✕
رائے

پاکستانیوں اور ان کے سرمائے کو وطن واپس لانا

  • غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے اور سرمایہ پاکستان منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس میں رعایت، سرمایہ کاری کے وسیع مواقع اور اصل سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا حق دینے کی تجویز
شائع اپ ڈیٹ

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثے رکھنے والے مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے ایک منظم تجویز

اس مضمون میں ان بنیادی مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا سامنا بیرون ملک اثاثے رکھنے والے پاکستانی ٹیکس رہائشیوں کو ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ان اقدامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن کے ذریعے انہیں اپنے جائز غیر ملکی اثاثے اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی رقوم پاکستان منتقل کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔

ان مسائل میں ماضی میں حاصل کیے گئے اثاثوں کو ظاہر کرنے کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال، اثاثوں کی لاگتِ خرید کی تصدیق، بیرون ملک سے حاصل ہونے والی آمدن اور منافع پر ٹیکس، شرحِ مبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے اثرات، نیز پاکستان منتقل کیے جانے والے غیر ملکی سرمائے کے تحفظ اور اسے دوبارہ بیرون ملک منتقل کرنے کے حقوق شامل ہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ وطن واپس آنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانی کو غیر رہائشی حیثیت میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کے نسبتاً وسیع مواقع دستیاب ہوتے ہیں، لیکن پاکستان کا ٹیکس رہائشی بننے کے بعد اس کے لیے سرمایہ کاری کے دستیاب ذرائع نمایاں طور پر محدود ہو جاتے ہیں۔

اس صورت حال سے پاکستان میں غیر ملکی رقوم لانے کی تجارتی کشش کم ہو جاتی ہے اور اس بات کا خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ بصورتِ دیگر ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے پاکستانی بھی اپنے اثاثے اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی رقوم بیرون ملک ہی رکھنے کو ترجیح دیں گے۔

موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات میں ان خدشات کا ازالہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ پاکستان اپنی عالمی اقتصادی حیثیت بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹیکس رہائش اور سیکشن 51(1): تفہیم اور نظرثانی کی ضرورت

پاکستان کا ٹیکس رہائشی عمومی طور پر اپنی دنیا بھر سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں حاصل ہونے والی آمدن کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی آمدن، مثلاً کرایہ، منافع، ڈیویڈنڈ، تنخواہ یا سرمایہ جاتی منافع بھی پاکستانی ٹیکس گوشوارے میں شامل ہو سکتی ہے، تاہم اس کا اطلاق کسی قابلِ اطلاق استثنیٰ، بیرون ملک ادا کردہ ٹیکس کی رعایت یا متعلقہ ٹیکس معاہدے سے مشروط ہے۔

زمرہ اوّل: پاکستان واپس آنے والے پاکستانی

مسئلہتجویز
(الف) پہلے ٹیکس گوشوارے میں غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرناسیکشن 111 اور 116 میں وضاحتی ترامیم کی جائیں تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ سیکشن 51(1) کے تحت اہل قرار پانے والے شخص کی جانب سے ظاہر کیے گئے غیر ملکی اثاثے، ان کی آمدن کے تاریخی ذرائع کا ثبوت طلب کیے بغیر قبول کیے جائیں گے۔

مسئلے کی وضاحت:

وطن واپس آنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پہلے ٹیکس گوشوارے اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں غیر ملکی اثاثے ظاہر کرے۔ تاہم، ان اثاثوں کی آمدن کے تاریخی ذرائع کا ثبوت طلب کرنا مناسب نہیں، کیونکہ یہ آمدن اس وقت حاصل ہوئی تھی جب متعلقہ شخص پاکستان کا ٹیکس رہائشی نہیں تھا اور پاکستان کے دائرۂ اختیار سے باہر تھا۔

مجوزہ حل:

