BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
دنیا

اسرائیل کے غزہ پر تباہ کن حملے جاری، لوگ بھوک سے مررہے ہیں، ٹرمپ

  • جمعرات کی صبح سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران 250 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملوں میں جمعرات کی صبح سے اب تک 250 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد وشمارفلسطینی محکمہ صحت نے جمعے کے روز بتائی ہے۔ مارچ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یہ بمباری کا سب سے تباہ کن مرحلہ ہے جبکہ عنقریب ایک اور زمینی جارحیت جلد شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے جمعے کو مشرق وسطیٰ کا دورہ کسی نئی جنگ بندی کی واضح پیش رفت کے بغیر مکمل کیا، نے غزہ میں بڑھتے ہوئے بھوک کے بحران اور امدادی سامان کی فراہمی کی ضرورت کو تسلیم کیا۔

انہوں نے کہا کہ “ہمیں فلسطینیوں کی بھی مدد کرنی ہے۔ آپ جانتے ہیں، غزہ میں بہت سے لوگ بھوکے مر رہے ہیں، اس لیے ہمیں دونوں طرف دیکھنا ہو گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسرائیل کے جنگی منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں، تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ آئندہ ماہ کے دوران ”اچھے نتائج“ کی توقع رکھتے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان خلیل الدقران کے مطابق جمعے کے روز فضائی اور توپ خانے کے حملے اس چھوٹے اور گنجان آباد علاقے کے شمالی حصے پر مرکوز رہے، جہاں رات بھر کی بمباری میں درجنوں افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شہید ہوئے۔

بین الاقوامی دباؤ کے باوجود، جو اسے جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے پر مجبور کر رہا ہے، اسرائیل اپنی بمباری میں شدت لے آیا ہے اور سرحد پر بکتر بند افواج بھی تعینات کر دی ہیں جبکہ غزہ میں قحط کے خطرات کی گونج بڑھتی جا رہی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے 5 مئی کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل حماس کے خلاف ایک وسیع اور شدید کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جسے اُن کی سیکیورٹی کابینہ نے منظور کیا ہے۔ اس منصوبے میں ممکنہ طور پر پورے غزہ پر قبضہ اور امداد کی ترسیل کا مکمل کنٹرول شامل ہے۔

ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے اس وقت کہا تھا کہ یہ کارروائی اُس وقت تک شروع نہیں کی جائے گی جب تک کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کا اپنا دورہ مکمل نہ کر لیں، جو جمعہ کو ختم ہونے کی توقع تھی۔

اسرائیلی جارحیت نے اس چھوٹے سے محصور علاقے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جہاں غزہ کی محکمہ صحت کے مطابق 53,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں اور تقریباً تمام باشندے اپنے گھروں سے بےدخل ہو چکے ہیں جبکہ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ناکہ بندی نے ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

جمعے کے روز شمالی قصبے بیت لاحیہ اور جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں شدید بمباری کی اطلاعات موصول ہوئیں، جہاں فلسطینی ایمرجنسی سروسز کے مطابق کئی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

اسرائیل نے بیت لاحیہ پر پمفلٹ گرائے جن میں تمام رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا، چاہے وہ خیموں میں رہتے ہوں، پناہ گاہوں میں یا عمارتوں میں۔ پمفلٹ میں درج ہے ”فوراً جنوب کی طرف روانہ ہو جائیں۔“

مقامی رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی ٹینک جنوبی شہر خان یونس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے غزہ بھر میں 150 سے زائد عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

جبالیہ میں رات کی بمباری کے بعد مرد دھاتی چادریں نکالتے ہوئے ملبے کے ڈھیر میں سے کچھ تلاش کرتے نظر آئے جبکہ چھوٹے بچے ملبے پر گرتے پڑتے چڑھ رہے تھے۔

تقریباً 10 شہدا کے اجساد خاکی سفید چادروں میں لپٹے ہوئے زمین پر قطار میں رکھے گئے تھے تاکہ انہیں اسپتال منتقل کیا جا سکے۔ خواتین وہاں بیٹھی رو رہی تھیں، اس دوران ایک خاتون نے ایک چادر کا کونا اٹھا کر شہید کے چہرے کا دیدار کیا۔

فادی تمبورا نے رات کے حملے سے بنے ایک گڑھے کے پاس بیٹھے روتے ہوئے کہا کہ ”میں آج کہاں جاؤں؟ مغربی غزہ؟ وہاں بمباری ہو رہی ہے۔ جنوب؟ وہاں خان یونس میں لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔ دیر البلح؟ وہاں بھی بمباری ہو رہی ہے۔ میں، میرے بچے اور میرا خاندان، ہم کہاں جائیں؟“

