ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیوروں کیلئے دو وقت کی روٹی مشکل ہوگئی
- راشد علی کے لیے اب خوش قسمتی سے بھی روزانہ 3 ڈالر کمانا مشکل ہو گیا ہے
راشد علی گزشتہ 13 سال سے پاکستان کے شہر لاہور میں تین پہیوں والا موٹر رکشہ چلا رہے ہیں۔
ان کا دن صبح 6 بجے شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات رات 12 بجے تک ختم نہیں ہوتا، لیکن طویل عرصے تک وہ روزانہ 6.50 ڈالر کمانے کے قابل تھے، جو ان کے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تھے۔
تاہم اب مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث ان کی آمدنی اس رقم کے نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔
33 سالہ راشد علی پاکستان کے ان ہزاروں ڈرائیوروں میں شامل ہیں جو اپنی گاڑیاں ایل پی جی پر چلاتے ہیں۔ یہ گیس سلنڈروں میں فروخت ہوتی ہے اور زیادہ تر کھانا پکانے اور گرمائش کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ عوامی رکشہ یونین کے چیئرمین مجید غوری اسے غریبوں کا ایندھن قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یونین کے 43,000 آٹو رکشوں میں سے تقریباً 70 فیصد اور لگ بھگ 8,000 چنگ چی رکشے بھی ایل پی جی پر چلتے ہیں۔ چنگ چی موٹر سائیکل کی بنیاد پر بنائے گئے تین پہیوں والے رکشے ہوتے ہیں، جو مخصوص راستوں پر متعدد مسافروں کو لے کر چلتے ہیں۔
تاجروں کے مطابق 17 اکتوبر سے ایل پی جی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جب ایران کے ساتھ سرحد پر قائم دو گزرگاہیں بند ہونے کے باعث درآمدات رک گئیں۔ فروری میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد توانائی کے بحران کا یہ تازہ ترین جھٹکا ہے۔
راشد علی کے لیے اب خوش قسمتی سے بھی روزانہ 3 ڈالر کمانا مشکل ہو گیا ہے، جس کے باعث ان کے خاندان نے کھانے پینے کے اخراجات کم کر دیے ہیں اور اب وہ دن میں صرف دو مرتبہ کھانا کھاتے ہیں۔
راشد علی نے کہا کہ پہلے جب ایل پی جی سستی تھی تو ہم مناسب آمدنی کما لیتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اب 700 یا 800 روپے میں گزارا کرنا ممکن ہی نہیں رہا، ہے نا؟
پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق سرحدی گزرگاہیں بند ہونے سے پہلے پاکستان روزانہ تقریباً 7,000 میٹرک ٹن ایل پی جی ایران سے درآمد کرتا تھا۔
تاجروں نے بتایا کہ سرحدی گزرگاہیں بند ہونے کے چند ہی دنوں میں 12 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت 56 فیصد بڑھ کر 7,000 پاکستانی روپے ہوگئی، جبکہ کھلی مارکیٹ میں فی کلوگرام قیمت تقریباً 583 روپے تک پہنچ گئی۔
ایران سے متصل جنوبی صوبے بلوچستان کی حکومت نے اس فیصلے کی وجہ سیکیورٹی خدشات اور اسمگلنگ کو قرار دیا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ سرحدی گزرگاہیں تکنیکی مسائل کے باعث بند کی گئیں۔
بعد ازاں ایران کے سفیر نے کہا کہ ایران نے ایل پی جی کی برآمدات سمیت کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کی، بلکہ پاکستان کی جانب سے درآمدی دستاویزات میں تبدیلیاں اس صورت حال کی وجہ ہیں۔
مسافر منہ موڑنے لگے
راشد علی رکشہ کرائے پر لینے کے لیے روزانہ 600 روپے ادا کرتے ہیں اور دن میں چار سے پانچ مرتبہ گیس بھرواتے ہیں، جس پر ہر بار 300 سے 400 روپے خرچ ہوتے ہیں۔
روزانہ کے اخراجات کے علاوہ راشد علی اپنے گھر کا 11,000 روپے ماہانہ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں اور ان کے دو کم عمر بچوں کی کفالت بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی مشکلات میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ مسافر زیادہ کرایہ دینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
راشد علی نے کہا کہ جس سفر کا کرایہ 200 یا 250 روپے ہونا چاہیے، اس کے لیے مسافر صرف 80، 100 یا 150 روپے دینے کی پیشکش کرتے ہیں۔
ایک مسافر محمد رمضان نے بتایا کہ جب ایک ڈرائیور نے شہر کے اندر سفر کے لیے 500 روپے کرایہ مانگا تو انہوں نے اس کی نصف رقم دینے کی پیشکش کی۔
ان کے مطابق جب ڈرائیور نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا تو وہ وہاں سے چلے گئے۔
پاکستان میں اکتوبر کے دوران مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ہفتے توانائی اور گندم کی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے شرح سود بڑھا کر 12 فیصد کر دی۔ 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمت ریکارڈ 458 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی اور اب بھی جنگ سے پہلے کی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔
دوپہر کے وقت گھر واپس پہنچنے پر راشد علی نے بتایا کہ ان کے دونوں بیٹوں کو اب بھی دوپہر کا کھانا درکار تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ دوبارہ رکشہ لے کر نکلیں گے اور رات گئے تک کام کریں گے، اس امید پر کہ اتنی رقم کما سکیں کہ رات کو بچوں کے کھانے کے لیے کچھ لے کر گھر واپس آئیں۔