امریکی وسط مدتی انتخابات، تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، دفتر خارجہ
- بھارتی شہریوں پر ویزا کی کوئی پابندی نہیں، سجاد حیدر خان
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے بعد آنے والی سیاسی تبدیلیاں دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوں گی جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارتی شہریوں پر ویزا کی کوئی پابندی نہیں۔ ترجمان کے مطابق اگر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پاکستان کا دورہ کرنا چاہیں تو انہیں ویزا جاری کرنے کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران یہ بات کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے مختلف امریکی حکومتوں کے ساتھ بہترین تعلقات رہے ہیں اور وہ امریکا کو تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی، انسداد دہشت گردی اور معدنیات کے شعبوں میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات اس کا داخلی معاملہ ہیں اور ان سے واشنگٹن کے ساتھ پاکستان کے روابط متاثر نہیں ہوں گے۔
ایران کے بحران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ جوہری خطرے سے متعلق اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی دھمکی کو سنجیدہ معاملہ سمجھا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ تنازعات جنگ کے بجائے سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
سجاد حیدر خان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے مذاکرات کی میز پر آنے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان 47 سال تک براہ راست رابطہ نہیں رہا تھا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی میں روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق پاکستان کی قرارداد کی بھارت کی مخالفت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 180 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ صرف بھارت اور اسرائیل نے اس کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قرارداد میں تحمل، توازن اور مذاکرات کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون اور جدید ہتھیاروں کے حصول سے جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہورہے ہیں۔
بھارتی زائرین پر پابندیوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 2025 میں بھارتی زائرین کو 9 ہزار 318 ویزے جاری کیے جن میں 9 ہزار 70 سکھ اور 248 ہندو زائرین شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران بھی سکھ زائرین کو مزید 4 ہزار 2 ویزے جاری کیے گئے۔ ترجمان کے مطابق بھارتی شہریوں کے لیے ویزے پر کوئی پابندی نہیں اور پاکستان مذہبی دوروں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
کرتارپور راہداری کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے سکھ زائرین کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے خطیر وسائل خرچ کیے ہیں اور ان کے استقبال کے لیے تیار ہے، تاہم بھارتی جانب سے راہداری کے ذریعے آمدورفت معطل ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سکھ عقیدت مندوں کو پاکستان میں اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کی اجازت دے۔
ترجمان نے کہا کہ اگر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پاکستان کا دورہ کرنا چاہیں تو انہیں ویزا جاری کرنے پر غور کیا جائے گا، تاہم ان کے دورے کے لیے بھارتی حکومت سے اجازت لینا ایک الگ معاملہ ہے۔
پاکستان اور ایران کی سرحد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حالیہ سیکیورٹی خدشات اور جھڑپوں کے باعث بعض زائرین کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، تاہم پاکستان نے ان کے سفر پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کراچی کے لیے ایل این جی کا کارگو لے جانے والا جہاز المائدہ خلیج فارس میں پرتابوں کا نشانہ بننے کے بعد بحفاظت قطر واپس پہنچ گیا ہے۔ جہاز پر سوار پاکستانی شہریوں سمیت عملے کے 25 ارکان محفوظ رہے۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ ایک دفاعی نوعیت کا انتظام ہے اور اس کا مقصد ایران سمیت کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں۔ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال اور پروازوں کی منسوخی کے باعث ای سی او کے وزرائے داخلہ کا اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فلسطین، شام، لبنان اور ایران میں اس کے اقدامات نے پورے خطے میں عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔
افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برطانیہ سمیت اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ یہ معاملہ مسلسل اٹھا رہا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امریکا سے افغان مہاجرین کی مجوزہ منتقلی کے معاملے پر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی انتظام طے نہیں پایا۔