غزہ شہر کے رہائشی اسماعیل، جنہوں نے صرف اپنا پہلا نام بتایا، نے خوفناک رات کی داستان سنائی: ”فضائی حملوں اور ٹینکوں کی گولہ باری کے باعث ہونے والے مسلسل دھماکے جنگ کے ابتدائی دنوں کی یاد دلاتے رہے۔ ہمارے پیروں تلے زمین لرزتی رہی۔“

انہوں نے رائٹرز کو چیٹ ایپ کے ذریعے بتایا، ”ہم نے سوچا تھا ٹرمپ ہمیں بچانے آیا ہے لیکن لگتا ہے نیتن یاہو کو کوئی پروا نہیں اور نہ ہی ٹرمپ کو۔“

غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے باعث اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے، حتیٰ کہ اس کا قریبی اتحادی امریکہ بھی غزہ میں تباہی اور خوراک و دیگر امدادی اشیاء کی ناکہ بندی سے پیدا ہونے والی سنگین صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔

جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن کو انسانی بحران پر ”تشویش“ ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قطر میں جنگ بندی مذاکرات میں شرکت کے لیے ایک وفد دوحہ روانہ کیا ہے، جہاں قطری ثالثی کے تحت بات چیت جاری ہے۔

”ہوسٹیجز اینڈ مسنگ فیملیز فورم“ جو غزہ میں اب بھی قید 58 یرغمالیوں کے اہل خانہ اور ان کے حامیوں کی نمائندگی کرتا ہے، نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے اختتام کے ساتھ ہی اسرائیل ایک ”تاریخی موقع“ گنوا سکتا ہے، جو ان یرغمالیوں کو گھر واپس لانے کے لیے تھا۔

فورم کے بیان میں کہا گیا ہے ”ہم ایسے نازک لمحوں میں ہیں جو ہمارے پیاروں کے مستقبل، اسرائیلی معاشرے کے مستقبل اور پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا تعین کریں گے۔“

علاوہ ازیں ٹرمپ نے ابوظہبی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غزہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہم اسے حل کریں گے۔ بہت سے لوگ بھوک کا شکار ہیں۔“

ٹرمپ کا غزہ کے حوالے سے یہ مختصر بیان ایسے وقت سامنے آئے جب وہ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے غیر ملکی دورے کے اختتام پر تھے، جس میں انہوں نے کئی خلیجی ممالک کا دورہ کیا لیکن اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کو اس شامل نہیں کیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان دو ماہ سے جاری جنگ بندی مارچ میں اس وقت ختم ہو گئی تھی جب اسرائیل نے غزہ کی دوبارہ مکمل ناکہ بندی کر دی، جس کے بارے میں امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اس محاصرے سے علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ٹرمپ نے ابوظہبی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہم اسے حل کریں گے۔ بہت سے لوگ بھوک کا شکار ہیں۔“

اسرائیل نے 2 مارچ کو غزہ کے لیے امداد بند کر دی تھی، جسے اس نے حماس سے رعایتیں لینے کے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جبکہ حماس اب بھی اکتوبر 2023 میں پکڑے گئے درجنوں اسرائیلی یرغمالیوں کو قید میں رکھے ہوئے ہے۔

حماس نے جمعرات کے روز زور دے کر کہا کہ جنگ سے تباہ حال غزہ میں انسانی امداد کی بحالی ”بات چیت کے لیے کم از کم شرط“ ہے۔

اس نے اس بیان کے چند گھنٹے بعد خبردار کیا کہ غزہ ”برائے فروخت نہیں“، جب سابق صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے کر “آزاد علاقہ “ بنانے کی تجویز دی۔

جمعہ کے روز غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ آدھی رات سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 74 افراد شہید ہو چکے ہیں جب کہ درجنوں مزید ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

ان حملوں سے شمالی غزہ میں خوف و ہراس پھیل گیا

شمالی غزہ کی رہائشی، 57 سالہ ام محمد التتاری نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم سو رہے تھے کہ اچانک ہر طرف زوردار دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سب لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے تباہی دیکھی۔ ہر طرف خون تھا، انسانی جسم کے اعضاء اور لاشیں تھیں۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ کون شہید ہوچکا ہے اور کون زندہ ہے۔