ثبوت کا تقاضا صرف دستاویزِ خرید یا حصولِ اثاثہ، غیر ملکی کرنسی میں تاریخ اور لاگت، نیز پاسپورٹ پر پاکستان آمد اور روانگی کے ریکارڈ تک محدود ہونا چاہیے، جو مطلوبہ مدت تک غیر رہائشی رہنے کی تصدیق کرتے ہوں۔ اثاثے کے حصول کی تفصیلات کی تصدیق عموماً اس وقت کی جانی چاہیے جب اسے فروخت کیا جائے۔

یہ ترامیم وضاحتی نوعیت کی ہوں گی اور غیر واضح ذرائع سے حاصل کردہ اثاثوں کے لیے کوئی نئی ایمنسٹی یا ٹیکس چھوٹ متعارف کرائے بغیر غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ کریں گی۔

مسئلہتجویز
(ب) دو سالہ ٹیکس چھوٹ اور اس کے بعد تین سالہ مدت کے دوران غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکسسیکشن 51(1) کے تحت پہلے سے موجود دو سالہ ٹیکس چھوٹ برقرار رکھی جائے۔ اس مدت کے اختتام کے فوراً بعد مزید تین سال کے لیے ایک علیحدہ رعایتی مدت متعارف کرائی جائے، جس کا اطلاق سیکشن 51(1) کی شرائط پر پورا اترنے والے وطن واپس آنے والے پاکستانی پر ہو۔ اس تین سالہ مدت کے دوران غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی اہل آمدن پر 15 فیصد کی حتمی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔ تین سالہ مدت ختم ہونے کے بعد ایسی آمدن پر پاکستان میں معمول کے مطابق قابلِ اطلاق مکمل شرحوں سے ٹیکس وصول کیا جائے۔

مسئلے کی وضاحت:

سیکشن 51(1) کے تحت اہل قرار پانے والے غیر ملکی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کو اس ٹیکس سال میں، جس کے دوران متعلقہ فرد پاکستان کا ٹیکس رہائشی بنتا ہے، اور اس کے اگلے ٹیکس سال میں ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اس دو سالہ چھوٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر پاکستان میں نافذ مکمل شرحوں کے مطابق ٹیکس عائد ہوگا۔

مسئلہتجویز
(ج) تین سالہ رعایتی مدت کے دوران غیر ملکی اثاثوں کی فروخت، دوبارہ سرمایہ کاری اور اصل سرمائے کا تحفظاگر تین سالہ رعایتی مدت کے دوران کوئی اہل غیر ملکی اثاثہ فروخت کیا جاتا ہے تو پہلے فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے اصل غیر ملکی کرنسی میں موجود لاگتِ خرید منہا کرکے منافع کا حساب لگایا جائے۔ صرف غیر ملکی کرنسی میں حاصل ہونے والے اس منافع کو اثاثے کی فروخت کی تاریخ پر رائج شرحِ مبادلہ کے مطابق پاکستانی روپے میں تبدیل کرکے 10 فیصد کی حتمی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔

مسئلے کی وضاحت:

تین سالہ رعایتی مدت ختم ہونے کے بعد غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن اور اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع پر مکمل شرحوں کے مطابق ٹیکس عائد ہوگا۔ لہٰذا وطن واپس آنے والے پاکستانی کو مزید ترغیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس مدت کے دوران اپنا غیر ملکی اثاثہ فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم پاکستان منتقل کرے۔

موجودہ طریقۂ کار میں تاریخی شرحِ مبادلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی روپے میں منافع کا حساب لگانے سے روپے کی قدر میں کمی کے باعث پیدا ہونے والا شرحِ مبادلہ کا منافع بھی قابلِ ٹیکس ہو سکتا ہے، حالانکہ یہ اضافہ محض روپے کی قدر گرنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اگر سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہوں یا اصل غیر ملکی سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا حق محفوظ نہ رہے تو متعلقہ شخص فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پاکستان بھیجنے سے گریز کر سکتا ہے۔

مجوزہ حل:

