نتیجہ خیز معیشت
- پاکستان کی ترقی کے لیے ایک واضح معاشی فلسفہ ناگزیر ہے، جس کی بنیاد مسابقتی منڈیوں اور منصفانہ قواعد و ضوابط اور بنیادی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے والی ریاست پر ہو
ٹیکس ریفنڈ کے منتظر برآمد کنندہ کے لیے اصلاحات اس وقت حقیقت کا روپ دھارتی ہیں جب رقم اس کے بینک اکاؤنٹ میں پہنچتی ہے۔ کسی کارخانے کے لیے اس کا مطلب قابلِ اعتماد توانائی کی پیشگی اندازہ لگائی جا سکنے والی لاگت پر فراہمی ہے، جبکہ نہر کے آخری سرے پر واقع کھیت کے کسان کے لیے اس کا مطلب مقررہ وقت پر پانی کی دستیابی ہے۔ روزمرہ زندگی اور کاروبار سے جڑے یہ معاملات پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کے آغاز کے لیے ایک موزوں بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اضافی منظوریوں، ادائیگیوں میں تاخیر اور غیر یقینی چارجز سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور بیرون ملک خریداروں کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان رکاوٹوں کو دور کرنے سے کاروباری اداروں اور گھرانوں دونوں کو ایسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جنہیں وہ اپنی روزمرہ زندگی میں واضح طور پر محسوس کر سکیں۔
3 نومبر 2026 کو ہونے والے امریکا کے وسط مدتی انتخابات اس بحث کے لیے ایک بروقت پس منظر فراہم کرتے ہیں۔ انتخابات سے متعلق رپورٹنگ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور قوتِ خرید کے حوالے سے خدشات نمایاں رہے ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جو معاشی پالیسی کو دوبارہ گھر کے باورچی خانے اور کارخانوں کے دروازوں تک لے آتے ہیں۔ تاہم، اس تقابل کی اپنی حدود ہیں، کیونکہ پاکستان کے ادارے اور حالات مختلف ہیں اور کوئی بھی انتخاب اصلاحات کا کوئی تیار شدہ لائحہ عمل فراہم نہیں کرتا۔ اس کے باوجود روزمرہ معاشی نتائج پر توجہ دینا ایک مفید نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے مہنگی توانائی، برآمدات کی کمزور نمو اور سرمایہ کاری میں تاخیر اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ روایتی طریقہ ہائے کار پر ازسرنو غور کیا جائے، ان اقدامات کو آگے بڑھایا جائے جو پہلے مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور ساتھ ہی بہتر تجاویز کے لیے بھی گنجائش پیدا کی جائے۔
ان کوششوں کے لیے ایک واضح معاشی فلسفے اور مشترکہ سمت کا تعین ضروری ہے۔ جب سرمایہ کاری کے لیے مراعات کے ساتھ اضافی اجازت نامے بھی درکار ہوں یا مسابقتی پالیسیوں کے ساتھ پہلے سے موجود کاروباری اداروں کو تحفظ بھی حاصل ہو تو کاروباری حلقوں کو متضاد اشارے ملتے ہیں۔ بنیادی اصول سادہ ہونا چاہیے: صارفین کی بہتر خدمت کرنے کو خصوصی مراعات حاصل کرنے کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند بنایا جائے۔
قابلِ پیش گوئی قواعد و ضوابط اور کاروبار شروع کرنے، سرمایہ کاری کرنے اور لین دین کے مواقع کمپنیوں کو بہتر مصنوعات، کم لاگت اور قابلِ اعتماد خدمات کے ذریعے اپنی جگہ بنانے کا موقع دیتے ہیں۔
مسابقتی منڈیاں اس اصول کو عملی شکل دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ صارفین، لاگت اور مواقع سے متعلق معلومات پوری معیشت میں بکھری ہوتی ہیں اور کوئی ایک ادارہ ان تمام معلومات کو یکجا نہیں کر سکتا۔ قیمتیں طلب اور قلت کے بارے میں معلومات پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہیں، منافع کاروباری اداروں کو ردعمل دینے کی ترغیب دیتا ہے، جبکہ نقصان اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ اختیار کردہ طریقہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ کسی برآمد کنندہ کا مختلف اقسام کے ریشوں میں سے انتخاب کرنا یا کسی کارخانے کا توانائی فراہم کرنے والے اداروں کا تقابل کرنا، کاروباری لین دین کے ذریعے کسی موقع کو جانچنے کی مثالیں ہیں۔