ایک اور رہائشی 33 سالہ احمد نصر نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری رات بھر جاری رہی۔

”ہم نہ سو سکے نہ کوئی سکون مل سکا۔ یہاں کوئی تحفظ نہیں ہے۔ ہم کسی بھی لمحے مر سکتے ہیں،“ انہوں نے کہا۔

بیت لاحیہ کے انڈونیشیائی اسپتال سے اے ایف پی ٹی وی کی فوٹیج میں سوگواروں کو اپنے پیاروں کی لاشوں کے سامنے روتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

شہید اور زخمی خون سے لت پت فرش پر پڑے تھے، جہاں طبی عملے نے زخمیوں کا علاج کیا۔

مایر سالم ، جنہوں نے اس حملے اپنے رشتہ دار کھو دیے، نے کہا کہ وہ بے گناہ لوگ تھے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ میری بہنیں اور بیٹیاں تھیں، اب صرف ان کی لاشوں کے ٹکڑے رہ گئے ہیں ۔

’تاریخی موقع‘

اے ایف پی کے مطابق سرکاری اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس نے اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملے کے ذریعے جنگ کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں 1,218 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر شہری تھے۔

حملے کے دوران 251 یرغمالیوں میں سے 57 غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 34 کے بارے میں فوج کا کہنا ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 18 مارچ کو اسرائیل نے حملے دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے 2,876 افراد شہید ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا مجموعی انسانی نقصان 53,010 تک پہنچ گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے جمعہ کے روز اطلاع دی ہے کہ فوج نے غزہ میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس سے قبل حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں علاقے کو دوبارہ قبضے میں لینے کے منصوبے کی منظوری دی تھی، اگرچہ اسرائیلی فوج نے ابھی تک اپنی مہم کے ممکنہ توسیع کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ”غزہ کی پٹی میں 150 سے زائد دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اینٹی ٹینک میزائل پوسٹس، دہشت گرد سیلز، عسکری ٹھکانے اور آپریشنل مراکز شامل ہیں“۔

غزہ میں اب بھی قید یرغمالیوں کے اہل خانہ کی نمائندہ اسرائیلی تنظیم نے کہا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ان کے پیاروں کو رہا کرانے کا ایک ”تاریخی موقع“ ضائع کر رہے ہیں۔

یرغمالیوں اور لاپتا افراد کے خاندانوں کے فورم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یرغمالیوں کے اہل خانہ آج صبح بھاری دل اور شدید تشویش کے ساتھ جاگے کیونکہ غزہ میں حملوں میں اضافے اور صدر ٹرمپ کے خطے دورے کے جلد اختتام کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تاریخی موقع کو ضائع کرنا ایک زبردست ناکامی ہوگی، جسے ہمیشہ بدنامی کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

تاہم یرغمالیوں کے اہل خانہ کی ایک اور حمایتی تنظیم نے مزید فوجی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹکوا فورم گروپ نے کہا ہے کہ فوجی دباؤ بہت زیادہ طاقتور، شدید اور سفارتی دباؤ، مکمل محاصرے، پانی اور بجلی کی بندش کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس وقت غزہ کا 70 فیصد علاقہ یا تو اسرائیل کی جانب سے ممنوعہ قرار دیا گیا ہے یا وہاں انخلاء کا حکم نافذ ہے۔

’کم از کم شرط‘

ہفتوں سے اقوام متحدہ کی ایجنسیاں خبردار کر رہی ہیں کہ خوراک، صاف پانی، ایندھن اور ادویات سمیت ضروری سامان کی فراہمی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ غزہ میں کینسر اور دل کے مریضوں کے لیے خدمات فراہم کرنے والا آخری اسپتال منگل کے روز اسرائیلی حملے کے بعد ”شدید نقصان“ کا شکار ہو کر ناقابل رسائی ہو چکا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ امداد کی بندش اور فوجی دباؤ کا مقصد حماس پر دباؤ ڈال کر باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا ہے۔

تاہم حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد کی رسائی ”مذاکرات کے لیے سازگار اور تعمیری ماحول کی کم از کم شرط ہے“۔

غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن، جو ایک امریکی حمایت یافتہ این جی او ہے، نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام سے بات چیت کے بعد وہ اس ماہ غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم شروع کرے گی۔

تاہم اقوام متحدہ نے جمعرات کے روز اس اقدام میں کسی بھی قسم کی شمولیت کو مسترد کر دیا۔

Comments

Comments are closed.