پاکستان منتقل کی جانے والی خالص رقم کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کے ذریعے اسی بنیاد پر سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی جائے جو غیر رہائشی پاکستانیوں کے لیے دستیاب ہے۔ اس میں حکومتی سیکیورٹیز، اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ حصص، ضابطہ کار کے تحت کام کرنے والے فنڈز، منظور شدہ رئیل اسٹیٹ اور دیگر مجاز سرمایہ کاری کے ذرائع شامل ہوں۔

وطن واپس آنے والے اہل پاکستانی کو محدود کمپنیوں میں دستاویزی رقم سے سرمایہ کاری کی اجازت بھی دی جانی چاہیے۔ مقامی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے ڈیویڈنڈ اور منافع کی ادائیگی پاکستانی روپے میں کی جا سکتی ہے، تاہم پاکستان لایا گیا اصل غیر ملکی سرمایہ اپنا محفوظ اور بیرون ملک واپس منتقل کیے جانے کے قابل کردار برقرار رکھے۔ اس سرمائے کو ضابطہ جاتی دستاویزات اور غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مقررہ حفاظتی شرائط سے مشروط کرتے ہوئے دوبارہ بیرون ملک بھیجنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

مسئلہتجویز
(د) مذکورہ تجاویز کا جواز: ٹیکس معاہدوں کی تشریح اور آمدن سے متعلق غیر حل شدہ غیر یقینی صورت حالموجودہ غیر یقینی صورت حال ہی مذکورہ تجاویز کی عملی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اہل غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر تین سال تک 15 فیصد اور غیر ملکی کرنسی میں اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے اہل منافع پر 10 فیصد ٹیکس کا نظام حکومت کے لیے آمدن کا ایک یقینی ذریعہ فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ٹیکس دہندگان کو رقوم پاکستان منتقل کرنے اور ملک میں دستاویزی سرمایہ کاری کرنے کا قابلِ عمل راستہ بھی ملے گا، جبکہ اس معاملے پر قانونی تنازعات سے بھی بچا جا سکے گا۔

مسئلے کی وضاحت:

غیر ملکی جائیداد سے حاصل ہونے والی کرایے کی آمدن اور سرمایہ جاتی منافع، بالخصوص متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں واقع جائیدادوں کے حوالے سے، بعض معاملات میں اپیلیٹ ٹریبونل اور دیگر اعلیٰ اپیلیٹ فورمز کی جانب سے متعلقہ ٹیکس معاہدوں کی تشریح کی بنیاد پر پاکستان میں قابلِ ٹیکس نہیں سمجھے گئے۔

ان تشریحات کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ دیے بغیر، جاری قانونی چارہ جوئی کا مطلب یہ ہے کہ یا تو ٹیکس وصول نہیں ہو رہا یا اس کی وصولی غیر یقینی ہے، جس سے ٹیکس دہندگان اور حکومت دونوں کے لیے طویل عرصے تک غیر یقینی صورت حال برقرار رہتی ہے۔

پاکستان میں مقیم کسی فرد کے لیے ویلتھ اسٹیٹمنٹ (اثاثوں اور واجبات کی تفصیل) جمع کرانا بھی لازم ہے، جس میں پاکستان اور بیرون ملک موجود اس کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات ظاہر کرنا ہوتی ہیں۔

قانون میں مقررہ حدود پوری ہونے کی صورت میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والی آمدن اور غیر ملکی اثاثوں کی الگ تفصیل بھی جمع کرانا ضروری ہو سکتی ہے۔ اس میں گزشتہ برسوں کے دوران حاصل کیے گئے غیر ملکی اثاثے بھی شامل ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ وہ اثاثے بھی جو متعلقہ شخص کے پاکستان کا ٹیکس غیر رہائشی ہونے کے زمانے میں حاصل کیے گئے ہوں۔

