✕
مارکٹس

کراچی چیمبر نے انتخابی نامزدگیوں سے متعلق ایف پی سی سی آئی کا فیصلہ مسترد کردیا

  • یہ یکطرفہ فیصلہ انتخابی عمل میں انصاف، شفافیت اور غیر جانبداری سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے، طلعت محمود
شائع اپ ڈیٹ

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر طلعت محمود نے ایف پی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے 31 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ ایک فیصلے میں ایف پی سی سی آئی کے انتخابات2027-28 کے لیے کے سی سی آئی کی نامزدگیاں مسترد کرنے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے سب سے بڑے چیمبر کے خلاف بلاجواز اور غیر متناسب اقدام قرار دیا ہے.

انہوں کہا کہ یہ یکطرفہ فیصلہ انتخابی عمل میں انصاف، شفافیت اور غیر جانبداری سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے، طلعت محمود نے مذکورہ فیصلے پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے سی سی آئی کی نامزدگیاں بنیادی طور پر اس بنیاد پر مسترد کی گئیں کہ چیمبر نے ایف پی سی سی آئی سے ممبرشپ سرٹیفکیٹ بکس نہیں خریدیں حالانکہ چیمبر نے متعلقہ کاغذات نامزدگی اور درکار دستاویزات جمع کرا دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ قانونی جواز کی واضح نشاندہی اور دستاویزی شواہد کا جائزہ لیے بغیر اس نوعیت کا یکطرفہ اور غیرمنصفانہ فیصلہ کسی صورت درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتا ہےممبرشپ سرٹیفکیٹ بکس کے حصول پر تنازعے کو ایک بڑی، لائسنس یافتہ تجارتی تنظیم کی نامزدگیاں ازخود مسترد کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا جب تک اس حوالے سے قانون واضح نہ ہو اور یہ ثابت نہ کیا جائے کہ متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تحت ایسی کارروائی کی اجازت موجود ہے۔

انہوں نے کے سی سی آئی کے ممبرشپ سرٹیفکیٹس کے لیے لفظ جعلی (بوگس) کے استعمال کی بھی شدید مذمت کی جسے چیمبر توہین آمیز، غیر ضروری اور اپنی ادارہ جاتی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف سمجھتا ہے.

صدر کے سی سی آئی نے نشاندہی کی کہ فیصلے میں کاغذات نامزدگی، قراردادوں، ممبرشپ سرٹیفکیٹس، شناختی دستاویزات، ٹیکس ریکارڈ، انتخابی نتائج اور ممبرشپ رجسٹرز کے جمع کرائے جانے کا اعتراف کیا گیا ہے، ان دستاویزات کو تسلیم کرنے کے باوجود فیصلے میں سرٹیفکیٹ بکس کے معاملے کو بنیاد بنا کر کے سی سی آئی کی نامزدگیاں مسترد کر دی گئیں۔

انہوں نے طریقہ کار میں کسی بھی بے ضابطگی کے تاثر کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کے سی سی آئی اکتوبر2014 سےپاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ذریعے اپنی ممبرشپ سرٹیفکیٹ بکس چھپوا رہا ہے جو ایک طے شدہ طریقہ ہے اور اس کے لیے وہی پرنٹنگ ادارہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں سے ایف پی سی سی آئی اپنی بکس پرنٹ کرواتا ہے۔ یہ طریقہ کار برسوں سے بغیر کسی اعتراض کے جاری ہے اور سرٹیفکیٹس چیمبر کے لائسنسنگ فریم ورک اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ممبران کو جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ 2014 سے اب تک ایف پی سی سی آئی کے تقریباً ایک درجن انتخابات منعقد ہو چکے ہیں اور کے سی سی آئی کے ممبرشپ سرٹیفکیٹس کی قانونی حیثیت یا اصلیت پر کبھی ایک بار بھی اعتراض نہیں اٹھایا گیا جس سے کے سی سی آئی کی قانونی حیثیت پر اچانک اٹھایا گیا سوال مزید مشکوک ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بات پر بھی زور دیا کہ ایف پی سی سی آئی کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ آیا سرٹیفکیٹ بکس براہ راست اس سے خریدنے کی شرط کی کوئی واضح قانونی یا ضابطہ جاتی بنیاد موجود ہے؟کیا اس شرط کا اطلاق تمام الحاق شدہ تجارتی تنظیموں پر یکساں طور پر کیا گیا ہے؟ اور کیا مبینہ عدم تعمیل نامزدگیاں مسترد کرنے کا قانونی جواز فراہم کرتی ہے۔

علاوہ ازیں طلعت محمود نے ایف پی سی سی آئی کی جنرل باڈی کے لیے محمد ریحان حنیف کی نامزدگی کے الگ سے مسترد کیے جانے کے بارے میں جو ان کی مبینہ طور پر ایسوسی ایٹ کلاس کے بجائے کارپوریٹ کلاس میں درجہ بندی کی بنیاد پر کی گئی کہا کہ اس معاملے کو ڈی جی ٹی او کی اس سلسلے میں دی گئی وضاحتوں کے علاوہ نامزد امیدوار کی اصل کاروباری حیثیت، ممبرشپ ریکارڈ اور قابلِ اطلاق اہلیت کے معیار کی بنیاد پر الگ سے جائزہ لینا چاہیے۔