جہاں نئے کاروباروں کے داخلے پر پابندیاں نہ ہوں اور صارفین کو فراہم کنندہ تبدیل کرنے کی آزادی حاصل ہو، وہاں کاروباری اداروں کو اپنی مصنوعات اور خدمات کا معیار بہتر بنانے کی ترغیب ملتی ہے۔ منڈیاں اس لیے سمت فراہم کرتی ہیں کہ ان میں ہر فیصلہ درست ثابت نہیں ہوتا بلکہ متبادل طریقے آزمانے اور غلطیوں کی اصلاح کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ ان کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو بہتر مواقع تلاش کرنے کے عمل میں حصہ لینے کا موقع دیتی ہیں۔
تاہم، منڈیوں کے حق میں یہ دلیل ان کی تنظیم و نگرانی میں احتیاط کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ صرف نجی ملکیت مسابقت کی ضمانت نہیں دیتی اور محفوظ اجارہ داری صارفین کو انتخاب کے محدود مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ بنیادی کاروباری وسائل تک منصفانہ رسائی اور معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد نئے کاروباروں کو اپنی صلاحیت کی بنیاد پر مقابلہ کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔ صارفین کا تحفظ، آلودگی کی روک تھام، عوامی مفاد کی خدمات اور بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر افراد کی معاونت بدستور ریاست کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔
منڈیاں تجارتی وسائل کی سمت کا تعین کر سکتی ہیں، لیکن معاشرتی ترجیحات کے تمام معاملات کا فیصلہ نہیں کر سکتیں۔ لہٰذا ضرورت ریاست کو پیچھے ہٹانے کی نہیں بلکہ اس کی صلاحیت بہتر بنانے کی ہے تاکہ وہ منصفانہ مسابقت کا تحفظ اور ان خدمات کی فراہمی یقینی بنا سکے جن پر عوام کا انحصار ہے۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد سب سے پہلے ملک کے اندر پیدا ہونا چاہیے۔ جب تک مقامی کاروباری افراد اور گھرانے اپنے وسائل سرمایہ کاری کے لیے مختص کرنے کی حد تک نظام پر اعتماد نہیں کرتے، پاکستان خاطر خواہ اور پائیدار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی توقع حقیقت پسندانہ طور پر نہیں کر سکتا۔ انفرادی غیر ملکی منصوبے اس کے باوجود شروع ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ایسے ماحول کا متبادل نہیں بن سکتے جہاں مقامی سرمایہ کار بھی اپنے لیے روشن مستقبل دیکھتے ہوں۔ قابلِ پیش گوئی پالیسیاں، منصفانہ برتاؤ اور بروقت عمل درآمد اس اعتماد کی بنیاد ہیں۔
بیرون ملک سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کا سب سے مضبوط مقدمہ وہ ملک ہو سکتا ہے جس کے اپنے شہری اس میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوں۔
یہ طریقہ کار اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جب اسے عملی اصلاحات سے منسلک کیا جائے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اپنی اشاعت ’’سلیج آڈٹس‘‘ کی جلد اول تا سوم (2022ء تا 2024ء) میں بار بار طلب کیے جانے والے کاغذات، تصدیقات، اجازت ناموں اور تاخیر کے بوجھ کا جائزہ لیا ہے۔ اس کی تیسری جلد میں عدالتی نظام پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ کام اس بات کا تعین کرنے کے لیے ایک مفید بنیاد فراہم کرتا ہے کہ کون سے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں اور کن طریقہ ہائے کار کی لاگت ان کے فوائد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ان بوجھوں میں کمی سے پیداواری سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت دستیاب ہو گا اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی آسان ہو جائے گی۔ آگے پیش کی جانے والی تجاویز کا مقصد بھی یہی ہے کہ کاروبار کا گردشی سرمایہ آزاد ہو، بنیادی وسائل اور بنیادی ڈھانچے تک رسائی بہتر بنائی جائے اور قواعد و ضوابط کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں ٹیکس ریفنڈ کے منتظر برآمد کنندہ سے آغاز کرنا فطری امر ہے۔