ٹیکس رہائش کے تعین کا بنیادی اور اولین اصول یہ ہے کہ کوئی فرد ایک ٹیکس سال کے دوران پاکستان میں 183 دن یا اس سے زیادہ قیام کرے تو اسے پاکستان کا ٹیکس رہائشی تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستانی شہریوں کے لیے فنانس ایکٹ 2022ء کے ذریعے اضافی معیار بھی متعارف کرائے گئے تھے، جن کے تحت پاکستان میں 183 دن سے کم قیام کے باوجود کسی شہری کو پاکستان کا ٹیکس رہائشی قرار دیا جا سکتا ہے۔

زمرہ دوم: ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثے رکھنے والے پاکستان کے مقیم افراد

مسئلہتجویز
(الف) تین سالہ مدت کے دوران ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکسمجوزہ اسکیم متعارف کرائے جانے کے بعد شروع ہونے والی تین سالہ مدت کے دوران پاکستان کے کسی مقیم فرد کے ظاہر کردہ غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی اہل آمدن پر 15 فیصد کی حتمی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔

مسئلے کی وضاحت:

پاکستان میں مقیم افراد فی الحال اپنے غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے یا انہیں پاکستان منتقل کرنے کی حوصلہ شکنی محسوس کر سکتے ہیں، کیونکہ بعض غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر پاکستان میں ٹیکس کی شرحیں، اسی نوعیت کی مقامی سرمایہ کاری پر لاگو شرحوں سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔

ٹیکس کی شرحوں میں یہ فرق ٹیکس دہندگان کو اس بات پر مائل کر سکتا ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی اثاثے پاکستان کے دستاویزی ٹیکس اور سرمایہ کاری کے نظام سے باہر رکھیں، بجائے اس کے کہ انہیں ظاہر کریں اور ان سے حاصل ہونے والی متعلقہ آمدن یا فروخت سے حاصل شدہ رقم پاکستان منتقل کریں۔

مجوزہ حل:

مجوزہ اسکیم کے تحت ابتدائی تین سال تک اہل غیر ملکی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر 15 فیصد کی حتمی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔ ٹیکس کی یہ کم شرح مجموعی طور پر اہل غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن کے معاملے میں اسی نوعیت کی بعض مقامی سرمایہ کاری پر دستیاب شرحوں سے ہم آہنگ ہوگی۔ اس سے غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے اور ان سے حاصل ہونے والی متعلقہ آمدن دستاویزی بینکاری ذرائع کے ذریعے پاکستان منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

تین سالہ رعایتی مدت ختم ہونے کے بعد ایسی آمدن پر پاکستان میں معمول کے مطابق قابلِ اطلاق مکمل شرحوں سے ٹیکس عائد کیا جائے۔

مسئلہتجویز
(ب) تین سالہ مدت کے دوران ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثوں کی فروخت اور حقیقی منافع پر ٹیکساگر تین سالہ مدت کے دوران باقاعدہ ظاہر کیا گیا کوئی غیر ملکی اثاثہ فروخت کیا جائے تو منافع کا حساب غیر ملکی کرنسی میں کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے فروخت سے حاصل ہونے والی غیر ملکی کرنسی کی رقم میں سے اصل لاگتِ خرید منہا کی جائے۔ صرف غیر ملکی کرنسی میں حاصل ہونے والے اس منافع کو اثاثے کی فروخت کی تاریخ پر رائج شرحِ مبادلہ کے مطابق پاکستانی روپے میں تبدیل کرکے 10 فیصد کی حتمی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی خالص رقم دستاویزی بینکاری ذرائع کے ذریعے پاکستان منتقل کی جائے۔

مسئلے کی وضاحت:

پاکستان میں مقیم کوئی فرد ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثہ فروخت کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم پاکستان منتقل کرنے سے گریز کر سکتا ہے، کیونکہ موجودہ طریقۂ کار کے تحت پاکستانی روپے میں منافع کا حساب لگانے سے حقیقی معاشی منافع کے علاوہ شرحِ مبادلہ میں اضافے کو بھی قابلِ ٹیکس آمدن میں شامل کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اصل منافع غیر ملکی کرنسی میں حاصل ہونے والا معاشی فائدہ ہوتا ہے۔

