BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)

بنگلہ دیش میں کپڑے کی اہم صنعت کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ طلبہ کی قیادت میں انقلاب کے بعد بدامنی کے سبب صنعت کو400 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ طلبہ کے احتجاج کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی آمر وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو اقتدار سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ تاہم صنعتی رہنماؤں نے اتوار کو اس بات پر زور دیا کہ اب صورتحال ”مستحکم“ ہے۔

جنوبی ایشیائی ملک کی 3500 گارمنٹس فیکٹریاں اس کی سالانہ برآمدات کا تقریبا 85 فیصد حصہ رکھتی ہیں لیکن بدامنی کی وجہ سے صنعت کو نمایاں تعطل کا سامنا رہا۔

کئی ماہ تک جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد 5 اگست کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہمسایہ ملک بھارت فرار ہو گئیں۔

نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت نے اقتدار سنبھالا لیکن گارمنٹس فیکٹریوں میں احتجاج جاری رہا اور مزدوروں نے ملازمتوں اور بہتر تنخواہوں کا مطالبہ کیا۔

اس طرح کے مظاہرے بعض اوقات پرتشدد واقعات میں بھی تبدیل ہوئے۔ 30 ستمبر کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ایک گارمنٹ ورکر ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔

بنگلہ دیش گارمنٹس اینڈ انڈسٹریل ورکرز فیڈریشن کی صدر کلپنا اختر نے اتوار کے روز کہا کہ فیکٹری مالکان اور حکومت کے رویے میں زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ تنخواہوں میں اضافے کے بارے میں بات چیت صرف اس وقت ہوتی ہے جب مزدور سڑکوں پر نکلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں استحکام کو یقینی بنانے کے لئے تبدیلیوں کی ضرورت ہے ، انہوں نے متنبہ کیا کہ بصورت دیگر ، پرسکون صورتحال برقرار نہیں رہ سکتی ہے۔

بنگلہ دیش چین کے بعد قیمت کے لحاظ سے کپڑوں کا دوسرا سب سے بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے اور لیویز، زارا اور ایچ اینڈ ایم سمیت دنیا کے بہت سے بڑے برانڈز فراہم کرتا ہے۔

بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر خندکر رفیق الاسلام نے کہا کہ مشکل دور سے گزرنے کے بعد صنعت فی الحال مستحکم ہے۔

رفیق الاسلام نے ہفتے کے روز نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اگست سے اب تک مجموعی طور پر 400 ملین ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے اور کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کو اس صنعت کا تحفظ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

رفیق الاسلام نے کہا کہ فوج نے فیکٹریوں کی حفاظت کے لئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے اور وہ ملبوسات کے مراکز میں سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدگی سے گشت کر رہے ہیں۔

خریداروں نے بنگلہ دیشی ملبوسات پر اپنا اعتماد دوبارہ کیا ہے لیکن استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے بلا تعطل امن و امان ضروری ہے۔

Comments

Comments are closed.