برآمد کنندگان کے لیے ایک مؤثر ابتدائی قدم یہ ہو سکتا ہے کہ کم خطرے والے ٹیکس ریفنڈز کا عمل خودکار بنایا جائے اور تصدیق شدہ دعووں کی ادائیگی درخواست جمع ہونے کے 30 روز کے اندر یقینی بنائی جائے، جبکہ بعد از ادائیگی آڈٹ کا نظام بھی برقرار رہے۔ زیر التوا دعووں کی مالیت اور ان کی مدت شائع کرنے سے پیش رفت کا اندازہ لگانا ممکن ہو گا۔ برآمدی وصولیوں پر اضافی پیشگی ٹیکس وصولی کی جگہ ایسا آسان طریقہ کار متعارف کرایا جا سکتا ہے جو حقیقی ٹیکس واجبات سے ہم آہنگ ہو۔
محصولاتی ڈیوٹی میں کمی کی شائع شدہ پالیسی پر مستقل عمل درآمد، بالخصوص ان ڈیوٹیز کا خاتمہ جو خام مال اور بنیادی اشیا کو مقابلے کی تیار شدہ مصنوعات سے بھی مہنگا بنا دیتی ہیں، کاروباری منصوبہ بندی کو بہتر بنائے گا۔ کپاس، مصنوعی ریشوں، مشینری اور اس کے اسپیئر پارٹس تک قابلِ پیش گوئی رسائی، خطرات کی بنیاد پر کسٹمز معائنوں اور بندرگاہوں سے سامان کی کلیئرنس کے مقررہ اوقات کی اشاعت سے صنعت کاروں کو آرڈرز پورے کرنے میں زیادہ اعتماد حاصل ہو سکتا ہے۔
ٹیکس اصلاحات سے قواعد کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں کے لیے توسیع کرنا آسان بنایا جا سکتا ہے۔ اشیا اور خدمات پر سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے طریقہ کار میں ہم آہنگی، سپلائی چین کے تمام مراحل پر قابلِ قبول ان پٹ ٹیکس کریڈٹ اور ایک دوسرے سے متداخل ودہولڈنگ ٹیکس کی ذمہ داریوں میں کمی سے وہ نقد سرمایہ آزاد ہو گا جو تعمیلی تقاضوں میں پھنسا رہتا ہے۔ زمین کے ریکارڈ اور آمدن کی معلومات کو یکجا کرنے سے قابلِ ٹیکس زرعی آمدن رکھنے والے بڑے آمدن داروں سے محصولات کی وصولی بہتر بنائی جا سکتی ہے، جبکہ شہری جائیدادوں کی تازہ ترین مالیت اور لین دین کے اعداد و شمار سے زیادہ کاروباری حجم رکھنے والے تاجروں پر منصفانہ ٹیکس عائد کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ٹیکس چھوٹ کی لاگت شائع کرنے اور ان کا مقررہ اختتامی مدت کی بنیاد پر جائزہ لینے سے شفافیت میں اضافہ ہو گا۔ تاہم، ٹیکس کی شرحوں میں کسی بھی قسم کی کمی کے لیے پائیدار محصولات یا اخراجات میں کمی کے قابلِ اعتماد اقدامات ضروری ہوں گے تاکہ مالیاتی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا آغاز فیڈر یعنی کسی مقامی تقسیم کار علاقے کو بجلی فراہم کرنے والے سرکٹ سے کیا جا سکتا ہے، جہاں آنے والی بجلی، بلوں اور وصولیوں کا تقابل ممکن ہو۔ بجلی کے نقصانات، وصولیوں اور تعطل کی تفصیلات شائع کرنے سے خدمات میں بہتری کا جائزہ لینا آسان ہو گا۔ بجلی کی ترسیل کے نظام میں ایسی سرمایہ کاری جو کم لاگت بجلی صارفین تک پہنچائے، شفاف نیٹ ورک چارجز کے تحت دوطرفہ بجلی خریداری اور سابقہ واجبات کے واضح حساب کتاب سے بجلی کو مزید قابلِ برداشت بنایا جا سکتا ہے۔
کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس لیوی کا جائزہ لے کر اسے مرحلہ وار ختم کرنے کا ایک ایسا منصوبہ بنایا جا سکتا ہے جس کی لاگت کا مکمل حساب موجود ہو۔ اس میں لیوی کی مد میں ہونے والی آمدن کے نقصان اور قومی گرڈ سے حاصل ہونے والی آمدن میں تبدیلی کو الگ الگ شمار کیا جانا چاہیے۔ اس لیوی میں کسی بھی کمی کے لیے آمدن کے پائیدار متبادل ذرائع یا اخراجات میں قابلِ تصدیق بچت کی نشاندہی ضروری ہو گی، محض معاشی نمو سے حاصل ہونے والے مفروضہ فوائد پر انحصار کافی نہیں ہو گا۔ بنیادی خدمات اور مستحق گھرانوں کے لیے مخصوص مالی معاونت کا تحفظ برقرار رہنا چاہیے، جبکہ وسیع البنیاد سبسڈیز کے خاتمے کے ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔
بجلی اور گیس دونوں شعبوں کے لیے طلب کی یکساں اور مربوط پیش گوئی توانائی کی خریداری کے فیصلوں میں بھی مدد دے گی۔ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی اضافی خریداری کے وعدوں کا جائزہ مقامی پیداوار، بجلی کی ترسیل، صنعتی طلب اور پہلے سے موجود معاہدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں گیس کی ترسیل مؤخر کرنے یا کسی دوسرے خریدار کو منتقل کرنے کی لاگت کا تقابل طے شدہ معاہدے کے تحت گیس وصول کرنے کی لاگت سے کیا جانا چاہیے۔ ذخیرہ گاہوں، ٹرمینلز اور بجلی گھروں کے لیے شائع شدہ کاروباری جواز سے ان کے استعمال، مالی اعانت اور کم طلب کی صورت میں صارفین کے بلوں پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
اس کے علاوہ، توانائی کے شعبے کی سپلائی چین میں جمع ہونے والے گردشی قرضے، یعنی اس سلسلے میں مختلف اداروں کے ایک دوسرے کو ادا نہ کیے جانے والے واجبات، کو نمٹانے کی لاگت اور ہر ماہ کے موجودہ آپریشنل مالی توازن کی الگ الگ رپورٹنگ کی جانی چاہیے۔ اس سے نئے بقایاجات کی نشاندہی آسان ہو گی۔
سرکاری انتظامیہ کو بھی ایسی مہارت، تسلسل اور اختیارات کی ضرورت ہے جو ان اصلاحات کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ توانائی، ٹیکس، خریداری، ڈیجیٹل نظام اور سرکاری مالیات کے شعبوں میں ماہرین کے لیے خصوصی پیشہ ورانہ کیریئر کے راستے متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جن میں اہل سرکاری افسران اور بیرونی امیدواروں کے لیے شفاف بنیادوں پر مواقع دستیاب ہوں۔ عملے اور منظور شدہ بجٹ سے متعلق واضح اختیارات، خدمات کی فراہمی کے معیارات، تقرری کی قابلِ پیش گوئی مدت اور قبل از وقت تبادلوں کی تحریری وجوہات انتظامی امور میں تسلسل برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
کسٹمز کلیئرنس، یوٹیلیٹی خدمات کے قابلِ اعتماد ہونے اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ روزگار کے نتائج سے متعلق رپورٹنگ اداروں کو یہ جاننے میں مدد دے سکتی ہے کہ بہتری کی ضرورت کہاں ہے۔ قانونی طریقہ کار اور قانون کے مطابق دستاویزی فیصلوں کا تحفظ بدستور ضروری ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی فائل کس دفتر یا افسر کے پاس ہے، کتنے عرصے سے زیر التوا ہے اور اسے نمٹانے کے لیے کیا اقدام درکار ہے۔
اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے تیزی سے بڑھتے ہوئے سرکاری اداروں اور ایک دوسرے سے متداخل اختیارات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ وزارتوں، ریگولیٹری اداروں، اتھارٹیز اور حکومت کے مختلف سطحوں پر ذمہ داریوں کا نقشہ تیار کرنے سے دہرے منظوری کے مراحل، متضاد اختیارات اور ایسے فرائض کی نشاندہی ہو سکے گی جن کا اب کوئی ضروری جواز باقی نہیں رہا۔ جہاں مناسب ہو، اداروں اور اختیارات کو یکجا کرنے یا غیر ضروری ذمہ داریاں ختم کرنے سے خدمات کی فراہمی آسان بنائی جانی چاہیے، تاہم آزادانہ نگرانی اور ضروری حفاظتی اقدامات کا تحفظ برقرار رہنا چاہیے۔
