مصر کی پاکستانی کمپنیوں کو امریکی منڈی تک رسائی کی پیشکش
- مصری وزیر نے مصر میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی کمپنیوں کو پیداواری اور صنعتی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی
مصر نے پاکستانی کمپنیوں کو شمالی افریقی ملک میں پیداواری یونٹس قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ وہ امریکا کے ساتھ مصر کے ترجیحی تجارتی معاہدوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ایک بیان کے مطابق یہ پیش رفت استنبول، ترکیہ میں اقتصادی و تجارتی تعاون کی تنظیم (کومسیک) کی قائمہ کمیٹی کے 42ویں اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی سعودی عرب میں یکے بعد دیگرے دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران سامنے آئی۔
مصر کے وزیر سرمایہ کاری و خارجہ تجارت محمد فرید صالح کے ساتھ دوطرفہ ملاقات میں جام کمال خان نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا، بالخصوص کپاس اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔
مصری وزیر نے مصر میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی کمپنیوں کو پیداواری اور صنعتی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے امریکا کے ساتھ مصر کے ترجیحی تجارتی معاہدوں کی جانب توجہ مبذول کرائی، جن کے تحت پاکستانی سرمایہ کار مصر میں پیداواری یونٹس قائم کرکے امریکی منڈی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں، تاہم اس کے لیے متعلقہ تجارتی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
فرید صالح نے آئندہ کاروباری فورم میں شرکت کرنے والی متوقع پاکستانی کمپنیوں کی تفصیلات بھی طلب کیں تاکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دیا جاسکے اور ممکنہ سرمایہ کاری کی شراکت داریوں کی نشاندہی کی جاسکے۔
انہوں نے پاکستانی طلبہ کے لیے مصر میں تعلیمی مواقع کو بھی اجاگر کیا، بالخصوص سائنس، ٹیکنالوجی، طب، صحت اور انجینئرنگ کے شعبوں میں، اور بتایا کہ وہاں نسبتاً کم اخراجات پر تعلیمی سہولیات دستیاب ہیں۔
جام کمال خان نے پاکستان اور مصر کی نجی شعبے کی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبے قائم کرنے اور ٹیکسٹائل، مینوفیکچرنگ سمیت دیگر باہمی مفاد کے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان قریبی روابط اور ادارہ جاتی تعلقات کو مضبوط بنانے سے دونوں ممالک کو اپنی تجارتی شراکت داریوں میں توسیع اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مواقع تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سعودی عرب کے بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کے ڈپٹی گورنر فرید ایس العسلی کے ساتھ ملاقات میں دونوں فریقوں نے زراعت اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اس میں انسانی وسائل کی ترقی، مویشی بانی اور غذائی تحفظ کے شعبے خصوصی طور پر شامل ہیں۔
جام کمال خان نے پاکستانی اور سعودی کمپنیوں کے درمیان باہمی مفاد کے نئے مشترکہ منصوبوں کے مواقع کی نشاندہی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر دونوں ممالک کے بڑے کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کی تجویز دی تاکہ افریقی منڈیوں میں ابھرتے ہوئے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
وزیر تجارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی امکانات کو عملی کاروباری شراکت داریوں میں تبدیل کرنے کے لیے ادارہ جاتی اور نجی شعبے کے درمیان روابط میں اضافہ ضروری ہے۔
دریں اثنا، تیونس کے وزیر تجارت و برآمدات کے فروغ سمیر عابد کے ساتھ دوطرفہ ملاقات میں جام کمال خان نے پاکستان اور تیونس کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھانے اور اقتصادی و صنعتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں وزرا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دوطرفہ تجارت کا موجودہ حجم حقیقی صلاحیت سے نمایاں طور پر کم ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان نئے مواقع کی نشاندہی اور تجارتی روابط مضبوط بنانے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
مذاکرات میں خصوصی طور پر زراعت، معدنیات، ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی گئی۔ دونوں فریقوں نے ان شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کے وسیع امکانات کو تسلیم کیا۔
جام کمال خان نے زور دیا کہ پاکستان اور تیونس مخصوص شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات، تکنیکی مہارت اور صنعتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے پیداواری صلاحیت اور مسابقت بہتر بنانے کے لیے معلومات کے تبادلے، پیداواری طریقوں میں بہتری اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی اہمیت بھی اجاگر کی۔