ایک وفاقی اپیل عدالت نے ہفتے کے روز ایک ایسے عدالتی حکم کو روک دیا جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کو 1,000 سے زائد وائس آف امریکہ کے ملازمین کو دوبارہ کام پر بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
22 اپریل کو امریکی ضلعی جج رائس لیمبرتھ نے انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ یو ایس نیوز سروس کے ملازمین اور کنٹریکٹرز کو ان کی پوزیشنز پر بحال کیا جا سکے، اور ریڈیو، ٹی وی، آن لائن نشریات اور کچھ گرانٹس دوبارہ شروع کی جا سکیں۔
تاہم اپیل عدالت نے 2 کے مقابلے میں 1 کے فیصلے میں کہا کہ ممکنہ طور پر لیمبرتھ کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ ملازمین کی بحالی یا ریڈیو فری ایشیا اور مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ نیٹ ورکس کے لیے 15 ملین ڈالر کی گرانٹس بحال کرنے کا حکم دیں۔
یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم) نے مارچ میں ٹرمپ کی ہدایت پر اچانک نشریات بند کرنے کے بعد 1,000 سے زائد ملازمین کو جبری رخصت پر بھیج دیا تھا اور 600 کنٹریکٹرز کو نوکری سے نکالنے کا کہا تھا۔
اپیل عدالت نے نوٹ کیا کہ حکومت نے لیمبرتھ کے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جس میں وائس آف امریکہ کی قانونی طور پر لازم نشریاتی سطح کو بحال کرنے کا کہا گیا تھا۔ جمعہ کے روز متعدد رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ وائس آف امریکہ اگلے ہفتے نشریات دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یو ایس اے جی ایم نے ہفتے کے روز اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سرکٹ جج کورنیلیا پیلرڈ نے فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ یقینی طور پر اس بات کو ممکن بنا دے گا کہ یہ نیٹ ورکس اس کیس کے مکمل فیصلے تک کسی بامعنی شکل میں باقی نہ رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا نتیجہ وائس آف امریکہ کو غیر معینہ مدت تک خاموش کرنے“ اور ریڈیو فری ایشیا و مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ نیٹ ورکس کی قانونی جدوجہد کو ختم کرنے کی صورت میں نکلے گا۔
ٹرمپ کی ہدایت کے تحت وائس آف امریکہ اپنی 80 سالہ تاریخ میں پہلی بار خبریں نشر نہیں کر رہا۔ اس کی ویب سائٹ 15 مارچ کے بعد سے اپڈیٹ نہیں ہوئی اور بیرون ملک موجود ریڈیو اسٹیشنز جو اس کے پروگرام پر انحصار کرتے تھے، بند ہو چکے ہیں یا صرف موسیقی نشر کر رہے ہیں۔
جج لیمبرتھ کے مطابق کانگریس نے یہ نشریات لازمی قرار دی تھیں اور انتظامیہ کو ان کے خاتمے یا فنڈنگ روکنے کا یکطرفہ اختیار نہیں دیا گیا۔
ٹرمپ کی مشیر کیری لیک نے 15 مارچ کو اس بندش کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یو ایس اے جی ایم ناقابل اصلاح حد تک تباہ ہو چکی ہے اور ٹرمپ کے خلاف جانبدار ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر اس عدالتی فیصلے کو ہماری بڑی فتح قرار دیا۔


Comments
Comments are closed.