ہر اصلاح کے لیے ایک ذمہ دار مرکزی ادارے، معاون اداروں کی واضح ذمہ داریوں، مقررہ مدت، مختص مالی وسائل کے ساتھ اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کا تعین ضروری ہے۔ پیش رفت سے متعلق باقاعدہ رپورٹس میں تاخیر کی وجوہات بیان کرنے کے ساتھ ضروری تبدیلیوں کی رہنمائی بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ اداروں کی تنظیمِ نو بھی اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہونی چاہیے اور اس کی کامیابی کا پیمانہ بہتر خدمات کی فراہمی ہو، نہ کہ محض تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیاں۔ طریقہ کار کو آسان بنانے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا اگر ان کے پیچھے موجود ادارہ جاتی انتظامات کو بھی سادہ نہ بنایا جائے۔
پائیڈ کے سلیج آڈٹس ہر اجازت نامے کے حوالے سے ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں: کیا یہ اجازت نامہ کوئی ضروری حفاظتی مقصد پورا کرتا ہے اور کیا یہ مقصد زیادہ آسان طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اسی بنیاد پر تمام تقاضوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ مفید ضابطہ کاری اور ماضی سے چلے آنے والے غیر ضروری طریقہ ہائے کار میں فرق کیا جا سکے۔ ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے سے پہلے طریقہ کار کو آسان بنانا ضروری ہے، نہ کہ انہی منظوریوں اور پیچیدہ مراحل کو آن لائن منتقل کر دیا جائے۔
لائسنسوں اور معائنے کے نظام کا ایک عوامی رجسٹر، دستاویزات طلب کرنے کے لیے واضح قانونی جواز اور کاروباری اداروں کے لیے ایک ہی شناختی نمبر پہلے سے ریاست کے پاس موجود معلومات بار بار طلب کرنے کی ضرورت کم کر سکتے ہیں۔ فیصلوں کے لیے مقررہ مدت، درخواستیں مسترد کرنے کی تحریری وجوہات اور آزادانہ اپیل کا نظام درخواست گزاروں کو زیادہ یقین دہانی فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ استثنائی رعایتوں کے لیے بھی شفاف معیار مقرر ہونے چاہئیں، جن میں قانونی جواز، اہلیت اور نظرثانی کی تاریخ شائع کرنا شامل ہو، تاکہ ذاتی یا سیاسی رسائی کی بنیاد پر رعایتیں دینے کا سلسلہ ختم ہو سکے۔
زمین کی ملکیت کے ڈیجیٹل ریکارڈ اور یوٹیلیٹی کنکشنز کے ساتھ یہ تبدیلیاں تحفظ کے ضروری تقاضے برقرار رکھتے ہوئے لوگوں کو متعدد دفاتر کے چکر لگانے سے بچا سکتی ہیں۔
ان اصلاحات کو مؤثر بنانے کے لیے بروقت انصاف کی فراہمی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کی مقررہ مدت، تجارتی معاہدوں اور زمین کی ڈیجیٹل ملکیتی دستاویزات، ان سب کا انحصار تنازعات کے قابلِ اعتماد حل کے نظام پر ہے۔ انتظامی یا ریگولیٹری معاملات میں آسانی سے دستیاب اور مقررہ مدت کے اندر نمٹائی جانے والی اپیلوں کا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔ ان میں وجوہات پر مبنی فیصلے، آزادانہ عدالتی نظرثانی اور ضرورت کے وقت فوری ریلیف کی فراہمی بھی شامل ہو۔
جن مقدمات میں باقاعدہ عدالتی فیصلے کی ضرورت ہو، ان کے لیے سماعتوں کا قابلِ اعتماد شیڈول، غیر ضروری التوا میں کمی، چھوٹے دعووں کے مقدمات کے لیے آسان طریقہ کار اور فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد عملی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد کے ساتھ ان کی مدت بھی شائع کی جانی چاہیے تاکہ پیش رفت کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔ بروقت انصاف اور منصفانہ فیصلے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جن کے لیے سیاسی دباؤ سے آزاد عدالتوں کا ہونا ضروری ہے۔ کسی حق کی عملی اہمیت محدود ہو جاتی ہے اگر اسے اس وقت تک حاصل نہ کیا جا سکے جب تک اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع موجود ہو۔
