✕
دنیا

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو گھر میں نظر بند کردیا گیا

  • نجیب رزاق 2009 سے 2018 تک ملائیشیا کے وزیراعظم رہے
شائع اپ ڈیٹ

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر شاہی معافی کی شرائط کے تحت عائد 50 ملین رنگٹ (12.32 ملین ڈالر) جرمانہ ادا کر دیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں گھر میں نظر بند کرنے کے انتظامات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان کی سیاسی جماعت نے جمعہ کو جرمانے کی ادائیگی کی تصدیق کی۔

نجیب رزاق 2009 سے 2018 تک ملائیشیا کے وزیراعظم رہے۔ انہیں سرکاری سرمایہ کاری فنڈ ون ملائیشیا ڈیولپمنٹ برحد سے اربوں ڈالر کی خرد برد کے مقدمے میں بدعنوانی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ فنڈ انہوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے قائم کیا تھا۔

نجیب رزاق مسلسل اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ملائیشیا کے بادشاہ نے ستمبر میں دوسری شاہی معافی کے تحت انہیں باقی سزا گھر میں نظر بندی کے دوران گزارنے کی اجازت دی تھی۔

تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں کب جیل سے ان کے گھر منتقل کیا جائے گا۔ سابق وزیراعظم کے ایک معاون نے بھی اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

شاہی معافی کی شرائط کے مطابق نجیب رزاق کو 50 ملین رنگٹ جرمانہ ادا کرنا تھا۔ ان کی جماعت یونائیٹڈ ملائیز نیشنل آرگنائزیشن (امنو) نے بتایا کہ فنڈز جمع کرنے کی مہم کے بعد جرمانے کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے۔

جماعت نے بیان میں کہا کہ اس نے جمعہ کی صبح کوالالمپور ہائی کورٹ میں ادائیگی کے تمام مراحل مکمل کر لیے۔

امریکی تفتیش کاروں کے مطابق اسکینڈل میں مبینہ طور پر 4.5 ارب ڈالر تک کی رقم خرد برد کی گئی، جس میں سے ایک ارب ڈالر سے زائد نجیب رزاق سے منسلک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ سابق وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ انہیں ایک پیچیدہ اور عالمی سطح پر پھیلے مالیاتی اسکینڈل کا قربانی کا بکرا بنایا گیا۔