مجوزہ حل:

اگر تین سالہ مدت کے دوران باقاعدہ ظاہر کیا گیا کوئی غیر ملکی اثاثہ فروخت کیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والی غیر ملکی کرنسی کی رقم میں سے اصل لاگتِ خرید منہا کرکے حقیقی منافع کا تعین کیا جائے۔ صرف غیر ملکی کرنسی میں حاصل ہونے والے منافع کو فروخت کی تاریخ پر رائج شرحِ مبادلہ کے مطابق پاکستانی روپے میں تبدیل کرکے 10 فیصد کی حتمی شرح سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی خالص رقم دستاویزی بینکاری ذرائع کے ذریعے پاکستان منتقل کی جائے۔

مسئلہتجویز
(ج) سرمایہ کاری کے مواقع اور اصل غیر ملکی سرمائے کا تحفظپاکستان منتقل کی جانے والی خالص رقم کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کے ذریعے انہی اہل ذرائع میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے جو غیر رہائشی پاکستانیوں کے لیے دستیاب ہیں۔ ان میں حکومتی سیکیورٹیز، اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ حصص، ضابطہ کار کے تحت کام کرنے والے فنڈز، منظور شدہ رئیل اسٹیٹ اور دیگر مجاز مالیاتی ذرائع شامل ہوں۔ اہل پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی اجازت بھی دی جائے۔ مقامی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے ڈیویڈنڈ اور منافع کی ادائیگی پاکستانی روپے میں کی جا سکتی ہے، تاہم اصل غیر ملکی سرمائے کا محفوظ رہنا اور اسے بیرون ملک واپس منتقل کرنے کا حق برقرار رہنا چاہیے۔ اس سرمائے کو دستاویزی تقاضوں، رقوم کی غیر ضروری بیرون ملک منتقلی کے ذریعے دوبارہ پاکستان لانے کے عمل کی روک تھام اور دیگر ضابطہ جاتی حفاظتی شرائط سے مشروط کرتے ہوئے بیرون ملک بھیجنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

مسئلے کی وضاحت:

پاکستان میں مقیم کوئی فرد غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی رقم پاکستان منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتا ہے، کیونکہ یہاں سرمایہ کاری کے دستیاب مواقع روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ رکھنے والے غیر رہائشی پاکستانیوں کے مقابلے میں محدود ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر اصل غیر ملکی سرمائے کو حاصل قانونی تحفظ اور اسے دوبارہ بیرون ملک منتقل کرنے کا حق برقرار نہ رہے تو بھی رقوم پاکستان لانے میں ہچکچاہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

مجوزہ حل:

پاکستان منتقل کی جانے والی خالص رقم کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ان تمام اہل ذرائع میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے جو غیر رہائشی پاکستانیوں کے لیے دستیاب ہیں۔ ان میں حکومتی سیکیورٹیز، اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ حصص، ضابطہ کار کے تحت کام کرنے والے فنڈز، منظور شدہ رئیل اسٹیٹ اور دیگر مجاز مالیاتی ذرائع شامل ہوں۔

اس کے علاوہ اہل پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے۔ مقامی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے ڈیویڈنڈ اور منافع کی ادائیگی پاکستانی روپے میں کی جا سکتی ہے، تاہم پاکستان منتقل کیا گیا اصل غیر ملکی سرمایہ اپنا محفوظ اور بیرون ملک واپس منتقل کیے جانے کے قابل کردار برقرار رکھے۔ اس سرمائے کو ضروری دستاویزات، رقوم کی غیر ضروری بیرون ملک منتقلی کے ذریعے دوبارہ پاکستان لانے کی روک تھام اور دیگر ضابطہ جاتی حفاظتی شرائط کے تابع بیرون ملک منتقل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

آسان الفاظ میں، اگر کوئی پاکستانی شہری متعلقہ ٹیکس سال کے دوران کسی دوسرے ملک میں 182 دن سے زیادہ موجود نہ رہا ہو، یا کسی دوسرے ملک کا ٹیکس رہائشی نہ ہو، تو اسے بھی پاکستان کا ٹیکس رہائشی تصور کیا جائے گا۔