سرکاری اخراجات کے لیے بھی اسی طرح واضح معیار مقرر کیے جا سکتے ہیں۔ سرکاری اداروں کا جائزہ انہیں فراہم کی جانے والی نقد مالی معاونت، حکومتی ضمانتوں اور تجارتی امکانات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ اس سے ان کی تنظیمِ نو، مسابقتی بنیادوں پر فروخت یا بندش کے فیصلے کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ عوامی خدمات اور ملازمین کی منتقلی سے متعلق انتظامات بھی واضح طور پر طے کیے جائیں۔ سرکاری خریداری کے ٹھیکوں، اصل مستفید مالکان اور معاہدوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی تفصیلات شائع کرنے سے شفافیت میں اضافہ ہو گا۔
نئے ترقیاتی منصوبوں کا تقابل پہلے سے موجود اثاثوں کی تکمیل اور دیکھ بھال سے حاصل ہونے والے فوائد کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ منصوبے کے آغاز ہی میں اس کے آپریشنل اخراجات اور ذمہ دار محکمے کی نشاندہی بھی ضروری ہے۔
وسیع سڑکوں، انڈر پاسز اور فلائی اوورز کی بڑھتی ہوئی تعمیر کو ترقی سمجھنے کا رجحان دراصل تعمیراتی ڈھانچے کو معاشی پیش رفت کا پیمانہ بنا دیتا ہے، جبکہ اس سے شہری پھیلاؤ اور طویل سفری فاصلوں جیسے بنیادی مسائل نظر انداز ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت معیشت کو تعمیر اور دیکھ بھال کے اخراجات، ایندھن کے زیادہ استعمال، ٹریفک جام، آلودگی اور کام کے قیمتی وقت کے ضیاع کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
سرکاری اخراجات کا رخ سڑکیں چوڑی کرنے اور نئے فلائی اوورز تعمیر کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد بس سروسز، مسلسل اور معیاری فٹ پاتھوں اور محفوظ پیدل گزرگاہوں کی طرف موڑنا چاہیے۔ اسی طرح شہری منصوبہ بندی کے قواعد ایسے ہونے چاہئیں کہ گھروں، دکانوں اور دفاتر کو ایک دوسرے کے قریب تعمیر کرنے کی اجازت ہو، نہ کہ ہر روز کے معمول کے سفر کے لیے لوگوں کو سڑکوں پر انحصار کرنے پر مجبور کیا جائے۔
زراعت کے شعبے میں نہروں کے ابتدائی اور آخری مقامات پر پانی کی پیمائش اور حقیقی طور پر فراہم کیے جانے والے پانی کی تفصیلات شائع کرنے سے منصفانہ آبی سہولت کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ پانی کی فراہمی میں بہتری کے مطابق آبیانہ کی شرحوں پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے۔ بیجوں کی آزادانہ جانچ اور مقامی اقسام، بالخصوص کپاس کی مختلف اقسام کے نتائج کی اشاعت سے کاشت کاروں کو بہتر انتخاب میں مدد ملے گی۔ گوداموں کی رسیدوں، کولڈ اسٹوریج اور زرعی پیداوار کی درجہ بندی کی سہولت تک آسان رسائی سے چھوٹے کاشت کاروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں طلبہ کی حاضری اور بنیادی مطالعے کی صلاحیت کے نتائج کی بنیاد پر وسائل ان بچوں کی طرف منتقل کیے جا سکتے ہیں جو تعلیمی اعتبار سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اسی طرح فنی تعلیم کے لیے مالی وسائل مختص کرتے وقت تربیت یافتہ افراد کی ملازمت برقرار رکھنے کے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نتائج کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ محفوظ ٹرانسپورٹ، بچوں کی نگہداشت کی سہولت اور آجروں کی معاونت سے چلنے والے اپرنٹس شپ پروگراموں کے ذریعے زیادہ افراد کے لیے معاوضے کے عوض کام کرنا آسان بنایا جا سکتا ہے۔
آبادی میں اضافے کو بھی اصلاحاتی ایجنڈے میں واضح طور پر شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق 2017ء سے 2023ء کے دوران پاکستان کی آبادی میں سالانہ اوسط شرحِ نمو 2.55 فیصد رہی۔ اس اضافے سے اسکولوں، روزگار، رہائش اور بنیادی خدمات کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آبادی میں اضافے کو پائیدار انداز میں متوازن کرنے کے لیے رضاکارانہ اور باخبر انتخاب، بہتر تعلیم اور قابلِ رسائی صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے معاونت کی جانی چاہیے، تاہم اس مقصد کے لیے کسی قسم کا جبر یا عددی اہداف مقرر نہیں ہونے چاہئیں۔
