BR100 Decreased By (-0.48%)
BR30 Decreased By (-0.73%)
KSE100 Decreased By (-0.27%)
KSE30 Decreased By (-0.32%)
BAFL 58.65 Decreased By ▼ -0.02 (-0.03%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
BOP 33.79 Decreased By ▼ -0.13 (-0.38%)
CNERGY 10.96 Decreased By ▼ -0.14 (-1.26%)
DFML 18.29 Increased By ▲ 0.23 (1.27%)
DGKC 213.29 Decreased By ▼ -2.54 (-1.18%)
FABL 100.30 Decreased By ▼ -0.39 (-0.39%)
FCCL 55.49 Decreased By ▼ -0.41 (-0.73%)
FFL 16.10 Increased By ▲ 0.02 (0.12%)
GGL 23.90 No Change ▼ 0.00 (0%)
HBL 307.47 Decreased By ▼ -1.77 (-0.57%)
HUBC 219.50 Decreased By ▼ -0.39 (-0.18%)
HUMNL 10.71 Decreased By ▼ -0.02 (-0.19%)
KEL 7.27 Decreased By ▼ -0.03 (-0.41%)
LOTCHEM 27.07 Decreased By ▼ -0.22 (-0.81%)
MLCF 96.30 Decreased By ▼ -1.15 (-1.18%)
OGDC 315.10 Decreased By ▼ -3.99 (-1.25%)
PAEL 42.32 Decreased By ▼ -0.20 (-0.47%)
PIBTL 16.90 Decreased By ▼ -0.18 (-1.05%)
PIOC 269.00 Decreased By ▼ -3.98 (-1.46%)
PPL 219.69 Decreased By ▼ -1.63 (-0.74%)
PRL 63.09 Decreased By ▼ -0.33 (-0.52%)
SNGP 107.70 Increased By ▲ 1.82 (1.72%)
SSGC 26.99 Increased By ▲ 1.06 (4.09%)
TELE 8.41 Decreased By ▼ -0.05 (-0.59%)
TPLP 15.02 Increased By ▲ 0.31 (2.11%)
TRG 61.00 Increased By ▲ 0.19 (0.31%)
UNITY 10.08 Increased By ▲ 0.07 (0.7%)
WTL 1.21 No Change ▼ 0.00 (0%)

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین نے اتوار کو بتایا ہے کہ انڈونیشیا کے ساحل کے قریب کشتی ڈوبنے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت 100 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کو بچالیا گیا ہے۔

میانمار میں شدید مظالم کے شکار روہنگیا مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد ہر سال اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر طویل اور خطرناک سمندری سفر کے ذریعے ملائیشیا یا پھر انڈونیشیا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے عہدیدار فیصل رحمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں مشرقی آچے کی حکومت کی جانب سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ وہاں مجموعی طور پر 116 پناہ گزین موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پناہ گزین ابھی بھی ساحلی علاقے میں میں ہیں اور اب تک ان کی منتقلی کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کو لے جانے والی ایک کشتی شمال مشرقی سماٹرا جزیرے کے ساحل سے کچھ ہی فاصلے پر آدھی ڈوبی ہوئی پائی گئی۔

ایک مقامی ماہی گیر سیف الدین طاہر نے بتایا کہ کشتی کو سب سے پہلے ہفتے کی صبح مشرقی آچے کے پانیوں میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا اور کچھ گھنٹوں بعد وہ تقریبا ڈوب گئی۔

سیف الدین نے بتایا کہ تمام پناہ گزینوں کو بچالیا گیا لیکن ان میں سے ایک بیمار تھا جس کا فوری طور پر علاج کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ کشتی ساحل سمندر سے صرف 100 میٹر کی دوری پر تھی اور پناہ گزین آسانی سے پیدل چل کر محفوظ مقام تک پہنچ سکتے تھے۔

انڈونیشیا میں آنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی آمد کا رحجان ایک گردشی انداز اختیار کرتا ہے، طوفان کے مہینوں کے دوران اس رحجان میں کمی آتی ہے اور سمندر کے پرسکون ہونے پر یہ پھر تیز ہوجاتا ہے۔

گزشتہ ماہ 152 روہنگیا پناہ گزینوں کو جنوبی آچے ضلع کے ساحل پر کئی روز تک لنگر انداز رہنے کے بعد زمین پر اترنے کی اجازت دی گئی، اس دوران حکام انہیں یہ فیصلہ کررہے تھے کہ انہیں آنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

انڈونیشیا نے اقوام متحدہ کے پناہ گزین کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اسے میانمار سے پناہ گزینوں کو لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اس کے بجائے ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس بوجھ میں شریک ہوں اور اپنے ساحلوں پر آنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی آباد کاری میں مدد کریں۔

آچے کے بہت سے باشندوں کو، جو خود کئی دہائیوں کے خونریز تنازعے کی یادیں رکھتے ہیں، اپنے ہم مذہب روہنگیا پناہ گزینوں کی حالت زار پر ہمدردی ہے۔ لیکن کئی مقامی باشندوں کا کہناہے کہ ان کے صبر کا امتحان لیا گیا ہےاور ان کا دعویٰ ہے روہنگیا پناہ گزین قیمتی وسائل کا استعمال کرتے ہیں اور کبھی کبھار مقامی افراد کے ساتھ تصادم میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔

دسمبر 2023 میں آچے کے ایک کمیونٹی ہال میں سینکڑوں طلباء نے 100 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی پناہ گاہ پر دھاوا بول کر ان کی چیزوں کو نقصان پہنچایا انہیں وہاں سے منتقل ہونے پر مجبور کیا تھا۔

Comments

Comments are closed.