✕
کاروبار اور معیشت

پائنیر سیمنٹ نے پنجاب میں 28 میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ فعال کر دیا

  • منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت بڑھا کر 31 میگاواٹ کردی گئی
شائع اپ ڈیٹ

پائنیر سیمنٹ لمیٹڈ نے پنجاب میں اپنی پیداواری تنصیب پر 28.265 میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ کامیابی سے مکمل کرکے فعال کردیا ہے جس کے بعد منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت بڑھا کر 31 میگاواٹ کردی گئی ہے۔

اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ سیمنٹ ساز کمپنی نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائی گئی ایک فائلنگ میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔

کمپنی کے نوٹس کے مطابق سولر پاور پلانٹ پنجاب کے ضلع خوشاب کے علاقے چنکی میں واقع اس کی پیداواری تنصیب پر مکمل کیا گیا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ منصوبے کی ابتدائی پیداواری صلاحیت 28.265 میگاواٹ تھی جسے بعد ازاں بڑھا کر 31 میگاواٹ کردیا گیا ہے جبکہ اضافی صلاحیت آئندہ ایک ماہ کے اندر فعال ہونے کی توقع ہے۔

کمپنی کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل اور فعالیت کے بعد ماحول دوست توانائی کے ذرائع سے اس کی سالانہ بجلی کی ضروریات کا تقریباً 45 فیصد پورا ہونے کی توقع ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ سولر پاور پلانٹ سے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، آپریشنل کارکردگی بہتر ہوگی اور منافع میں اضافے کے ساتھ پائیداری کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں توانائی کے زیادہ استعمال والی صنعتیں بجلی کے اخراجات پر قابو پانے اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تیزی سے متبادل توانائی کے ذرائع کی جانب منتقل ہو رہی ہیں۔

ملک میں سولر توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 2021 میں 321 میگاواٹ سے بڑھ کر دسمبر 2024 تک 4,124 میگاواٹ ہو گئی تھی۔ پاکستان چین سے سولر پینلز درآمد کرنے والی ایشیا کی بڑی منڈیوں میں بھی شامل ہو چکا ہے۔ 2024 کی پہلی ششماہی میں ملک نے چین سے 13 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے جبکہ 2023 میں یہ مقدار تقریباً 5 گیگاواٹ رہی تھی۔

2025 تک پاکستان کی مجموعی بجلی کی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ بڑھ کر تقریباً 20 فیصد ہو گیا تھا جو دہائی کے آغاز میں محض 3 فیصد کے لگ بھگ تھا۔ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ کے مطابق ملک بھر میں اب تک 33 گیگاواٹ کے سولر فوٹو وولٹک پینلز نصب کیے جاچکے ہیں۔

تاہم شمسی توانائی کی جانب اس تیز رفتار منتقلی نے جہاں کمپنیوں کے لیے بجلی کے اخراجات کم کرنے کے مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں پاکستان کے قومی گرڈ اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی کے باعث تقسیم کار کمپنیوں کے مالی مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ روایتی پاور پلانٹس کی معاشی افادیت اور پائیداری بھی متاثر ہو رہی ہے۔