ہیں اور مارچ سے محاصرہ سخت ہونے کے بعد طبی سامان بھی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
یہ کشیدگی، جس میں سرحد کے ساتھ بکتر بند فورسز کی تعیناتی بھی شامل ہے، ”آپریشن جدعون کی گاڑیاں“ (آپریشن جدعونز ویگنز ) کے ابتدائی مراحل کا حصہ ہے۔ اسرائیل کے مطابق اس کارروائی کا مقصد حماس کو شکست دینا اور یرغمالیوں کو بازیاب کرانا ہے۔
ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے رواں ماہ کے آغاز میں بتایا تھا کہ یہ آپریشن امریکی صدر ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کی تکمیل سے پہلے شروع نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کو کہا ہے کہ ہم بتدریج اپنی فوجی قوت میں اضافہ کر رہے ہیں؛ حماس اب بھی ڈٹی ہوئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے، کیونکہ اسرائیل نے 76 دن قبل امدادی سامان کی ترسیل بند کر دی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے امدادی سربراہ، ٹام فلیچر، نے اس ہفتے سلامتی کونسل سے سوال کیا کہ کیا وہ ”نسل کشی کو روکنے“ کے لیے کوئی اقدام کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو غزہ میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران اور امداد کی فوری ضرورت کو تسلیم کیا، جبکہ اسرائیل پر جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور محاصرہ ختم کرنے کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
امریکا کی حمایت یافتہ ایک فاؤنڈیشن نے مئی کے آخر تک غزہ میں امداد تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے نجی امریکی سیکیورٹی اور لاجسٹکس کمپنیوں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ نے اس منصوبے کے ساتھ کام کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ یہ ادارہ غیر جانبدار، غیر سیاسی اور خود مختار نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے 5 مئی کو اعلان کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے خلاف ایک وسیع اور بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس کی منظوری ان کی سیکیورٹی کابینہ نے دے دی ہے۔ ان منصوبوں میں پورے غزہ پر قبضہ اور امدادی سامان پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
جمعے کے روز اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے علاقے بیت لاحیہ اور جبالیہ مہاجر کیمپ پر شدید بمباری کے بعد شہریوں کو جنوب کی جانب منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ تاہم مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک جنوبی شہر خان یونس کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔
اس فوجی مہم نے اس چھوٹے اور گنجان آباد علاقے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ غزہ کی محکمہ صحت کے مطابق اب تک 53,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں اور تقریباً پوری 20 لاکھ کی آبادی اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے جمعے کو پانچ مختلف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت غزہ کے تقریباً 10 لاکھ فلسطینیوں کو مستقل طور پر لیبیا منتقل کیا جا سکتا ہے۔
فلسطینی قیادت، بشمول حماس اور صدر محمود عباس کی حریف اتھارٹی، اپنی سرزمین سے عوام کی جبری بے دخلی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
علاوہ ازیں ایک اور رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام میں کہا کہ انہوں نے نئے آپریشن کے تحت کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔
فوج نے عربی میں جاری کردہ ایک پیغام میں کہا کہ یہ آپریشن غزہ پٹی میں جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کا حصہ ہے جس کا مقصد جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنا ہے جن میں اغوا شدگان کی رہائی اور حماس کی شکست شامل ہے۔
انگلش میں جاری علیحدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج غزہ پٹی کے علاقوں میں عملی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنے دستے متحرک کررہی ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ جمعہ کو اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 100 افراد شہید ہوگئے جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ پٹی میں 150 سے زائد دہشت گردی کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے مارچ 18 کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی، جو کہ حماس کے خلاف جاری جنگ میں دو ماہ کے جنگ بندی کے بعد ہوئی۔ یہ جنگ بندی اکتوبر 2023 میں فلسطینی گروپ کے حملے کے بعد نافذ کی گئی تھی۔
یہ تازہ ترین آپریشن اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر غزہ پر عائد سخت امدادی محاصرے کو ختم کرنے کے لیے بڑھتا ہوا دباؤ ہے کیونکہ غیر سرکاری تنظیمیں خوراک، صاف پانی، ایندھن اور دوائیوں کی سنگین کمی کی وارننگ دے رہی ہیں۔
18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے جمعہ کو ان تازہ حملوں کی نہ صرف مذمت کی بلکہ انہیں مقامی آبادی کو مستقل طور پر بے گھر کرنے کی واضح کوشش بھی قرار دیا ہے۔


Comments
Comments are closed.