شہریت کی بنیاد پر وضع کیے گئے ان اضافی معیاروں اور پاکستان کے مقیم افراد کے غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) عائد کیے جانے کے باعث بہت سے صاحبِ ثروت افراد اور خاندانوں نے اپنی شہریت تبدیل کرنے یا اپنے غیر ملکی اثاثے قریبی اہلِ خانہ کے نام پر یا ان کے ذریعے منتقل کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

اگرچہ سی وی ٹی واپس لے لیا گیا ہے، تاہم شہریت کی بنیاد پر ٹیکس رہائش کے تعین کے اضافی معیار پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں بدلتی ہوئی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان معیاروں کو پاکستان کے زمینی حقائق کے پیش نظر بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے۔

سیکشن 51(1) ایسے پاکستانی شہری کو محدود ٹیکس رعایت فراہم کرتا ہے جو وطن واپسی کے سال سے فوراً پہلے کے مسلسل چار ٹیکس سال تک غیر رہائشی رہا ہو۔ ایسے شخص کو پاکستان کا ٹیکس رہائشی بننے والے سال اور اس کے اگلے ٹیکس سال کے دوران بیرون ملک سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔

آسان الفاظ میں، موجودہ قانون کے تحت وطن واپس آنے والے اہل پاکستانی شہریوں کو عموماً دو ٹیکس سال تک یہ رعایت حاصل ہوتی ہے۔ ٹیکس رہائش سے متعلق قانونی دفعات پر نظرثانی کے ساتھ سیکشن 51(1) میں توسیع کرکے پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) رکھنے والوں کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔

غیر ملکی اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں کی اقسام

1. اس مضمون میں بنیادی طور پر پاکستانیوں کی دو اقسام کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پہلی قسم میں وہ بیرون ملک مقیم پاکستانی شامل ہیں جو وطن واپس آکر پاکستان کے ٹیکس رہائشی بن جاتے ہیں، تاہم غیر رہائشی حیثیت کے دوران جمع کیے گئے اپنے غیر ملکی اثاثے بدستور رکھتے ہیں۔ دوسری قسم میں پاکستان کے مقیم وہ افراد شامل ہیں جو پہلے ہی غیر ملکی اثاثے رکھتے ہیں اور انہیں اپنے ٹیکس گوشواروں اور ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں باقاعدہ ظاہر کر چکے ہیں۔

2. پاکستانیوں کی ایک تیسری قسم بھی ہے، جس میں بیرون ملک مقیم وہ پاکستانی شامل ہیں جو غیر رہائشی ہی رہتے ہیں اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ چونکہ اس طبقے کو پہلے ہی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت مخصوص سرمایہ کاری اور رقوم بیرون ملک واپس منتقل کرنے کی سہولتیں حاصل ہیں، اس لیے اس مضمون میں اس کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا گیا۔

نتیجہ اور آئندہ کا لائحہ عمل

اگر مجوزہ فریم ورک قابلِ عمل قرار پاتا ہے تو اسے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے باہمی اشتراک سے جاری کردہ مربوط قواعد کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان قواعد میں اہلیت کے معیار، دستاویزی تقاضوں، غیر ملکی کرنسی میں حاصل ہونے والے منافع کے حساب، مجاز سرمایہ کاری کے ذرائع اور سرمائے کو بیرون ملک واپس منتقل کرنے کے حقوق کا احاطہ کیا جانا چاہیے۔

تاہم یہ رعایتیں کسی بھی صورت غیر واضح ذرائع سے حاصل کردہ رقوم، بے نامی اثاثوں، مقامی سرمائے کو بیرون ملک منتقل کرکے دوبارہ پاکستان لانے یا حقیقی تجارتی بنیاد سے محروم لین دین پر لاگو نہیں ہونی چاہئیں۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026ء