حکومت کی 10 روپے کا نوٹ ختم کرکے سکہ جاری کرنے، نئے کرنسی ڈیزائنز کی منظوری
- سینیٹ سیکریٹریٹ کے بیان کے مطابق 5 ہزار روپے کے ایک نوٹ کی چھپائی پر تقریباً 14 روپے لاگت آتی ہے
وفاقی کابینہ نے سکیورٹی کی بہتر خصوصیات کے حامل نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کے وسیع تر منصوبے کے تحت موجودہ 10 روپے کے نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بدھ کے روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔
کابینہ نے وزارتِ خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائنز کی بھی منظوری دے دی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر کے فنکاروں اور ڈیزائنرز سے تجاویز طلب کی گئی تھیں، جبکہ وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت بھی کی تھی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں میں جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے سکیورٹی کے بہتر انتظامات کیے جائیں گے۔ نوٹوں کی پائیداری بڑھانے اور ان کی مدتِ استعمال میں اضافہ کرنے کے لیے جدید مواد بھی استعمال کیا جائے گا۔
10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ جاری کرنے کی منظوری اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے پیش نظر اس مالیت کا نوٹ ختم کرنے کی تجویز کے بعد دی گئی ہے۔
اگست میں ایس بی پی کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا تھا کہ مرکزی بینک نے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کے بعد 10 روپے کا نوٹ گردش سے نکالنے کی تجویز دی ہے۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نئے کرنسی نوٹوں کو گردش میں لانے کے لیے تقریباً ایک سال درکار ہوگا۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کے ایک بیان کے مطابق 5 ہزار روپے کے نوٹ کی چھپائی پر تقریباً 14 روپے لاگت آتی ہے۔
اجلاس کے دوران ایس بی پی کے ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ موجودہ 5 ہزار روپے کا نوٹ 2005 میں متعارف کرایا گیا تھا اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے باعث اس کی جعل سازی آسان ہوگئی ہے۔
مرکزی بینک نے جنوری 2024 میں تمام موجودہ مالیتوں کے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور اجرا کا عمل شروع کیا تھا۔ اس سلسلے میں مارچ 2024 میں فنکارانہ مقابلے کا بھی آغاز کیا گیا، جس کے تحت جدید اور موضوعاتی ڈیزائنز کی تجاویز طلب کی گئی تھیں۔
ستمبر 2024 میں ایس بی پی نے مقابلے کے کامیاب امیدواروں کا اعلان کیا، جبکہ مارچ 2025 میں سکیورٹی پیپرز لمیٹڈ نے کاغذ سازی کی مشینری کو جدید بنانے کا 3.4 ارب روپے کا منصوبہ جرمن کمپنی گیزیکے اینڈ ڈیورینٹ (جی اینڈ ڈی) کو دیا تھا۔
اس منصوبے کی تکمیل 18 ماہ میں متوقع تھی۔
کابینہ نے 26 اکتوبر کو ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارہ جات کے اجلاس اور جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے مختلف اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