✕
دنیا

وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو شکست، تجارتی شراکت داروں کو امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت کا موقع مل سکتا ہے

  • وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے ٹرمپ کمزور، تاہم تجارتی شراکت داروں کو اب بھی ایک غیر متوقع رہنما کا سامنا؛ تحفظ پسندانہ پالیسیاں جاری رہنے کا امکان
شائع اپ ڈیٹ

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو بھاری شکست سے بعض تجارتی شراکت داروں کو ان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ مل سکتا ہے، تاہم انہیں ٹرمپ کو اقتدار کے آخری دو برسوں میں اشتعال دلانے سے بچنے کے لیے محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

منگل کے روز ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں میں اکثریت حاصل کرلی، جبکہ امریکی ووٹرز نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو سختی سے مسترد کردیا۔ ان پالیسیوں میں محصولات بھی شامل ہیں، جنہیں ایران جنگ کے ساتھ مسلسل مہنگائی کی ایک وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

اس پیش رفت سے جاری مذاکرات میں اقتصادی حریف چین کو برتری حاصل ہونے کا تاثر مل سکتا ہے، ایشیا میں امریکی اتحادیوں کو سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدوں پر عمل درآمد سست کرنے کا حوصلہ مل سکتا ہے، جبکہ یورپ کو تجارت سے متعلق ان معاملات پر زیادہ پیش بینی میسر آسکتی ہے جو تاحال حل طلب ہیں۔

تاہم بعض تجارتی شراکت داروں کو اب بھی مشکلات کا سامنا نظر آرہا ہے، کیونکہ ٹرمپ کی جانب سے محصولات سے متعلق اپنی پالیسیوں پر ووٹرز کے فیصلے کو قبول کرنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے، حالانکہ ان پالیسیوں نے عالمی تجارت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی تجارتی کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لانگے نے کہا ہے کہ ’’امریکا کی تحفظ پسندانہ پالیسیوں کا خاتمہ محض خودبخود نہیں ہو جائے گا۔‘‘

’’کمزور پڑنے کے بعد ٹرمپ مزید جارحانہ اور غیر متوقع رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔ اقتدار سے رخصتی کے قریب پہنچنے والا رہنما بہت جلد غصے میں بپھر سکتا ہے۔‘‘

بھارت کے سابق سفارت کار اور تھنک ٹینک گیٹ وے ہاؤس کے ممتاز فیلو راجیو بھاٹیہ نے کہا ہے کہ ’’ڈیموکریٹس کی کامیابی لازماً ٹرمپ کو کسی بھی ملک کے ساتھ زیادہ لچکدار رویہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں کرے گی۔‘‘

اتحادیوں کو نسبتاً آسان راستے کی امید

جن ممالک کو خاموشی سے امریکی دباؤ میں کمی کی امید ہوسکتی ہے، ان میں ایشیا کے امریکا کے قریبی ترین اتحادی بھی شامل ہیں۔ جاپان نے ٹرمپ کو مطمئن کرنے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کے تحت امریکا میں 550 ارب ڈالر جبکہ جنوبی کوریا نے 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

سیئول کی سوگانگ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ہیو یون نے کہا ہے کہ اب ان ممالک کو ایسے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے دباؤ نسبتاً کم محسوس ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول، ’’ایسا لگتا ہے کہ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ اتحادیوں سے سرمایہ کاری کے وعدے دباؤ ڈال کر حاصل کیے گئے تھے۔‘‘

تاہم ٹوکیو کی صوفیہ یونیورسٹی میں امریکی سیاست کے پروفیسر کازوہیرو مائیشیما نے کہا ہے کہ اتحادیوں کے لیے ان وعدوں سے آسانی سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے بقول، ’’محصولات کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ اگر جاپان نے ردعمل دینے میں سستی دکھائی تو اضافی محصولات عائد کرنے کے مطالبات دوبارہ سامنے آسکتے ہیں۔‘‘

