✕
پاکستان

پاکستان اور برطانیہ کا انسدادِ دہشت گردی، سائبر جرائم اور امیگریشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

  • برطانوی وزیر مملکت ڈین جاروس کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے ایف آئی اے کی کارکردگی کو سراہا گیا
شائع اپ ڈیٹ
  1. پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی، منشیات کی روک تھام، سائبر کرائم، امیگریشن اور سیکیورٹی سے متعلق دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاقِ رائے جمعے کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانیہ کے وزیر مملکت برائے سیکیورٹی ڈین جاروس کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)، کوسٹ گارڈز اور تربیتی پروگراموں کے حوالے سے بھی باہمی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

    ملاقات میں منشیات کی روک تھام کے حوالے سے تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو جلد حتمی شکل دینے کے منصوبے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اس کے علاوہ برطانیہ کے نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے درمیان تعاون کو مکمل طور پر فعال بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اس سلسلے میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے کردار پر بھی بات چیت ہوئی۔

محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران منشیات اسمگلنگ کے 330 واقعات کو ناکام بنایا ہے۔ دونوں ممالک نے وزارتِ داخلہ کے درمیان قائم مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس بلانے پر بھی اتفاق کیا۔

ڈین جاروس نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی کارکردگی کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف کیا۔

برطانوی وزیر نے سائبر کرائم کو ایک بین الاقوامی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مؤثر تدارک کے لیے مختلف ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط ہے، جسے مزید وسعت دی جانی چاہیے۔

محسن نقوی نے اَپسکل منصوبے کے تحت ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ منصوبہ پاکستانی اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