BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

ایک بھارتی مبلغ جس کے تازہ ترین خطاب کے دوران بھگدڑ ہوئی تھی ،جس میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، نے اصرار کیا کہ قسمت کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور موت ناگزیر ہے۔

2 جولائی کے بعد میڈیا کے سامنے پہلی بار آنے پر، جب شمالی شہر ہتھرس میں ایک خطبے کے بعد 121 لوگ کچلے گئے تھے، بھولے بابا نے کہا کہ وہ اس سانحے سے پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا، “جو کچھ ہوا اس سے میں بہت پریشان ہوں، لیکن قسمت کو کون چیلنج کر سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ’’جو کوئی بھی اس زمین پر آئے گا اسے ایک دن جانا ہے، یہ صرف کب جانا ہے کی بات ہے۔‘‘

پولیس کانسٹیبل سے مبلغ بننے والے اس شخص نے بدھ کے روز کاس گنج میں اپنی ایک خانقاہ میں مقامی میڈیا سے بات کی جو بھگدڑ کی جگہ سے تقریبا 60 کلومیٹر دور ہے۔

بابا کے وکیل نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ہجوم میں موجود ’سماج دشمن عناصر‘ سانحہ کے ذمہ دار ہیں۔

دعائیہ اجتماع میں ڈھائی لاکھ عقیدت مندوں نے شرکت کی جو کہ مقررہ تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت خواتین کی تھی۔

بھگدڑ مچنے کے بعد جاری کی گئی پولیس رپورٹ میں دعائیہ اجتماع کے کئی منتظمین کو گرفتار کرنے کی مانگ کی گئی تھی، لیکن بابا ان میں شامل نہیں تھے۔

اب تک ان کے لیے کام کرنے والے 11 رضاکاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ہندوستان میں مذہبی اجتماعات میں بھیڑ کے ناقص انتظام اور حفاظتی کوتاہیوں کی وجہ سے مہلک واقعات کا ایک سنگین ٹریک ریکارڈ موجود ہے۔

سال 2008 میں شمالی شہر جودھپور میں ایک مندر میں بھگدڑ مچنے سے 224 یاتری ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

Comments

Comments are closed.