صوبائی اور مقامی حکومتوں کے بجٹ میں آبادی سے متعلق مستقبل کے تخمینوں کو شامل کیا جانا چاہیے اور محکموں کی ذمہ داریاں واضح ہونی چاہئیں تاکہ سرمایہ کاری مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہو۔ اسکولوں میں تعلیم مکمل کرنے کی شرح، بنیادی خدمات تک رسائی اور روزگار کے مواقع میں پیش رفت سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ مواقع بھی اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔
اس حوالے سے بتدریج لیکن غیر ضروری تاخیر کے بغیر اقدامات کرنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ غربت، تعلیم سے محرومی اور ناقص غذائیت دراصل مواقع سے محروم رہ جانے کی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی علامات ہیں، انہیں الگ الگ آبادیوں کے طور پر شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔ ادارے اپنی اصلاحات مکمل کرنے میں جتنا بھی وقت لیں، بچوں کی ضروریات بدستور موجود رہتی ہیں۔ اس لیے غذائیت، تعلیم اور مخصوص طبقات کے لیے معاونت پر سرمایہ کاری کو وسیع تر اصلاحات کے ساتھ ساتھ جاری رکھا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ صرف معاشی نمو سے ان مسائل کے حل کا انتظار کیا جائے۔
مجموعی طور پر یہ تجاویز بنیادی نوعیت کی ادارہ جاتی تبدیلیوں کا تقاضا کرتی ہیں، جن میں اداروں کے اختیارات، صوابدیدی فیصلوں اور جواب دہی کے نظام پر ازسرنو غور کرنا اور ایک دوسرے سے متداخل ذمہ داریوں کو اصلاحاتی پروگرام کے حصے کے طور پر معقول بنانا شامل ہے۔ تجارتی فیصلوں کی رہنمائی مسابقتی منڈیوں کو کرنی چاہیے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری منصفانہ قواعد و ضوابط، ضروری حفاظتی اقدامات اور مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہونی چاہیے۔
اس پروگرام کی سمت متعین کرنے کے لیے دو باہم مربوط پیمانے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ تجارتی اصلاحات سے نئے کاروباروں کے داخلے، معلومات تک رسائی اور قدر میں اضافے کے مواقع بہتر ہوئے ہیں یا نہیں۔ دوسرا یہ کہ عوامی خدمات سے ان تک رسائی، معیار اور عوامی افادیت میں بہتری آئی ہے یا نہیں۔ ان دونوں کے لیے مالیاتی پائیداری اور واضح طور پر نظر آنے والے نتائج ضروری ہیں۔
ضروریات کا حجم فوری پیش رفت کا تقاضا کرتا ہے۔ عالمی بینک کے غربت اور عدم مساوات سے متعلق پلیٹ فارم کے مطابق 2024ء میں پاکستان کی 22.96 فیصد آبادی یومیہ 3 ڈالر کی بین الاقوامی انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی تھی۔ یہ تخمینہ 2021ء کی قوتِ خرید کی برابری کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ دوسری جانب یونیسیف کے اندازے کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد کا 35 فیصد ہیں۔ پیش رفت کا اندازہ ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگی، کسٹمز کلیئرنس کی قطاروں میں کمی، توانائی کے قابلِ اعتماد کنکشن، تنازعات کے منصفانہ حل اور بچوں کے پڑھنا سیکھنے جیسے ٹھوس نتائج سے ہونا چاہیے۔
ایک نتیجہ خیز معیشت وہ ہوتی ہے جہاں ایسے نتائج بتدریج معمول بن جائیں اور لوگوں کو اس اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے کہ وہ جن قواعد و ضوابط کے تحت کام کر رہے ہیں، ان پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