جنوبی کوریا بھی ان ممالک میں نمایاں طور پر شامل ہوگیا ہے جن پر ٹرمپ کا غصہ اس لیے بھڑکا ہے کہ ان کے خیال میں یہ ممالک سرمایہ کاری کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سیئول نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ جنوبی کوریا نے الاسکا ایل این جی منصوبے، یعنی ایک بڑی گیس پائپ لائن، کے لیے مالی معاونت پر اتفاق کیا تھا۔ کوریا نیشنل ڈپلومیٹک اکیڈمی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر بان کِل جو کے مطابق، ایسے منصوبوں پر امریکی کانگریس کی جانب سے جانچ پڑتال سے سیئول کو ان کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت مل سکتا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ کانگریس کی تشکیل میں تبدیلیوں سے قطع نظر امریکی انتظامیہ، کانگریس اور مختلف ریاستوں کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی امور پر بات چیت جاری رکھے گی۔

یورپ کے ساتھ اختلافات کا خدشہ برقرار، بھارت اب بھی تجارتی معاہدے کا خواہاں

یورپ میں امریکا اور یورپ کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑی حد تک ایسے کئی معاہدوں کے باعث کم ہوئی ہے جنہوں نے اب تک ٹرمپ کی جانب سے امریکی محصولات کے وسیع حملے کے اثرات محدود رکھے ہیں۔

تاہم بعض معاملات پر اختلافات کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔ ان میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا ٹرمپ ان یورپی ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کریں گے جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ڈیجیٹل خدمات ٹیکس عائد کرتے ہیں، اور آیا وہ یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئربس کو سرکاری خزانے سے 3 ارب یورو کے قرض کی فراہمی پر ردعمل دیں گے۔

امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر مذاکرات کرنے والے بھارت کے لیے وسط مدتی انتخابات کے نتائج انتظار کرو اور دیکھو کی حکمت عملی اپنانے کی ترغیب بن سکتے ہیں۔

بھارت کے وزیر تجارت نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ بھارت اور امریکا کے تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کا مسودہ تیاری کے آخری مراحل میں ہے، تاہم انہوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ نئی دہلی اس معاہدے پر اسی صورت آگے بڑھے گا جب اسے حریف برآمد کنندگان کے مقابلے میں کوئی برتری حاصل ہوگی۔

بیجنگ کے ساتھ معاملات میں ٹرمپ کو کھلی چھوٹ ملنے کا امکان نہیں

امریکا کا سب سے بڑا حریف چین ہے، جس نے ٹرمپ کے ساتھ تجارتی جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا، جس کی مدت جنوری میں ختم ہو رہی ہے۔ بیجنگ ٹرمپ کی سیاسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے طریقے تلاش کرسکتا ہے، تاہم کانگریس کی کڑی نگرانی کے باعث اسے ٹرمپ کو اپنے حق میں آمادہ کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

آسٹریلیا میں کورِنا اکنامک ایڈوائزری کے ماہرِ معاشیات سول ایسلیک نے چین کے صدر شی جن پنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’شی جن پنگ سمجھ جائیں گے کہ ان انتخابی نتائج نے ٹرمپ کے اختیارات کو بڑی حد تک کمزور کردیا ہے اور وہ یقیناً اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں پر غور کررہے ہوں گے۔‘‘

امریکی صدر نے شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، تاہم ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول کانگریس مستقبل کے معاہدوں میں مراعات دینے کی ان کی صلاحیت محدود کرسکتی ہے۔

نیٹیکس میں ایشیا پیسیفک کی چیف ماہرِ معاشیات ایلیشیا گارسیا ہیریرو نے کہا ہے کہ ’’ڈیموکریٹس ٹرمپ کو بیجنگ کے ساتھ معاہدوں کے معاملے میں کھلی چھوٹ دینے کا امکان نہیں رکھتے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈیموکریٹس پہلے ہی شی جن پنگ کے ساتھ ٹرمپ کی سربراہی ملاقاتوں کو مصنوعی ذہانت جیسے اہم شعبوں میں ٹھوس پیش رفت نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول کانگریس ٹیکنالوجی کی برآمدات پر سخت پابندیوں اور مصنوعی ذہانت و سیمی کنڈکٹرز کی سپلائی چینز کی کڑی جانچ پڑتال کی زیادہ حمایت کرسکتی ہے، جس سے ان تیزی سے ترقی کرتے شعبوں کو متاثر کرنے والی رعایتیں دینے کے معاملے میں ٹرمپ کی گنجائش مزید محدود ہوجائے گی۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وسط مدتی انتخابات امریکا کا اندرونی معاملہ ہیں اور بیجنگ واشنگٹن کے ساتھ اختلافات کو سنبھالنے اور تعاون کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