ڈالر اور ٹریژری بانڈز کے منافع میں کمی، سونے کی قیمت دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4,134.83 ڈالر فی اونس ہوگئی
سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں یہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور ٹریژری بانڈز کے منافع میں گراوٹ نے سونے کی قیمتوں کو تقویت دی جبکہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابی نے بھی مارکیٹ کے رجحان پر اثر ڈالا۔
جمعرات کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4,134.83 ڈالر فی اونس ہوگئی جو 22 اکتوبر کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔
بدھ کو بھی سونے کی قیمت میں تقریباً 3.4 فیصد اضافہ ہوا تھا جو 19 اگست کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔
دسمبر میں ترسیل کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت بھی 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ 4,144.20 ڈالر فی اونس ہوگئی۔
لن ٹران نے کہا کہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور امریکی ٹریژری بانڈز کے منافع میں گراوٹ نے سونے کی قیمت کو دوبارہ 4,000 ڈالر فی اونس کی اہم سطح سے اوپر آنے میں مدد دی، تاہم قیمتوں میں بحالی کے امکانات کے لیے اس سطح سے اوپر برقرار رہنا انتہائی اہم ہے۔
لن ٹران نے مزید کہا کہ اگر سرمایہ کاری کا بہاؤ اور بانڈز کے منافع میں اتار چڑھاؤ بدستور سونے کی قیمتوں کو سہارا دیتے رہے تو سونا 4,000 ڈالر فی اونس سے اوپر اپنی قیمت مستحکم کرسکتا ہے۔ اس سے قیمتوں میں بحالی کا راستہ بھی کھل سکتا ہے جس کے نتیجے میں سونا پہلے 4,200 ڈالر اور اس کے بعد 4,400 ڈالر فی اونس کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔
جمعرات کو امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد ڈالر کی قدر میں معمولی کمی واقع ہوئی۔ اس کامیابی نے غیر یقینی صورتِ حال کے ایک بڑے سبب کو ختم کر دیا اور عالمی حصص کی منڈیوں میں تیزی کو تقویت دی۔
ڈالر کی قدر میں کمی سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں قیمت لگائے جانے والے سونے کی خریداری نسبتاً سستی ہوجاتی ہے۔
امریکی ٹریژری کے 10 سالہ بینچ مارک بانڈز پر منافع میں راتوں رات 6 بیسس پوائنٹس کی کمی ہوئی جبکہ ٹوکیو کی مارکیٹ میں کاروبار کے ابتدائی اوقات کے دوران مزید ایک بیسس پوائنٹ کی کمی کے بعد یہ شرح 4.87 فیصد رہ گئی۔
اب مارکیٹ شرکاء جمعے کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ کے منتظر ہیں جس سے امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے امکانات کا مزید اندازہ لگایا جاسکے گا۔
سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق تاجر فی الحال یہ توقع کررہے ہیں کہ دسمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کا امکان 82 فیصد ہے۔
شرحِ سود میں اضافہ غیر منافع بخش اثاثے، یعنی سونا، رکھنے کی متبادل لاگت بڑھا دیتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے اس کی کشش کم ہو جاتی ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسپاٹ سلور کی قیمت 1.7 فیصد بڑھ کر 53.12 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1,527.65 ڈالر فی اونس جبکہ پیلیڈیم 2.6 فیصد بڑھ کر 1,030.14 ڈالر فی اونس ہو گیا۔